Saturday, January 22, 2022  | 18 Jamadilakhir, 1443

بارش نےتو کمال کر دیا

SAMAA | - Posted: Aug 25, 2017 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Aug 25, 2017 | Last Updated: 4 years ago

کافی عرصے بعد اس کا ساجد صاحب سے سامنا ہو ا تو یاد آیا کہ دو ماہ پہلےان کا کار ایکسیڈنٹ ہوا تھا ، بار بار ارادہ کرنے کے باوجود  حال احوال پتا کرنے نہیں جا سکا تھا،حالانکہ ایک ہی اپارٹمنٹ میں رہائش تھی لیکن چونکہ باہر کم ہی نکلنا ہوتا تھا اور آفس سے گھر آتے ہی لیپ ٹاپ یا موبائل سے جان ہی نہیں چھوٹتی تھی کہ با ضابطہ طور پہ کسی کی خبر گیری کی جائے یا حال احوال جانا جائے۔ اب کی بار جو اچانک ملاقات ہوئی تو کافی تفصیلی ہوئی اور باتوں باتوں میں پتا چلا کہ انھوں نے ایک نئے کاروبار کا آغاز کیا ہے اور اسے بھی شراکت دار بننے کی پیشکش کی جو اس نے بخوشی قبول کی۔ یہ ملاقات دو، ڈھائی گھنٹے طویل رہی اور اتنی طویل ملاقات کی وجہ یہ تھی کہ موبائل فون ہاتھ میں کیا، جیب میں بھی نہیں تھا کہ اس ڈر سے کہیں بارش میں بھیگتے ہوئےجان سے  پیارے موبائل فون کا بھی غسلِ آخری نا ہو جائے تو گھر پہ ہی اس زہرِ قاتل کو آرام کروا دیا تھا۔بارش میں اپارٹمنٹ سے نیچے اتر کے بچوں کے ساتھ خوب بھیگتے رہے اور کافی پرانے جاننے والوں سے بھی خوب ملاقات رہی۔

کراچی والوں کے لئے بارش کا برسنا ایسا ہی ہے جیسے ماہی بے آب کو مدت بعد وسیع و عریض سمندر غوطے کھانے کے لئے ملا ہو اور اس کا بس نا چلے وہ سارے سمندر کے پانی سے ایک ہی وقت میں اپنی تشنگی بجھا لے۔ یہاں بادل گرجے اوروہاں بارانِ رحمت کے ترسے لوگ   ساری مصروفیات ملتوی کر کے کھلے آسمان کے نیچے آگئے اور ایک بوند بھی مِس نا ہو جائے اس لئے کسی بھی چھپڑ کے نیچے جانے سے گریز کرنے لگے۔

پچھلے کچھ دنوں سے کراچی کے موسم پہ خاص کرم ہوا، پھر بیچ میں تین چار دن سورج نے اپنے جوہر دکھائے لیکن پھر دوبارہ موسم نے پلٹٓا کھایا اور خوب برسات ہوئی۔ بارش بھی اللہ پاک کی کیا نعمت ہے جس کے برستے ہی قدرتی طور پہ ہر ایک کے چہرے خوشی سے کھل کھلا جاتے ہیں اور ہر ایک یہ خوشی اجتماعی طور  پہ منانا چاہتا ہے۔ورنہ تو موبائل فون کے اس خوفناک دور میں اب اصل ملاقاتوں کی اہمیت ہی نہیں رہی۔ اگر دوست یا رشتے دار آپس میں ملتے بھی ہیں تو اپنے اپنے موبائل فونز میں نا آشنا لوگوں کے ساتھ ہی مصروف رہتے ہیں ۔ حتی کہ اپنی ہی شادی میں دلہا دلہن کو شادی کی رنگینیوں سے زیادہ سوشل میڈیا پہ اسٹیٹس اپلوڈ کرنے کی فکر رہتی ہے۔عرصے بعد گھر کا کوئی فرد پردیس سے آئے بھی  تو موبائل فون تب بھی بازی لےجاتا ہے ۔تمام افراد موبائل فونز میں مصروف رہتے ہیں اور آںے والے کا جانے کا ٹائم بھی آجاتا ہے۔لیکن بارش نے ہی یہ کمال دکھا دیا کہ نا صرف لوگوں نے بارش میں مزے کئے بلکہ دوست احباب ، گھر والے ایک دوسرے کے حال احوال سے بھی واقف ہوئے۔ بچپن کی یادیں بھی تازہ ہو گئیں اور جب دھرائی جانے لگیں تو اور مزہ آگیا جب بارش میں زور زور سے چیختے ہوئےدعاکی صورت میں اللہ پاک سے ضد کرتے کہ پانی دے یا نانی دے حالانکہ یہ اور بات تھی کہ نانا جی برسوں پہلے غریقِ رحمت ہو چکے تھے لہذاٰ نئی نانی جان کا نزول ہو جانا نا ممکن سی بات تھی۔ پھر ابو کا پکوڑوں کی فرمائش کرنا اور امی کا جھٹ پٹ گرم گرم پکوڑے پیش کر کے بارش کا مزہ دوبالا کر دینا۔ بارش ختم ہونے کے بعد جلدی سے سوکھے کپڑے پہننا اور رات کو تھک کے گہری نیند سو جانا۔ اگر صبح اسکول کے وقت بارش کے آثار نظر آتے تو اور خوشی خوشی اسکول جانا کہ اس بہانے اسکول کے دوستوں کے ساتھ خوب مزہ کرنے کو ملےگا۔ بچپن کی بارش کی بھی خوب ہی یادیں ہیں جو زندگی میں آنے والی ہر برسات میں تازہ ہو جاتی ہیں۔

بارانِ رحمت اللہ کی بہت  بڑی  نعمت ہے لیکن پھر بھی کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کے اعصاب پہ موبائل فون اتنی بری طرح قابض ہے کہ وہ بجائے اصل بارش میں بھیگنے کے فیس بک  ،واٹس اپ اور ٹیوٹر پہ ہی نہا لیتے ہیں اور لوگوں کو بتانے میں بلکل دیر نہیں کرتے کہ وہ کتنا انجوائے کر رہے ہیں اس برسات میں موبائل فونز بھیگ کر خراب ہو جانے کا ڈر نے لوگوں کو آپس میں ملا دیا۔ اب صرف ڈر اس بات کا ہے کہ جس دن واٹر پروف موبائل فونز عام ہو گئے یہ رہی سہی بارش کی خوشی بھی اس بد بخت کی ہی نظر ہو جائے گی۔ سماء

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube