کس سےگلہ کریں

By: samirazafar
August 12, 2017

POLICE SHOOTING KHI FILE 22-07

اکیس جولائی کو رات تقریباً آٹھ بجے چھوٹی بہن کا فون آیا اور نہایت افسوس کے ساتھ بتانے لگی کہ ہمارے پرانے محلہ دار کا بیٹا جو کہ کچھ سال قبل ہی پولیس میں بھرتی ہوا تھا اور صرف اٹھائیس سال کا تھا، اس کو بڑی بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ یہ سنتے ہی مجھے شدید صدمہ پہنچا اور اس کی شکل آنکھوں کے سامنے گھومنے لگی۔ وہ انتہائی نفیس لڑکا تھا، خاندان بھر کا لاڈلا تھا اور دو انتہائی معصوم بچوں کا باپ بھی تھا۔اچھی خاصی پرائیوٹ کمپنی میں نوکری کرتا تھا بس وطن اور عوام کی خدمت کی خاطر پولیس میں  بھرتی ہو گیا اور ایک مجرمانہ نقل و حمل کی نشاندہی پر اس کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔ ماں، بہن، بیوی پورے خاندان پرگویاقیامت ٹوٹ پڑی ہو۔

ٹھیک دو دن بعد لاہور میں پولیس پر شدید حملہ ہوا اور پولیس اہلکار شہید ہوئے۔ ایک دن بعد ہی کراچی میں پھر ایک پولیس موبائل دہشت گردوں کی زد میں آ گئی اور حالات جوں کے توں رہے جب کہ اس سے قبل کوئٹہ میں پولیس پر متعدد بار حملے کئے جا چکے ہیں ۔سوال یہ نہیں کہ یہ دہشت گرد کون ہیں ، ان کا مقصد کیا ہے؟  بلکہ پریشان کن بات یہ ہے کہ جو ادارہ خود عوام کی حفاظت پر مامور ہے وہ ہی ٹارگٹ پرآگیا ہے ، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ ان پولیس موبائلز کو یا وین کو دس دس  دن ریکی کر کے پھر نشانے پرلایا جاتا ہے، پھر بھی ان دہشت گردوں کی پکڑ کیوں نہیں ہوتی؟ کسی بھی حادثے  کے بعد معمول کے مطابق زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ حکامِ اعلیٰ کی جانب سے ایک تعزیتی نوٹ چلایا جاتا ہے اور ایک معاوضے کا اعلان کر دیا جاتا ہے،ساتھ ہی دہشت گردوں کو پکڑنے کی یقین دہانی کروائی جاتی ہے ۔ بے حسی کا عالم یہاں تک ہوتا ہے کہ جس معاوضے کا اعلان کیا جاتا ہے وہ تک کہیں فائلوں میں دب جاتا ہے۔

POLICE MOBILE  FIRING STILL   - 21-07

گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان دہشت گردی  کی لپیٹ میں ہے اور ہر آنے والی نئی حکومت اس دہشت گردی کو روکنے میں ناکام رہی۔ حالات سنبھلتے بھی ہیں مگر پھر اچانک کوئی نا کوئی بری اور بڑی خبر سننے کو ملتی ہے جس میں نا حق کئی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں جس کی بد ترین مثال سہون شریف کی درگاہ پرخودکش حملہ یا آرمی پبلک اسکول کا واقعہ ہے جسے لوگ سالوں نہیں بھلا پائیں گے۔ بے شک ایسے حادثات میں کئی معصوم جانوں کے ساتھ ملک و قوم کے جانثار سپاہی بھی شہید ہو جاتے ہیں۔

ہر ادارے میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں ،ایسے ہی جس طرح ایک کلاس میں لائق اور نالائق طالبعلم ہوتے ہیں ، پولیس کا شعبہ بھی کچھ ایسے ہی نا اہل افسران کی وجہ سے بدنام ہے جس کی لپیٹ میں سارے پولیس اہلکار آجاتے ہیں۔ ان پولیس اہلکاروں پرہونے والے حملوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ دہشت گرد ان پولیس اہلکاروں سےزیادہ طاقت اوروسائل رکھتے ہیں۔ تجزیہ کار اور تبصرہ نگاروں  کے مطابق پولیس کے شعبہ کو جدید وسائل کی فراہمی کی اشد ضرورت ہے جن میں جدید اسلحہ سے لے کے اچھی کنڈیشن کی گاڑیاں تک شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ٹریننگ اور فٹنس ٹیسٹ کی باقاعدہ جانچ پڑتال ہونی چاہیے۔پولیس کے شعبہ کو بھرپور وسائل کی فراہمی کے بعد ہی اس پیشے سے منسلک افراد کی ملک و قوم کی خدمت کرنے میں دلچسپی بڑھے گی جب کہ محدود وسائل کے ساتھ ان خطرناک دہشت گردوں سے نمٹنا آسان نہیں ہوتا۔

POLICE TRANSFERS KHI  PKG KAZIM 17-07

اس کے علاوہ عوام میں شعور بیدار کیا جائے کہ وہ پولیس کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔جہاں کہیں بھی جرائم نظر آئیں ان کی نشاندہی کریں تاکہ وقت پر کارروائی ہوسکے۔عوام کے تعاون سے ہی کسی ملک میں بھرپور امن و امان قائم ہو سکتا ہے۔ حکمرانِ اعلیٰ اور متعلقہ ادارے خدا کے واسطے ایسی حکمتِ عملی بنائیں جس سے قوم کے محافظ خود بھی محفوظ رہیں۔ان کے گھر بھی سلامت رہیں ،کسی پولیس والے کی ماں، بہن، بیوی یا بیٹی کو ساری زندگی ایسے نا تڑپنا پڑے۔

Email This Post
 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.