جلسے جلوس اور ہمارا قیمتی وقت

August 12, 2017

DG9SvcbW0AUtGpU

تحریر :توقیر چغتائی

دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے پاس وقت تو موجود ہے ، مگر روزگار مو جود نہیں اور کچھ ایسے ہیں جن کے پاس سب کچھ موجود ہے مگر وقت جیسی قیمتی شے کی کمی رہتی ہے۔ ہمارے ملک میں جن کے پاس سب کچھ موجود ہے ان کے پاس وقت جیسی قیمتی چیز خریدنے کی استطاعت بھی موجود ہے،مگر جن کے پاس کچھ نہیں ان کے پاس بھی وقت کی دولت وافر مقدار میں موجود ہے جسے وہ جلسوں اور جلوسوں میں انتہائی دھڑلے سے لٹا رہے ہیں ۔

سابق وزیر اعظم، سابق کرکٹر اور ایک مذہبی رہ نما کے جلسوں میں شامل ہونے رات بھر جاگنے، سروں سے پرچم باندھنے اور دور دراز سے پیدل سفر کر کے آنے والے ہزاروں افراد کو دیکھ کرہمیں تویہی محسوس ہو رہا ہے۔ ہم جیسے قلم کے مزدوروں کا تو یہ حال ہے کہ گھر کے کام پورے ہوں تو دفتر کے ادھورے رہ جاتے ہیں اور دفتر سے سرخرو نکلیں تو گھر کے کام پورے نہ ہونے کا گلہ رہتا ہے۔اردو کے ایک معروف شاعر کے بقول

مجھے دفتر سے اور گھر سے تو چھٹی ہی نہ ملتی تھی

گنہ پھر کب کیے آخر کراماً کاتبیں میں نے

2014-10-19-PAT-Jalsa-e-Aam-Minar-e-Pakistan-Lahore_01

جب ہم سڑکوں پر ایسے لوگوں کا جم غفیر دیکھتے ہیں جو اپنے لیڈروں کے ایک اشارے پر جان قربان کرنے سے دریغ نہ کرنے پر تلے نظر آتے ہیں تو وقت کی کمی کا گلہ کرنے والوں کو کھری کھری سنانے کو جی کرتا ہے۔ کچھ لوگوں کا یہ دعویٰ بھی ہمیں عجیب لگتا ہے کہ ملک میں بھوک ،غربت،بیماری اور بے روزگاری جیسی موذی امراض موجود ہیں۔ اگر ملک کے باسی بھوکے ہوتے تو سارا دن جلسے جلوسوں میں مارے مارے کیوں پھرتے، بے روزگار ہوتے تو کہیں کام کاج تلاش کرتے اور خدا نخواستہ بیمار ہوتے تو گھر سے ہی نہ نکلتے ۔

jalsa2

بچپن سے آج تک ہم یہی بات سنتے چلے آ رہے ہیں کہ وقت سے قیمتی کوئی بھی چیز نہیں، لیکن پچھلے کچھ دنوں سے وقت کی جو بے عزتی ہمارے سامنے آئی ہے اس سے یہ بات بھی ثابت ہو گئی ہے کہ دنیا کی دوسری قوموں کے لیے تو وقت کی کوئی نہ کوئی اہمیت و افادیت ضرور ہو گی، لیکن ہمارے لیے وقت کی کوئی قیمت ہے اور نہ اہمیت۔ ہمارے لیے تو سب سے قیمتی شخص وہ ہے جو آج ہمارے سامنے اپنے منہ سے جھاگ اڑا اڑا کر اپنے مخالفین کو برا بھلا کہہ رہا ہے مگر ہم یہ سوچے بغیر ہی اُس کے جلسے میں نعرے لگانے کے لیے چلے جاتے ہیں کہ یہی شخص جب ہمارا رہ نما بنے گاتواس کے پاس سب کچھ موجودہونے کے باوجودہم سے ملنے کے لیے ایک لمحہ بھی نہیں ہو گا۔ سیکیورٹی کے نام پر اس کی گاڑی کو گھیرے ہوئے جب درجن بھر گاڑیاں ہماری بستی سے دھول اڑاتے ہوئے گزریں گی تو سو سو فٹ کے فاصلے پر کھڑے باوردی خدمت گزار ہمیں وہاں سے دور بھگانے کے لیے ہاتھوں میں ڈنڈے اور بغل میں بندوقیں دبائے کھڑے ہوں گے۔

کاش ہمیں اس وقت یہ احساس ہو جائے کہ ہمارا وقت کتنا قیمتی ہے ،مگر افسوس ہم تب بھی یہ بات نہیں سمجھ پائیں گے اور وقت دبے پاؤں ہمارے قریب سے ایسے گزر جائے گا جیسے ہمارے ووٹوں اور نعروں سے جیتنے والے رہ نما کی گاڑی روزانہ ہماری بستی سے دھول اڑاتے ہوئے گزرجاتی ہے ۔

Email This Post
 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.