قائداعظم کے نام خط

By: Muhammad Tahir Nusrat
August 12, 2017

Quaid-e-Azam

پیارے قائداعظم!

امید ہے آپ جنت بریں میں شاداں و سرشار ہونگےاور  رحمت خداوندی سے خوب لطف اندوز ہورہے  ہونگے۔ پیارے قائد !! گیارہ ستمبر 1948 کو آپ نے ہمارے لئے جنت کا ٹکڑا چھوڑ کر خود بڑی جنت میں بودو باش اختیار کی مگر آپ کے لاڈلے پاکستان پرگزشتہ 70 برس میں کیا کیا نہ بیتا؟ آپ نے اس قوم کو ایک راستہ دیا ایک منزل دی مگر کچھ موقع پرستوں نے قوم کی سمت ہی تبدیل کردی۔ آٹھ برس تک ملک بغیر آئین کے چلتا رہا۔ 1956 میں پہلا آئین بنا تو ابھی پوری طرح نافذ ہی نہیں ہوا تھا کہ اسے منسوخ کردیا گیا۔

Letter-e1388987724734

مادر ملت فاطمہ جناح نے تو آپ کو جمہوریت پسندوں اور موقع پرستوں کی کہانی سنائی ہوگی۔ کس طرح ضمیر کے سوداگروں نے فاطمہ بی بی کو شکست دی۔ کس طرح مفاد پرست ٹولہ اقتدار کے سنگھاسن پر قابض ہوگیا ۔ 1962 میں ایوب خان نے اپنی مرضی کا آئین بنا کر من پسند کھچڑی صدارتی چولہے پر چڑھائی۔

53eeb644f1fa7

ننھا منا پاکستان ابھی چلنے پھرنے کے قابل بھی نہیں ہوا تھا کہ اسے بڑی طاقتوں کی جھولی میں پھینک دیا گیا۔ کبھی سیٹو سینٹو کے نام پر استعمال ہوا تو کبھی سرد جنگ کا آلہ کار بنا۔ گویا یہ کوئی ملک نہیں ایک کھلونا تھا جس سے گاؤں کے نمبردار کا چہیتا بیٹا دل بہلا رہا ہو۔

58bff0f27880b

مشرقی سرحد پر تاک میں بیٹھا خونی بھیڑیا ، پہلے بھی پاکستان کو ڈکارنے کی کوشش میں تھا اب بھی ہے۔۔ 1965 میں موقع ہاتھ نہیں آیا تو 1971 میں اپنوں کی بے حسی کے باعث بھارت کی چال چل گئی۔۔ درندوں نے آپ کے پاکستان کے سینے پر ایسا خونی وار کیا کہ اس کا ایک بازو کاٹ ڈالا۔ اسے اپنوں کی سازش سمجھیں یا غیروں کا ہاتھ ، مگر سقوط ڈھاکہ کے زخم آج تک مندمل نہیں ہوئے۔

398970-india-pakistanflags

troops-1965-759

پیارے قائد۔۔!

کچھ لوگوں نے آپ کے پاکستان کو کسی نیم حکیم کا تجربہ گاہ بنا رکھا ہے۔ جس میں ایک دوا خراب بن گئی تو جب جی چاہا وہی آزمالی اور جب چاہا نئی بنالی۔ وہ بھی شافی ہے یا نہیں مریض پر آزما کردیکھیں گے۔ جی ہاں!  کبھی صدارتی نظام تو کبھی پارلیمانی نظام، قوم نہ ادھر کی رہی نہ ادھر کی رہی۔۔ 1973 میں جو آئین بنایا گیا وہ خالص پارلیمانی تھا جس میں اختیارات مکمل طور پر پارلیمان کو تفویض کئے گئے ہیں۔

The-Founder-arrives-to-a-reception-at-Karachi

لوگ پرامید تھے کہ معاملات سنبھل گئے ہیں ملک ٹریک پر آگیا ہے مگر شاید یہ ان کی کوتاہ اندیشی تھی یا خوش فہمی کیونکہ خطرات کے سائے ابھی ٹلے نہیں تھے۔۔ 1977 میں جو شب خون مارا گیا وہ سب سے خطرناک تھا۔۔ جس کے مہلک اثرات آج بھی قائم ہیں۔

549ec71fbb6f4

11167377785_f7bfc327b2_b

پیارے قائد ۔۔۔! فاطمہ جناح بی بی نے کولڈ وار کا قصہ بھی تو سنایا ہوگا۔۔ ہاں ، سویت یونین اور امریکہ دونوں بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف صف آراء تھیں مگر مقابلہ بازی اپنے دیسوں سے کہیں دور کرنا چاہتی تھیں۔ 1979 میں سویت افواج نے افغانستان پر چڑھائی کی تو اس کے حریف امریکہ کو موقع میسر آگیا کہ اپنے دشمن کو کسی اور کی سرزمین پر چاروں شانے چت کردے۔ جس کیلئے پاکستان کو وقتی طور پر ’’وڈے چوہدری صاحب‘‘ نے یارمنتخب کیا اور پاکستان کے کرتاؤں دھرتاؤں نے غیروں کی خواہش کی تکمیل کیلئے ملک کو دہکتے شعلوں میں دھکیل دیا۔

is-pakistan-actually-growing-4c617fe2638f46127c8900c6348d2ac4

1988 سے 1999 تک جو جمہوری حکومتیں آئیں ان میں بھی پاکستان کا تو کچھ بھلا نہ ہوا البتہ جن لوگوں کےہاتھوں میں اقتدار رہا وہ خوب خوش و خرم رہے۔۔ عوام کی حالت پتلی ہوتی رہی اور ایک ’’خاص ٹولہ‘‘ پھلتا پھولتا رہا۔ سیاست کے نام پر خباثت ، جمہوریت کے نام پر کھلواڑ ہوتا رہا۔

parachinar

انیس سو ننانوے میں مشرفی گروپ قابض ہوا تو جمہوریت کی پھٹیچر گاڑی پھرسڑک سے لڑھک گئی۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے باعث پرویز مشرف نے بڑی طاقتوں کی ’’تھپکی‘‘ سمیٹی۔ پیارے قائد۔۔!! آپ کا پاکستان جلتا رہا۔ مگر کچھ لوگوں کا کاروبار خوب چلتا رہا۔ امن کی تلاش میں ہزاروں سپاہی شہید اور ہزاروں بے گناہ شہری بے موت مارے گئے۔ دیس کے محافظ تو اب بھی وطن کی خاطر سینہ تانے تیار کھڑے ہیں۔ لیکن قوم فروش آج بھی سرگرم ہیں۔

rtx2kj0o_1

پیارے قائد۔۔۔!! 2007 سے جمہوریت کی گاڑی ٹریک پر چل رہی ہے مگر ہچکولے کھارہی ہے۔۔ عام لوگوں کی حالت اب بھی ویسی ہی ہے۔۔ کچھ نہیں بدلا۔۔ مفاد پرست اب بھی اپنے مفاد کیلئے لائن میں لگے ہوئے ہیں ۔ ملک پر انتہاپسندی کا غلبہ ہے۔ قوم قوم نہیں رہی ، تقسیم ہوچکی ہے۔ مسلکوں کو بنیاد بنا کر نفرتوں کا کاروبار خوب چمک رہا ہے۔ کوئی آپ کو لبرل تصور کررہاہے تو کسی کے خیال میں آپ مذہبی پیشوا ہیں۔۔ آپ کیسا پاکستان بنانا چاہتے تھے یہ تو آپ ہی انہیں بتا سکتےہیں۔۔

www.usnews.com

امید ہے ان تمام حقیقتوں کو جان کر آپ دلبرداشتہ نہیں ہونگے کیونکہ رات جتنی تاریک ہو طلوع سحر کی امید اتنی ہی بڑھ جاتی ہے۔ آپ کا پاکستان سارے ناسوروں کو جھیل کر، سارے زخم سہہ کر آگے بڑھ رہا ہے۔۔۔۔ پیارے قائد! آپ کو آپ کے اس لاڈلے کا 70 ویں سالگرہ بہت بہت مبارک۔

www.usne

فقط ۔۔ آپکا لاڈلا پاکستان

Email This Post
 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
 

ضرور دیکھئے