سیاحتی موسم

July 17, 2017

Phandar_valley,_Gilgit-baltistan

۔۔۔۔۔**  تحریر : عابد علی  **۔۔۔۔۔

لیک ویو پوائنٹ، وفاقی دارالحکومت کا ایک خوبصورت سیاحتی مقام ہے، جہاں روزانہ سینکڑوں لوگ تفریح کی غرض سے آتے ہیں جبکہ عیدین کے موقع پر یہ تعداد ہزاروں تک پہنچ جاتی ہے، یہاں کی خاص دلکشی راول لیک ہے جس کا پانی سیاحوں کو یہاں کھینچ لاتا ہے، اسی وجہ سے اس مقام پر پارک بھی تعمیر کئے گئے۔

CYCLIST GILGIT PKG 07-07

پچھلے کچھ ماہ سے اس مقام کی خوبصورتی ختم ہو کر رہ گئی ہے، ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پانی کم ہوا تو راول لیک بھی سوکھ گئی، ابھی مون سون بارشوں کا آغاز ہوا لیکن پھر بھی اس جھیل کی دلکشی نہ لوٹی کچھ ایسا ہی چکوال میں موجود مشہور سیاحتی مقام کٹاس راج کے ساتھ بھی ہوا جہاں دوسری مرتبہ ہندوؤں کی مقدس جھیل، امرت کنڈ خشک ہوگئی، جس کے باعث یہ جگہ بھی ویران لگنے لگی، عالمی ماہرین کے مطابق پانی کے خشک ہونے کی وجہ جہاں آلودگی ہے وہیں عالمی درجہ حرارت میں اضافہ بھی ہے جن کے پیچھے بہرحال انسان ہی کا ہاتھ ہے۔

Attabad Lake......Upper Hunza Gojal, GB Pakistan

گلگت بلتستان کی جانب رائی کوٹ پل سے آگے دنیا کے 3 بڑے پہاڑی سلسلے قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش آپس میں ملتے ہیں، جسے تھری جنکشن پوائنٹ کہا جاتا ہے اور اصل میں پاکستانی سیاحت کا آغاز اس مقام سے ہوتا ہے، یہ پہاڑی سلسلے جہاں جہاں سے گزرتے ہیں سیاحتی مقام بناتے جاتے ہیں، چترال، سوات، مینگورہ، ہنزہ، پاسو، خنجراب، کاغان، ناران، کمروٹ، بندیگول، بگروٹ، شغر، تھیلے، نلتر، استور، روپل، راما، رتی گلی، کیل، شاردہ، شوگران اور بہت ساری ایسے وادیاں جنکی خوبصورتی کو ابھی تک انسان نہیں دیکھ سکا، ان کی ابتداء یہیں سے ہے، ان وادیوں میں سینکڑوں قدرتی جھیلیں ہیں جن میں سے صرف چند ہی ڈھونڈی جا سکیں، وہ سب انہی پہاڑی سلاسل میں آتی ہیں۔

727986-induswatertreatyx-1486108503-314-640x480

ایک وقت تھا کہ لوگ ان خوبصورت مقامات کی سیر کو جانے کیلئے ترستے تھے کیونکہ یہاں پہنچنا بڑا مشکل اور خطرناک تھا، صرف صاحب حیثیت افراد ہی یہاں کا رُخ کرتے تھے یا پھر وہ نوجوان جنہیں سیاحت کا شوق ہوتا تھا، جب سے پُرانے سلک روٹ کی جگہ قراقرم ہائی وے بنی، عطاء آباد جھیل پر ٹنل بنا اور اس روڈ کو خنجراب پاس سے ملا دیا گیا تو ان میں سے اکثر علاقوں تک پہنچنا اتنا آسان ہوگیا کہ چھوٹی سے چھوٹی گاڑی بھی اب خنجراب تک پہنچ جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ پچھلے 2 سالوں میں سیاحت اتنی بڑھی کہ وادی پاسو، وادی ہنزہ اور بابوسر ٹاپ پر جون جولائی میں سینکڑوں لوگ پہنچتے تھے انکی تعداد اب لاکھوں میں پہنچ چکی ہے اور یہ سال پاکستانی سیاحت کا سب سے مصروف ترین سال گنا جا رہا ہے۔

wood bridge chinar bagh gilgit

سیاحت تو بڑھ گئی، خوبصورت وادیاں اور دلکش مناظر بھی انسان کی پہنچ میں با آسانی آگئے لیکن ہمیں لیک ویو اور کٹاس راج کے واقعات کو بھی یاد رکھنا پڑے گا، جہاں سیاحت بڑھی ہے وہیں ان وادیوں میں انسانی سر گزشت بھی زیادہ ہوگئی جس سے ماحول بھی بگڑے گا، گاڑیوں کا دھواں، گندگی، غلاظت ان وادیوں کے حسن پر جہاں داغ لگائیں گی، ان وادیوں میں سوئے ہوئے دیو قامت برفانی گلیشئیرز بھی موجود ہیں، جنہیں آگے ہی عالمی حدت نے تنگ کر رکھا ہے اگر مزید کچھ ہوا تو اس سیاحت کا آغاز ملک کیلئے اچھا ثابت نہ ہوگا، اس لئے حکومتی سطح پر اس حوالے سے حفاظتی اور احتیاطی اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔

Email This Post
 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.