Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

یہ سچ ہے۔۔۔

SAMAA | - Posted: Jul 17, 2017 | Last Updated: 5 years ago
SAMAA |
Posted: Jul 17, 2017 | Last Updated: 5 years ago

IMG_0081

کچن میں کام کرتے ہوئے لاوٗنج میں کھیلنے والی چھ سالہ بیٹی کی آواز کان میں ٹکرائی جو کہ اپنی دوست سے کہہ رہی تھی کہ آپ نے جھوٹ بولا نا گیم میں اس لئے آپ ہار گئیں اب جھوٹ مت بولنا۔ میرے دل میں یہ سوچ کے خوشی کی لہر دوڑی کہ اس ننھی بچی کو اندازہ ہے کہ جھوٹ بولنا اچھی بات نہیں۔ ہم بچپن میں بڑے شوق سے پنوکیو کی کارٹونز اور فلمیں دیکھتے تھے۔جس کے کردار کی خاص بات یہ تھی کہ وہ جب بھی جھوٹ بولتا تھا تو اس کی ناک لمبی ہونا شروع ہو جاتی تھی جس سے وہ پکڑا جاتا تھا۔ پنوکیو کے کردار کو تخلیق کرنے والے کا اصل مقصد یہ ہی تھا کہ جھوٹ نا بولیں اور سچ سے کام لیں۔

IMG_1931

ہمارے ارد گرد کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو بڑی آسانی سے اور روانی سے جھوٹ بولتے ہیں یا غلط بیانی سے کام لیتے ہیں۔ دوسری قسم ایسے لوگوں کی بھی ہے جو جھوٹ تو نہیں بولتے البتہ سچائی سے منہ موڑ لیتے ہیں یا سچ ماننے کو تیار نہیں ہوتے۔ لوگوں کی اکثریت اس بات سے اتفاق کرتی ہے کہ غلط بیانی سے کام لینے سے بہت سے منفی نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے مثلاً نوکری کا ختم ہو جانا، رشتے ٹوٹ جانا، اعتبار ختم ہو جانا حتیٰ کہ یہ مجرمانہ فعل کے زمرے میں بھی آتا ہے۔ پھر بھی لوگ کیوں جھوٹ بولتے ہیں؟ بہت سے لوگ سوسائٹی میں اپنا مصنوعی اسٹیٹس بنانے کے لئے جھوٹ بولتے ہیں، یا کسی ممکنہ نقصان سے بچنے کے لئے یا کسی دوسرے کو سچ سن کر تکلیف نا ہو اس لئے بھی بعض دفعہ جھوٹ سے کام لیا جاتا ہے۔ بچپن سے بچوں کی اچھی تربیت میں یہ ہی بات شامل ہوتی  ہے کہ بیٹا جھوٹ نہیں بولتے۔ جھوٹ بولنا اچھی بات نہیں ہے اور اللہ پاک بھی پسند نہیں کرتے۔جب کہ اکثر بچے اپنے والدین کے غصے سے بچنے کے لئے جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں۔

comunicación

اگر بات میاں بیوی کے رشتے کی کی جائے تواکثر بے چارے میاں جی کو اپنا گھر بچانے کے لئے جھوٹ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ زیادہ تر شوہر اپنی بیوی سے صفائی سے جھوٹ بولنے میں ناکام رہتے ہیں اور بیگمات ان کا جھوٹ پکڑ لیتی ہیں۔جس سے معاملات اور خراب ہو جاتے ہیں۔ یہ بات بھی سو فیصد درست ہے کہ ایک جھوٹ کے پیچھے ہزار جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔ جھوٹ بولنے والے کی باڈی لینگویج سے پتا چل جاتا ہے کہ اس کی بات میں صداقت نہیں۔ بعض افراد تو جھوٹ بولتے ہوئے اس قدر نروس ہو جاتے ہیں کہ باآسانی ان کو بھانپ لیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جھوٹ بولنا با آسانی پکڑا جا سکتا ہے، مثلاً جو شخص جھوٹ بولتے ہوئے مسکراہٹ کا سہارا لیتا ہے اس کی مسکراہٹ میں چہرے کے سارے اعصاب ساتھ نہیں دیتے جب کہ نیچرل مسکراہٹ میں پورا چہرا مسکراتا ہے اور مصنوئی مسکراہٹ جتنی جلدی چہرے پہ سجائی جاتی ہے اتنی ہی جلدی غائب ہو جاتی ہے جب کہ اصل مسکراہٹ دیر تک قائم رہتی ہے۔ اسی طرح کسی سے کوئی سوال کیا جائے اور وہ عنوان بدل دے یا توڑ موڑ کے لمبا چوڑا جواب دے اور تاخیر کرے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ جھوٹ کا سہارا لے رہا ہے۔جب کہ سچ بولنے والا فوراً جواب دیتا ہے۔

young-family-walking-in-field

کسی کام کی شروعات ہی اگر جھوٹ سے کی جائے تو وہ کبھی پھلتا پھولتا نہیں اس میں برکت بھی نہیں ہوتی جب کہ یہاں چھوٹے سے لے کے بڑا دکاندار تک اپنا مال بیچنے کے لئے جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں وقتی طور پہ تو ان کا فائدہ ہو جاتا ہے لیکن اس کے دور رس نتائج مناسب نہیں ہوتے۔ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پہ نظر ڈالیں تو مندرجہ بالا تحریر کی بہترین مثال مل جائے گی کہ ایک جھوٹ چھپانے کے لئے سو جھوٹ بولنے پڑے اورجگ ہنسائی الگ ہوئی۔ جب کہ دیگر ممالک کے وزرا ٔ عزت سے مستعفی ہو گئے کہ مزید بدنامی نا اٹھانی پڑے۔

Yes-Means-No-10-Reasons-Why-Some-Kids-Respond-to-Reverse-Psychology-photo4

سچ بولنا مشکل ضرور ہوتا ہے لیکن اس سے انسان کا دل اور ضمیر مطمئن ہوتا ہے جب کہ جھوٹ بولنا آسان ہے لیکن یہ کئ مشکلات میں ڈال دیتا ہے اور اندرونی طور پہ بھی ملامت رہتی ہے۔ہر لمحے اس بات کا ہی ڈر رہتا ہے کہ یہ جھوٹ سامنے نا آجائے جب کہ ایک دفعہ سچ بولنے سے بہت سے پیچیدہ معاملات حل ہو جاتے ہیں۔ البتہ زندگی میں بہت سے موڑ ایسے آتے ہیں، جہاں سچ بولنے سے مزید فساد کا خطرہ ہو جیسا کہ میاں بیوی کے درمیاں صلح ہو، یا دو لوگوں کے درمیاں لڑائی ختم کرانی ہو اس کو مصلحتاً جھوٹ بولنا کہا جائے  گا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube