ہوم   >  بلاگز

بے حس قوم ، لاپرواہ افراد۔۔۔

SAMAA | - Posted: Jul 8, 2017 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Jul 8, 2017 | Last Updated: 3 years ago

Graphic1

تحریر: شاہد کاظمی

دو موٹر سائیکل سوار منہ پہ نقاب۔۔۔ راہ گیر بیگ تھامے خراماں خراماں چلا جا رہا ہے۔ موٹر سائیکل رکتا ہے ایک شخص اترتا ہے بیگ والے سے ہاتھا پائی شروع ہو جاتی ہے۔ راہ گیر راہزنوں پہ کسی حد تک قابو پا لیتا ہے بیگ دوبارہ واپس چھین لیتا ہے۔ مگر راہزن دوبارہ سے بیگ پہ ہاتھ جیسے ہی ڈالا، یہ کیا بیگ راہ گیر نے سڑک کے دوسری طرف پھینک دیا چند لوگوں کی طرف۔۔۔ ہاتھا پائی میں راہ گیر کی ٹانگ پہ چوٹ لگتی ہے اور وہ گر جاتا ہے۔ اتنے میں راہزن سڑک کے دوسری طرف جا کے بیگ اٹھاتا ہے اور ساتھی اس کا سڑک کے عین درمیان موٹر سائیکل لیے کھڑا رہتا ہے۔ دوسرا آرام سے بیگ اٹھا کر ساتھ ہو لیتا ہے اور یہ جا وہ جا۔۔۔ پوری کارروائی کا دورانیہ تین منٹ ہے اور تین منٹ کی کاروائی کے دوران سڑک کے بیچوں بیچ جہاں معاملہ ہو رہا ہے ٹریفک بھی چل رہی ہے۔ موٹر سائیکل والے کئی افراد رک بھی گئے ہیں اور پیدل حضرات بھی کھڑے ہو گئے ہیں۔

Graphic2

راقم کی ذاتی رائے ہے کہ لٹنے والے راہ گیر کے ہاتھ میں ایک موٹا سا ڈنڈا ہونا چاہیے تھا جو اس راہزانی کی واردات کے بعد اکھٹے اور پوچھنے پاچھنے والے افراد کی تونڑ میں پڑنا چاہیے تھا اور خاص طور پر اس شخص کی تشریف لالو لال ہونی چاہیے تھی جو لٹنے والے کو فٹ پاتھ پہ بیٹھنے کا مشورہ دے رہا ہے۔

Graphic3

آپ حیران ہوں گے کہ ہمدری پہ لالو لال کیوں، تو عرض صرف اتنی سی ہے کہ اس کارروائی کے ہو جانے کے بعد ہم میں سے کتنوں نے راگ الاپا ہوگا کہ حکومت ناکام ہوگئی ہے، قانون کی بالادستی ختم ہوگئی ہے، عوام رل گئے ہیں۔ تو ان عقل مند گدھوں کے لیے اتنا عرض ہے کہ بھئی جب اس اکیلے شخص نے راہزن پہ قابو پا کے بیگ دوبارہ حاصل کرلیا تھا تو تم لوگ اس کی مدد کو کیوں نہیں آئے۔ جواب ہوگا ہاتھ میں گن تھی۔ تو عرض ہے اگر گن کا خوف رکھنا ہے تو پھر چور حکمرانوں سے گلہ کیسا۔ محاذ پہ لڑنے والا تو گولی کھا کر ملک بچائے مگر ملک کے اندر کے محاذ پہ لڑنے کے لیے ہمیں کیا کوئی خصوصی فورس بنانا پڑئے گی؟ ہم میں سے ہر ایک انفرادی سطح پر کیا سپاہی نہیں ہے معاشرے کا؟ جس بے حسی کا مظاہرہ ہے کہ ایک نہتا شخص راہزنوں پہ قابو پانے کے قریب پہنچ چکا تھا مگر ارد گرد کے لوگوں کی بے حسی کی وجہ سے بیچارہ لٹ گیا۔ ایک موٹر سائیکل تھی دو افراد اور ارد گرد سے سینکڑوں افراد گزر رہے تھے۔ لعنت نہیں ایسے بے حس لوگوں پہ کہ جو ہٹ کر تماشا دیکھتے رہے؟ مدد تو لٹنے والی کی پہلے ہونی تھی۔ بعد میں تو تم سب لوگ اس بے چارے کو فٹ پاتھ پہ بٹھا کر اس کا تماشا دیکھنے کو ٹھہر گئے۔ بناء پیسے کے تماشا کہ بھئی دکھاؤ چوٹ کہاں لگی، کیسے لگی، کیا تھا بیگ میں وغیرہ وغیرہ۔ ورنہ حقیقی مدد تو مقصود ہوتی تو بے شک جب تک راہزن بھاری تھے نہ بڑھتے مگر جب وہ بے چارہ ان پہ قابو پا چکا تھا تب تو آگے بڑھتے۔

Graphic

ہم بطور قوم بے حسی کا عملی نمونہ ہیں۔ یہ بے حسی ہماری انفرادی سوچ سے بطور قوم ہماری شناخت بن چکی ہے۔ یہ قوم صرف چیمپیئنز ٹرافی کا فائنل جیتنے کے بعد ڈھول کی تھاپ پہ بھنگڑے ڈالتے ہوئے ہی ایک قوم نظر آتی ہے۔ یہ کسی غریب کی جمع پونجی لٹنے کے وقت بے حسی کی ایسی چادر اوڑھ کے سو جاتی ہے کہ اس کی تشریف پہ چھترول بھی کی جائے تو یہ چادر نہیں ہٹاتی بلکہ چھترول پہ مرہم لگانے کا سوچتی رہتی ہے۔ یہ مجروں میں رقص کرتے ہوئے تو اختلافات بھلا دیتے ہیں۔ مگر بیچ چوراہے کسی کا مان ٹوٹ جائے، کسی کی امیدوں کا خون ہو جائے ٹس سے مس نہیں ہوتی۔ ہم ایسی قوم کا حصہ ہیں جو قوم ان مواقع پہ بنتی ہے جب صرف تفریح کا عنصر شامل ہو۔ معاشرے کی تعمیر کا جہاں پہ سوال ہو وہاں یہ تو کون میں کون کا راگ الاپنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ ویسے ٹھیک بھی ہے اتنی سے بات پہ اب جذباتیت اچھی بھی نہیں جہاں عزتیں نیلام ہونا معمول کی بات بن گیا ہو وہاں کمائی لٹ جانا بھلا کیسے خاص خبر ہو سکتی ہے۔

Graphic5

لٹنے والا ہاتھ میں لوہے کا خول چڑھا کر رکھے اور آئندہ اس کے سامنے اگر کوئی معاشرے کا فرد قانون کی کمزوری، انصاف کی عدم فراہمی، حکومت کی ناکامی جیسا کوئی لفظ بھی بولے تو بولنے والی کی باچھوں پہ رکھ کے مارے یہ خول کہ اُس کی بتیسی باہر بھی آئے تو ریزہ ریزہ ہو کر۔ اور یاد آیا خول پہ یہ الفاظ ضرور کندہ ہوں جہ باچھوں پہ بھی نقش ہو جائیں کہ “جن معاشروں میں افراد انفرادی سطح پر بے حسی کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں وہاں اجتماعی طور پر بھی کسی کامیابی کے قدم نہیں چومے جا سکتے”۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube