Thursday, January 27, 2022  | 23 Jamadilakhir, 1443

بھارتی جمہوریت کااصل چہرہ

SAMAA | - Posted: Jul 4, 2017 | Last Updated: 5 years ago
Posted: Jul 4, 2017 | Last Updated: 5 years ago

modi

بتیس لاکھ 87 ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ملک بھارت جوکہ دنیا میں سب سے بڑی جمہوریت، لبرل ازم اورسیکولرازم کا دعویدار ہے،جس میں مسلمانوں کی آبادی 22 کروڑہےاور یہ مسلمانوں کا دوسرا بڑاملک ہےاورنریندرامودی بھارت کےچودہویں وزیراعظم ہیں جن کا تعلق’بی جےپی’ سے ہے۔جنہوں نے 1971 میں ‘راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ’میں شمولیت اختیار کی تھی۔وہ تنظیم جس پر اندرا گاندھی کے دور میں پابندی لگا دی گئی تھی۔

بھارتی صحافی ‘اروندھتی رائے’ کا مودی اور آرایس ایس کےبارے میں کہنا ہےکہ مودی ‘آر ایس ایس’ تنظیم سے تعلق رکھتا ہےجو 1927 میں اٹلی کے فاشسٹ مسولینی سےمتاثرہوکر بنائی گئی تھی اورایڈولف ہٹلرکو اس تنظیم کا ایک عظیم ہیرو مانا جاتا ہےیہ لوگ ہٹلر کی کھلم کھلا اور بڑھ چڑھ کر تعریف کرتے ہیں۔

MODI WAX STATUE NAT 17-03

آرایس ایس وہ جماعت ہے جو بھارت کو مسلمانوں سے پاک کرنا چاہتی ہے جیسے ہٹلر جرمنی کو یہودیوں سے پاک کرنا چاہتا تھا۔1987 میں مودی نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی جس کے عزائم کا اندازہ بابری مسجد کی شہادت سے لگایا جا سکتا ہے۔1990میں آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں نے فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دینے کیلئے ‘رام جنم بھومی ابھیان’ کے نام سے ایک مہم چلائی تاکہ ملک کو فرقہ وارانہ بنیاد پر تقسیم کیا جاسکےاور سیاسی ماحول تیار کرکے بی جے پی کو اقتدار تک پہنچایا جاسکے جس کے نتیجے میں 6 دسمبر 1992 کو دن 12 بجے بی جے پی کے بڑےرہنماؤں کی موجودگی میں بابری مسجدکوشہید کردیا گیااور سیکولر اور لبرل بھارت خاموش رہا۔

اس سب کے باوجود نریندر مودی 2001 میں گجرات کے وزیر اعلی بن گئےاور 2002 میں گجرات کےفسادات میں مودی نے غنڈوں کو کھلے عام دہشت گردانہ کاروائیاں کرنے کی اجازت دے دی جس کے نتیجے میں قانون سازاسمبلی کے مسلمان رکن احسان جعفری کےبازواورٹانگیں کاٹ کران کے جسم کو سڑکوں پرگھسیٹا گیا۔ان کے گھر میں پناہ گزین مسلمانوں کا قتلِ عام کیا گیااورعورتوں کے ساتھ زیادتی کی گئی ۔گجرات فسادات کے2 سے 3 دنوں میں 1500 مسلمانو ں کا سڑک پر قتلِ عام کیا گیا۔ تب وہاں کےوزیرِاعلی نریندرمودی تھےاورجمہوریت کا دعویدار بھارت خاموش رہا۔بعد میں اسی متعصب اور انتہا پسند لیڈر کو الیکٹ کرکے بھارت کا وزیر اعظم بنا دیا گیا۔

مودی سرکار جب سے اقتدار میں آئی ہے تب سے گائے کی حفاظت کے نت نئے حربے آزما رہی ہے۔گائےکےمعاملے پرمودی سرکار نےغنڈوں کوکھلے عام چھٹی دے رکھی ہے۔بھارت کی ریاست آسام میں بی جے پی کے غنڈوں نے 2 نوجوان مسلمانوں کو روک کر گائے چوری کے الزام میں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ کبھی قصائیوں کی دکانوں پر ہلہ بول کر ان کا روزگار چھین لیا جا تا ہےتوکبھی کسی مسلمان کے فریزر میں پڑے مٹن کو بیف کہہ کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔بی جے پی کے غنڈے کہتے ہیں کہ جسے بیف کھانا ہے وہ پاکستان چلا جائےحتی کہ بچوں کے اسکول میں نوٹس جاری ہوتا ہے کہ کوئی بچہ لنچ باکس میں بیف سے بنی کوئی ڈش نہیں لائے گا ورنہ اسکول سے نکال دیا جائے گا۔

اس صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے مشہور فلمی اداکار امیتابھ بچن کی بیوی جیا بچن نے پارلیمان میں کہا کہ گائیوں کو آپ بچا سکتے ہیں لیکن عورتوں کے ساتھ بھارت میں جو ظالمانہ سلوک ہورہا ہے اسے آپ نہیں روک سکتے۔حال ہی میں فلمی اداکارہ کاجل کی بیف کھاتے ہوئے سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے پر اسے نہ تو وہ ویڈیو ڈیلیٹ کرنی پڑی بلکہ معافی بھی مانگنی پڑی کیونکہ آزاد بھارت دیش میں ان کی جان کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔جوکہ ان کا اپنا ہی سیکولر اور لبرل ملک ہے۔

سپریم کورٹ کے سابق جج ‘مرکانڈے کانجو’ گائے کے بارے میں بات کرتے ہوئےکہتے ہیں کہ ‘ میں خود بھی بیف کھاتا ہوں اور میں کھاؤں گا بلکہ دنیا بھر کھاتی ہے۔امریکہ، یورپ، عرب، افریقہ سب کھاتے ہیں۔گائے جانور ہے جیسے دوسرے جانور ہیں۔یہ ماتا واتا میں نہیں مانتا۔مودی حکومت نے انسانوں کو گائے کا غلام بنا دیا ہے۔’  انہوں نے   بالی وڈ پروڈیوسرز کو مشورہ دیا کہ وہ ‘پلینیٹ آف دی کاؤوز’ کے نام سے فلم بنائیں جس میں گائےسب فتح کرکے بھارتیوں کو اپنا غلام بنا لے۔ایسی فلم دوسری فلموں سے دس گنا زیادہ منافع کمائے گی۔

ان معاملات سےبھارتی حکومت کی انتہا پسندی اور مظالم  کا اندازہ لگایا جاسکتا ہےجس کا نشانہ بننے والے صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ان کے اپنے ہم مذہب ہندوستانی بھی ہیں اور یہ سب حقائق دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا اصل چہرہ دکھانے کیلئے کافی ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube