Monday, August 3, 2020  | 12 Zilhaj, 1441
ہوم   > بلاگز

کہیں عید ہے تو کہیں سوگ

SAMAA | - Posted: Jun 30, 2017 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Jun 30, 2017 | Last Updated: 3 years ago

1d

۔۔۔۔۔**  تحریر : احسن وارثی  **۔۔۔۔۔

دنیا بھر میں جہاں عید کی خوشیاں منائی جارہی تھیں وہی دوسری جانب پاکستان میں سینکڑوں خاندان دہشت گردوں کی درندگی اور حکمرانوں کی بے حسی کے باعث عید پر سوگ منارہے تھے، پاکستان میں عید سے قبل 3 دن میں مختلف سانحات اور حادثات میں 250 سے زائد شہید / جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوگئے۔

عید سے صرف 2 روز قبل ہی پاکستان میں عید کی خوشیاں سوگ میں تبدیل ہوگئیں جب ماہ رمضان کے جمعتہ الوداع کے موقع پر 23 جون 2017ء کو پہلے کوئٹہ میں کار بم دھماکے کا واقعہ پیش آیا، جس میں 13 افراد شہید اور 20 سے زائد زخمی ہوئے، اسی روز کرم ایجنسی پارا چنار میں واقع طوری بازار / مارکیٹ میں ایسے وقت پر 2 دھماکے سنے گئے جب لوگ افطاری کا سامان خریدنے میں مصروف تھے،  پارا چنار بم دھماکے نے عید کو کئی خاندانوں کیلئے ماتم میں تبدیل کردیا، دھماکے میں 100 سے زائد افراد شہید اور سینکڑوں زخمی ہیں، جمعتہ الوداع کے موقع پر ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی ذمہ داری کالعدم دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار نے قبول کی ہے۔

PARACHINAR BLAST SPORT OCV 23-061

پارا چنار میں یہ کوئی انوکھا یا پہلا واقعہ نہیں اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ اسی طرح دہشت گرد کارروائیاں کرتے رہے ہیں مگر آج تک جانی نقصان سے بچنے کیلئے کسی سطح پر کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔

دنیا میں اتنے بڑے بڑے سانحات، حادثات اور انسانی جانوں کے ضیاع پر حکومتیں ہل جاتی ہیں، وزارتیں چلی جاتی ہیں، متعلقہ حکام غیر ذمہ داری یا غفلت پر مستعفی ہوجاتے ہیں مگر یہاں ہمارے ملک میں اخلاقی جراٴت کا مظاہرہ کرنے والا کوئی نہیں۔

‏حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا          ۔۔۔۔۔۔۔۔۔          کوئی ٹھہرا نہیں حادثہ دیکھ کر

پارا چنار میں سینکڑوں خاندانوں میں صف ماتم بچھی ہے اور ہمارے صحافیوں، اپوزیشن، حکومتی ارکان کو اگر فکر ہے تو وہ ہے پانامہ کی، میڈیا ایک بار پھر اپنا حقیقی کردار ادا کرنے میں ناکام رہا ہے، سانحہ پارا چنار کے متاثرین احتجاج کے طور پر دھرنا دیئے بیٹھے تھے ان کی آواز کو اس طرح سے ملک کے کونے کونے میں نہیں پہنچایا گیا، جس طرح پانامہ کیس پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے ریمارکس کو ملک کے ہر حصے تک پہنچایا جاتا ہے، سانحہ پارا چنار ہمارے معاشرے کی مجموعی ناکامی ہے۔

Parachinar Protest PKG 30-06

ریاست کو جھنجوڑنے کیلئے شاید سانحہ پارا چنار کافی نہیں تھا، اسی لئے عید سے ایک روز قبل ایک اور بڑا واقعہ رونما ہوگیا، پارا چنار سانحہ کے بعد 25 جون 2017ء کو احمد پور شرقیہ سانحہ نے فضاء کو مزید سوگوار کردیا، بہاولپور احمد پور شرقیہ میں آئل ٹینکر الٹنے کے بعد شہریوں کا ہجوم ٹینکر کے پاس اُمڈ آیا جس کے تھوڑی دیر بعد ٹینکر میں آگ لگ جانے کے باعث اس آگ نے اپنے قریب تمام گاڑیوں اور انسانوں کو لپیٹے میں لے لیا، جس کے نتیجے میں 180 سے زائد افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔

BWP Accident Pkg 25-06

احمد پور شرقیہ کے المناک سانحہ کے بعد ہمارا وہ میڈیا جسے سانحہ پارا چنار کے شہداء کے بجائے پانامہ کیس کا دکھ کھایا جارہا تھا، اسے انسانوں کا خیال آہی گیا، وزیراعظم صاحب جو کئی روز سے سعوی عرب اور دیگر ملکوں کی سیر پر نکلے ہوئے تھے وہ بھی پاکستان کو روانہ ہوگئے۔

ہم نے دیکھا ہے کہ اکثر سانحات پر حکمرانوں کی جانب سے بڑے بڑے مذمتی بیان دیئے جاتے ہیں کہ ہم یہ کریں گے وہ کریں گے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم کسی سانحہ سے پہلے انسانی جانوں کے ضیاع سے بچنے کیلئے کوئی اقدام نہیں اٹھا سکتے، کیا آئل ٹینکر الٹنے کے بعد لوگوں کا ٹینکر کا آئل جمع کرنا عام سی بات نہیں، کیا کبھی اس حوالے سے کوئی حکمت عملی بنتی دیکھی، اگر ہم سانحہ پارا چنار کی بات کریں تو کیا یہ کوئی پہلا واقعہ ہے، اس سے پہلے بھی کتنی ہی مرتبہ پارا چنار دہشت گردی کا نشانہ بن چکا ہے،  کیا کبھی پارا چنار کرم ایجنسی کے شہداء کو انصاف دلوانے کیلئے کوئی اقدام کیا گیا، کبھی یہ پتہ چلا کہ آخر اس میں کس کی غفلت ہے کہ ہر ایک دو ماہ بعد پارا چنار کو دہشت گرد لہولہان کردیتے ہیں۔

Pm Nawaz Pc Bahawalpur 26-06

پاکستان میں گزشتہ 15 سالوں میں دہشت گردوں کیخلاف کارروائی کیلئے نہ جانے کتنے آپریشنز کئے گئے مگر آج تک ملک میں مکمل امن قائم نہ ہوسکا، اس کی وجوہات جاننے کی نہ کبھی کوئی کوشش کرتا ہے اور نہ کوئی بتانے کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔

دہشت گردوں کی کمر توڑ دینے کے باوجود دہشت گردوں نے 250 خاندان اجاڑ دیئے ہیں تو سوچنے والی بات یہ ہے کہ ٹوٹی کمر کو کون سہارا دے رہا ہے، ملک میں جب تک کالعدم تنظیموں، دہشت گردوں اور ان کے ہمدردوں کیخلاف ٹھوس کارروائی نہیں ہوگی جب تک ملک میں مکمل امن قائم نہیں ہوسکتا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube