قومی سانحات اور ہمارے دوہرے معیارات

SAMAA | - Posted: Jun 27, 2017 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Jun 27, 2017 | Last Updated: 4 years ago

7

۔۔۔۔۔**  تحریر : فرخ عباس  **۔۔۔۔۔

گزشتہ اتوار کو بھارت کے خلاف چیمپئنز ٹرافی فائنل میں پاکستان کی فتح کے بعد سے قوم جس خوشی سے سرشار تھی وہ جمعہ کی شام تک سوگ میں تبدیل ہوگئی، جہاں ایک جانب کوئٹہ میں درجنوں بے گناہوں کو بم دھماکے میں شہید کر دیا گیا، وہیں ملک دشمن دہشت گردوں نے پارا چنار کی حسین وادی بھی پاکستان سے بے پناہ محبت کرنیوالے مکینوں کے خون سے رنگین کردی، ہفتے کا دن ابھی انہی 2 صدمات سے نبٹنے میں گزر رہا تھا کہ اتوار کی صبح بہاولپور میں میں آئل ٹینکر حادثے کے بعد جو سانحہ برپا ہوا، اس نے شدت غم کو لفظوں کی حدوں سے باہر دھکیل دیا، اب کوئی بھی لفظ ہوں غم کی شدت کو بیان کرنے کیلئے ناکافی معلوم ہوتے ہیں۔

PARACHINAR BLAST HOSPITAL OCV  23-062

کوئٹہ اور پارا چنار کے سانحات میں ڈوبے دل کیلئے ایک اور صدمہ کچھ زیادہ تھا، ابھی جذبات کو الفاظ میں تبدیل کرنے کی کوشش جاری تھی کہ ایک طبقے کی جانب سے ٹینکر حادثے میں جان بحق ہونے والے لوگوں پر طرح طرح کی زبان درازیوں کا سلسلہ چل نکلا، کسی بھرے پیٹ نے لالچ کا طعنہ دیا تو کسی جانب سے جہالت کی آوازیں کسی جانے لگیں، جہاں ایک جانب یہ سلسلہ جاری تھا وہیں دوسری جانب پاراچنار سانحہ کے شہیدوں کے لواحقین کی جانب سے دھرنا دیئے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آنے لگیں، لیکن ایک تو سرحدی علاقہ اور علاقہ بھی وہ جہاں میڈیا کی ریٹنگ جانچنے کیلئے میٹرز ابھی تک نصب نہیں ہوئے، ایسی صورت میں میڈیا کی جانب سے بھی پاراچنار سانحے کی کوریج نہ ہونے کے برابر ہی رہی ہے، جس وقت میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں اس وقت پاراچنار میں جاری دھرنا اپنے چوتھے روز میں داخل ہوچکا ہے لیکن مرکزی حکومت اور ریاست کے کسی ادارے کی جانب سے کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

Blast Qta17

وزیراعظم نواز شریف جو رمضان کا آخری عشرہ مکہ میں گزارنے کے بعد عید الفطر لندن میں منانے میں مصروف تھے وہ بھی بہاولپور حادثے کے بعد ملک واپس تشریف لے آئے ہیں، گو کہ لندن میں قیام کے دوران بھی ان کی زبان سے غلطی سے بھی پاراچنار اور کوئٹہ کے بارے میں کوئی لفظ نہ نکلا، لیکن ملک واپس آنے کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ پاراچنار اور کوئٹہ کو بھی پاکستان کا حصہ سمجھتے ہوئے وہاں کے متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھنے جائیں گے، لیکن ایسا شاید نا ہو، اس کی وجہ سیدھی سادھی ہے، یہ ہمارا قومی المیہ ہے کہ ہم بڑے شہروں خاص طور پر پنجاب میں ہونے والے حادثات کو تو قومی سانحات کا درجہ دیتے ہیں لیکن زیادہ تر چھوٹے صوبوں میں ہونے والے سانحات قومی سانحات جیسا مقام اور کوریج حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

BWP Accident Pkg 25-06

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ہماری مرکزی حکومت کی جانب سے اس قسم کا رویہ دیکھنے میں آیا ہو، ایک جانب جہاں پاراچنار اور کوئٹہ میں لگ بھگ 100 کے قریب لوگ اپنی جان سے  گئے، وہیں بہاولپور میں 150 کے قریب افراد جاں بحق ہوئے، لیکن دونوں واقعات کے ردعمل میں کافی فرق دیکھنے میں آیا، بہاولپور میں جان بحق افراد کیلئے فی کس 20 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا گیا، ساتھ ہی لواحقین کو سرکاری نوکری دینے کا بھی وعدہ ہوا، جبکہ پاراچنار اور کوئٹہ کے بارے میں خاموشی ایسی کہ غلطی سے تسلی کے دو بول بھی ادا نہ ہوئے، حد تو یہ ہے کہ فاٹا کا علاقہ جو وفاقی حکومت کے زیر انتظام ہے اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی وزیر داخلہ کی جانب سے کے پی کی صوبائی حکومت پر ڈالنے کی کوشش کی جاتی رہی۔

 ایسا کیوں ہے؟، اس کا سوال شاید ہم سب کو اپنے آپ سے پوچھنا ہوگا اور یہ بھی جاننا ہوگا کہ ’’اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں‘‘، کیا صرف ایک ملی نغمہ ہے یا اس کو ہمارا قومی فریضہ بھی ہونا چاہئے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube