تیرہ چیزیں جو ذہنی طور پر مضبوط لوگ نہیں کرتے 

By: Imran Khushal
June 12, 2017

3aa

ذہنی طور پر مضبوط لوگ صحتمند عادات کے مالک ہوتے ہیں، وہ اپنے جذبات، خیالات اور رویوں کو ایسے طریقوں سے قابو میں رکھتے ہیں جو ان کی کامیابی کے ضامن بنتے ہیں، ذرا دیکھئے کہ ذہنی طور پر مضبوط لوگ کون سی چیزیں نہیں کرتے تاکہ آپ بھی ذہنی طور پر زیادہ طاقتور بن سکیں۔

3

وہ اپنے آپ پر افسوس کرتے ہوئے وقت ضائع نہیں کرتے

ذہنی طور پر مضبوط لوگ اپنے حالات کا رونا روتے ہیں نہ ہی بے کار میں بیٹھ کر اس بات پر افسوس کرتے ہیں کہ دوسروں نے ان سے کیسا برتاؤ کیا، بجائے اس کہ وہ زندگی میں اپنے کردار کی مکمل ذمہ داری لیتے ہیں اور اس بات کو سمجھتے ہیں کہ زندگی ہمیشہ آسان اور منصفانہ نہیں ہوتی۔

وہ اپنے اختیارات کسی کو نہیں دیتے

وہ دوسروں کو اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ انہیں کنٹرول کریں اور وہ کسی کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیتے، وہ ایسی باتیں نہیں کہتے جیسا کہ میرا باس مجھے برا محسوس کراتا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ آپ اپنے جذبات کے مالک ہیں اور ان کے پاس اختیار ہے کہ وہ کسی بھی صورتِ حال میں کیسے ردِ عمل کرتے ہیں۔

وہ تبدیلی سے خوفزدہ نہیں ہوتے

ذہنی طور پر مضبوط لوگ تبدیلی سے بچنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ وہ مثبت تبدیلی کو سرہاتے ہوئے خود کو اس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ تبدیلی ناگزیر ہے اور اسی لئے وہ اپنی تبدیلی کو اپنانے کی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہیں۔

ان چیزوں پر توانائی ضائع نہیں کرتے جنہیں وہ کنٹرول نہیں کرسکتے

آپ کبھی بھی کسی مضبوط ذہن کے مالک شخص کو اس کے کھوئے ہوئے سامان یا بے تحاشہ ٹریفک کیخلاف شکایات کرتے ہوئے نہیں سنیں گے بلکہ ایسے لوگ اپنی زندگی میں صرف اور صرف ان چیزوں پر توجہ دیتے ہیں جنہیں وہ کنٹرول کرسکتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ بعض اوقات اپنے رویے کہ علاوہ وہ کسی بھی چیز کو کنٹرول نہیں کرسکتے۔

وہ سب کو خوش کرنے کی پرواہ نہیں کرتے

ذہنی طور پر مضبوط لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں ہر وقت ہر ایک کو خوش کرنے کی ضرورت نہیں ہے، وہ انکار کرنے سے خوف محسوس نہیں کرتے اور جب بھی ضرورت ہو مکمل اعتماد کے ساتھ بولتے ہیں، وہ اخلاص اور مہربانی سے پیش آنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اگر کوئی ان سے کسی بات پر ناراض ہو تو وہ اس بات  کو بھی ہینڈل کرلیتے ہیں۔

وہ سوچا سمجھا رسک لینے سے نہیں چوکتے

وہ احمقانہ اور بے وقوفانہ رسک نہیں لیتے لیکن ایسا رسک جس میں کامیابی کے امکان ناکامی سے زیادہ ہوں، لینے میں نہیں جھجکتے، ذہنی طور پر مضبوط لوگ کوئی بھی بڑا فیصلہ کرنے سے پہلے اس سے ہونے والے نفع اور نقصان کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور انہیں اپنے عمل سے ہونے والے ممکنہ نقصان سے مکمل طور پر باخبر رہتے ہیں۔

وہ ماضی میں نہیں رہتے

ذہنی طور پر مضبوط لوگ ماضی میں کھوئے رہ کر وقت برباد کرتے ہیں نہ ہی ہر وقت یہ خواہش کرتے ہیں کہ چیزیں ان کی مرضی کے مطابق ہوئی ہوتیں، وہ اپنے اچھے یا برے ماضی کو قبول کرتے ہیں اور جو بھی انہوں نے اس سے سیکھا ہو اس کا اظہار کرتے ہیں تاہم نہ تو وہ ماضی کے برے تجربات کو بار بار جیتے ہیں اور نہ ہی اچھے دنوں کی کامیابی کو فنٹیسائز کرتے ہیں بلکہ وہ حال میں زندہ رہتے ہیں اور مستقبل کیلئے منصوبہ بندی کرتے ہیں۔

وہ ایک ہی غلطی بار بار نہیں کرتے

وہ اپنے رویے کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور اپنے ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہیں، نتیجاً وہ ماضی کی غلطیوں کو بار بار نہیں دوہراتے بلکہ وہ آگے بڑھتے ہیں اور مستقبل میں اچھے فیصلے کرتے ہیں۔

وہ دوسروں کی کامیابی سے ناخوش نہیں ہوتے

ذہنی طور پر مضبوط لوگ زندگی میں دوسروں کی کامیابیوں کو سراہتے اور انہیں ان کے ساتھ مل کر مناتے ہیں، وہ دوسروں کی کامیابی پر حسد کرتے ہیں نہ ہی یہ سمجھتے ہیں کہ کسی دوسرے کی کامیابی ان کی ناکامی ہے بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ کامیابی سخت محنت سے آتی ہے اور وہ اپنے حصّے کی کامیابی کیلئے محنت کرنے کو تیار رہتے ہیں۔

وہ پہلی ناکامی پر ہار نہیں مان لیتے

وہ ناکامی کو ہار مان لینے کی وجہ نہیں سمجھتے بلکہ وہ ناکامی کو ذاتی بڑھوتری کیلئے استعمال کرتے ہیں اور وہ اس وقت تک جدوجہد کرتے رہنا چاہتے ہیں جب تک وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو جاتے۔

وہ تنہائی سے نہیں گبھراتے

ذہنی طور پر مضبوط لوگ تنہا رہ سکتے ہیں اور انہیں خاموشی سے ڈر نہیں لگتا، وہ اپنے خیالات کے ساتھ اکیلا ہونے سے نہیں ڈرتے بلکہ وہ تنہائی کو بامقصد بنا سکتے ہیں، وہ لطف اندوزی کیلئے دوسروں پر انحصار نہیں کرتے۔

وہ نہیں سمجھتے کہ دنیا نے ان کا ادھار دینا ہے

وہ نہیں سمجھتے کہ زندگی میں انہیں سب کچھ ملنا چاہے، وہ اس ذہن کے ساتھ پیدا نہیں ہوتے کہ دوسرے لوگوں کو ان کا خیال رکھنا ہے یا دنیا نے انہیں کچھ دینا ہے بلکہ وہ اپنی قابلیت کے بل بوتے پر کامیابی کے مواقع تلاش کرتے ہیں۔

وہ فوری نتائج کی توقع نہیں رکھتے

چاہے وہ اپنی صحت کو بہتر بنارہے ہوں یا اپنا کاروبار کرنے کی کوشش ذہنی طور پر مضبوط لوگ فوری نتائج کی توقع نہیں کرتے بلکہ وہ اپنے ہنر اور وقت کو بہترین طریقے سے بروئے کار لاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اصل تبدیلی آنے میں وقت لگتا ہے۔

نوٹ : یہ مضمون ایمی مورن کی کتاب ۱۳ چیزیں جو ذہنی طور پر مضبوط لوگ نہیں کرتے سے ترجمہ کیا گیا ہے، ترجمہ میں اصل مضمون اور مصنف کے انداز کو جہاں تک مناسب ہوسکا نقل کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ قارئین کو اردو تحریر میں بھی انگریزی مضمون کی روح سمجھنے میں آسانی ہو۔

Email This Post
 

:ٹیگز

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.