Tuesday, January 25, 2022  | 21 Jamadilakhir, 1443

طریقۂ واردات میں تبدیلی آچکی ہے

SAMAA | - Posted: Jun 7, 2017 | Last Updated: 5 years ago
SAMAA |
Posted: Jun 7, 2017 | Last Updated: 5 years ago

Shanghai city network technology

ڈیجیٹل دور ہے، ٹیلیویزن ہو یا ائر کنڈیشن، چولہے، واشنگ مشین، حتیٰ کہ روایات میل ملاپ تک ڈیجیٹل ہو گیا ہے، جی ہاں اب معافی تلافی بھی ڈیجیٹلی مانگی جاتی ہے اور رشتے بھی ڈیجیٹلی ہی طے ہو جاتے ہیں۔ خط و کتابت، بینکنگ، حساب کتاب سب ڈیجیٹل ہو گیا ہے۔ جہاں ٹیکنالوجی نے نوعِ انسانی کو بے شمار فوائد بخشے وہیں بہت بڑے خطرے کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔

زیادہ پرانی بات نہیں جب دو مخالف گروپس بدلہ لینے  کی غرض سے یا دشمنی میں مخالف کی گاڑیوں کے شیشے توڑ دیدتے، یا ان کی املاک کو آگ لگا دیتے،یا کو ئی اور دوسرا خطرناک طریقہ اپناتے۔ اسی طرح ممالک کے درمیان بھی جنگ میں یہ ہی ہوتا۔ اس کے علاوہ اگر کوئی کسی کو نا پسند کرتا یا تنگ آجاتا تو اس سے بدلا لینے کی خاطر مختلف منفی حربے اختیار کئے جاتے۔ اب زمانہ بدل گیا۔ اب تقریباً دنیا کے ہر انسان کے لئے سب سے قیمتی وہ ذاتی معلومات ہے جو وہ انٹرنیٹ پہ محفوظ کرتا ہے۔ اس میں اس فرد کی بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات ہو یا کریڈٹ کارڈ کی معلومات ہو۔ اس کے بہت سے ایسے راز جو وہ ای۔میل پہ محفوظ رکھتا ہو۔  یا کسی بھی کمپنی یا ملک کا کوئی ایسا سوفٹ وئیر سسٹم جس کے غیر فعال ہو جانے سے ایک بہت بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض سنگین صورتحال میں مذکورہ بالا معلومات یا چیزیں غیر معمولی طور پر اہمیت کی حامل ہوتی ہیں اور اگر ان معلومات تک کسی دشمن کی یا کسی بد نیت شخص کی رسائی  ہو جائے تو ایک بڑے نقصان کا اندیشہ رہتا ہے۔

اب کیا یہ جاتا ہے کہ کمپیوٹر کی اصطلاح میں ایک ایسا پروگرام جیسے وائرس  کہتے ہیں بنا دیا جاتا ہے، جیسا کہ یہ اپنے نام سے یہ ظاہر ہے کہ نقصان دہ چیز ہے لہذٰا وائرس کسی دوسرے کے کمپیوٹر سسٹم میں بھیج کے مخالف کا کمپیوٹر سسٹم تباہ کر دیا جاتا ہے۔ یہ دشمنی کا نیا طریقہ ہے۔ کمپیوٹر کی عمومی اصطلاح میں اس کو ہیکنگ کہا جاتا ہے۔ مطلب کہ اب متعلقہ شخص کی ڈیجیٹلی طور پہ محفوظ کی  گئی معلومات پہ کسی بد نیت شخص کا قبضہ، جس کا وہ کسی بھی غلط طریقے سے استعمال کر کے نقصان پہنچاتا ہے۔ اس ساری صورتحال کو سا ئبر وار یا سائبر کرائم کا نام دیا گیا ہے۔

social-media-mobile-icons-snapchat-facebook-instagram-ss-800x450-3-800x450

سائبر کرائم کے بھی مختلف طریقۂ واردات ہیں مثلًا انٹرنیٹ کے عام استعمال کے بعد ویب سائیٹس کا کاروبار بھی خوب چمک رہا ہے اور لوگ اس میں خوب سرمایا کاری کر رہے ہیں، تو اکثر منفی سوچ رکھنے والے لوگ اپنے مدمقابل کی ویب سائیٹس ہیک کر لیتے ہیں۔ جس سے ان کی ریٹنگ گِر جاتی ہے۔ اور دوسرے شخص کی ویب سائیٹ ریٹنگ میں اوپر آجاتی ہے۔ اسی طرح اگر کہیں آن لائن کریڈٹ کارڈ کا نمبر دے دیا جاتا ہے تو اکثر فراڈ کمپنیز کریڈٹ کارڈ ہیک کر لیتی ہیں جن سے کریڈٹ کارڈ ہولڈر کو ایک بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر کسی سے دشمنی نکالنی ہے تو اس کے نام اور تصاویر کے ساتھ نقلی آئی ڈی بنا لی جاتی ہے اور اس پہ ایسا مواد ڈالا جاتا ہے جس سے دوسروں کے جزبات کو ٹھیس پہنچے اور نفرت کا باعث بنے۔ اس کی تازہ مثال پچھلے دنوں مردان میں آنے والے واقعے کی ہے۔ اکثر لوگ دوسروں کی وائی فائی کا پاسورڈ بھی چرا لیتے ہیں جس سے وائی فائی کے اصل مالک کو اسپیڈ اور ڈیٹا کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آج کل انٹرنیٹ بینکنگ بہت عام ہو گئی ہے کیونکہ لوگوں کو گھر بیٹھے سہولت میسر آجاتی ہے اس لئے لوگ شوق سےآن لائن ٹرانزیکشن کرتے ہیں تو سائبر کرمنلز بھرپور کوشش کرتے ہیں کہ ان اکاؤنٹس کے پاسورڈ ان کے ہاتھ لگ جائے۔

سائبر حملہ، عام جنگ کے برخلاف زیادہ خطرناک ہے کیونکہ اس میں نقصان کی ریکوری کے چانسس بہت کم ہوتے ہیں۔ برسوں کی محنت اور قیمتی ڈیٹا چند سیکنڈوں میں تباہ کر دیا جاتا ہے۔ اس لئے کوشش کریں کہ اپنا پاسورڈ ہر تھوڑے دن بعد تبدیل کریں، اکثر چیک کر لیا کریں کہ آپ کے نام سے سوشل میڈیا پہ کوئی آئی ڈی تو نہیں چلائی جا رہی اگر ایسا ہے تو فوراً رپورٹ  کریں، حتی المکان کوشش کریں کہ کسی سائٹ پہ اپنا کریڈٹ کارڈ نمبر  نا دیں، اپنے ذاتی ای میل اکاؤنٹس اپنے ہی کمپیوٹر سے لاگ ان کریں اور کسی دوسرے کے کمپیوٹر سے اپنی آئی ڈی یا اکاؤنٹ لاگ ان کرنا بھی پڑ جائے تو ہسٹری ڈیلیٹ کر دیں۔ ان چھوٹی چھوٹی احتیاط سے آپ ایک بڑی پریشانی سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube