Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

بہت یاد آتے ہیں

SAMAA | - Posted: May 20, 2017 | Last Updated: 5 years ago
SAMAA |
Posted: May 20, 2017 | Last Updated: 5 years ago

Define-Why-Pakistani-People-Go-Abroad

کاغذ اور قلم نکالا ، حال احوال لکھنے بیٹھ گئے، اپنی سنا دی اور ان کی پوچھ لی۔ خط کو ڈاک میں ڈالا، ہفتہ بھر میں پہنچ ہی جاتا اور اگلے ہفتہ بھر میں جواب موصول ہو جاتا۔ یوں مہینے میں دو ملاقات خط کے ذریعے سے ہو جاتیں۔ پھرمواصلاتی زرائع میں تیزی سے ترقی ہوتی گئی خط کی جگہ ٹیلی فون نے لے لی ، ٹیلی فون ، موبائل فون میں بدل گیا۔ انٹرنیٹ کی آمد کے بعد دنیا کا نقشہ ہی بدل گیا ہو جیسے۔اب نا ڈاکئے کا انتظار رہا نا ٹیلیفون کی بیل بجنے کا۔ مہینوں سالوں تک پردیس میں بسے جن پیاروں کو دیکھنے یا آواز سننے کو آنکھیں ترستی اب منٹ بھر میں ان کی ہر خبر سے با خبر رہا جا سکتا ہے بلکہ براہِ راست بھی ان کی ایکٹیویٹیز دیکھ سکتے ہیں۔ جیسا کہ شادی بیاہ کے موقع پر اکثر لوگ لائیو ویڈیو کالنگ کے ذریعے تقریب میں شریک ہو کے پوری تقریب انجوائے کرتے ہیں۔

مانا کہ ٹیکنالوجی نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ اب کوسوں دور بیٹھے اپنے پیاروں سے رابطے میں رہنابے حد آسان ہو گیا ہے مگر یہ تو پردیس میں رہنے والوں کے دل سے ہی پوچھیں جب خاص کر اہم تہواروں کے موقع پر اپنے گھر کی اور گھر والوں کی یاد ستاتی ہے یا کوئی خبر سن لو تو دل چاہتا ہے پل بھر میں اڑ کر اپنوں کے پاس پہنچ جائیں۔ اس بات سے انکار نہیں کہ پاکستان کے معاشی حالات نے بہت سے لوگوں کو بیرونِ ملک جانے پہ مجبور کیا کیونکہ وہاں مناسب روزگار کے ساتھ ساتھ اچھا معاوضہ اور دیگر سہولیات بھی میسر آتی ہیں۔

M_Id_419789_asd

بیرونِ ملک جا کر اپنے گھر والوں کو ہر سہولت میسر کرنے والے بہت سے ایسے افراد ہوتے ہیں جو کہ بہت محدوداتِ زندگی کے ساتھ گزر بسر کر رہے ہوتے ہیں لیکن اپنے گھر والوں کو اس کی خبر نہیں دیتے۔ سوائے سب اچھا ہے کے کوئی تکلیف یا پریشانی نہیں بتاتے کہ سن کر اپنے پیارے بے چین ہو جایئں گے۔ بلکہ زیادہ تر شادی شدہ مرد حضرات کی یہ ہی کوشش ہوتی ہے کہ کوئی ایسا انتظام ہو جائے کہ جلد از جلد اپنی فیملی کو بھی اپنے ہی پاس بلا لیں۔ مگر اکثریت ایسے افراد کی ہے جو اپنے خاندان سے دور تن تنہا رہنے پہ مجبور ہیں ۔

اپنے ملک میں بھلا قدر نا ہو لیکن پردیس میں اگر اپنے وطن کے کسی بھی علاقے کا کوئی فرد مل جائے بس وہ ہم وطن ہے تو اس سے بڑی ڈھارس ہو جاتی ہے، اپنے خیالات اور دل کا بوجھ ہلکا کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔

au8-1

.اپنے ملک کے کچھ مخصوص سوغاتیں اور تہوار ایسے ہوتے ہیں جن کا مزہ دنیا میں کہیں بھی نہیں آتا، اگر پاکستان کے حوالے سے بات کی جائے تو یومِ آزادی پہ ہونے والی رونق اور شورو غل دنیا میں اور کہاں ملے گا، محرم میں پکنے والا حلیم اور یاروں کے ساتھ رات رات بھر کے ڈیرے جمانا ،ایسا مزے کو کون یاد نا کرے، چاہے پورا سال ساتھ ایک دستر خوان پہ نا ہونا لیکن رمضان المبارک میں سب گھر والوں کا افطار پہ جمع ہو جانا ، بقرہ عید آنے سے پہلے منڈی کے چکر کاٹنا اور اپنے قربانی کے جانور دس دن پہلے لا کے خوب یار دوستوں کے ساتھ اس کی خدمت میں لگ جانا۔ ایسا ماحول اور خوشی پردیس میں میسر نہیں۔ اور ان کی محرومی کا احساس اپنے وطن سے دور بسنے والے سے زیادہ اور کون کر سکتا ہے۔

343057_39875953

اکثر افراد جو اپنے گھر میں رہتے ہوئے اپنی فیملیز پہ زیادہ توجہ نہیں دیتے ان کو پردیس میں رہ کے اس بات کا شدت سے احساس ہوتا ہے۔ باہر رہ کے ہی خاندانی نظام کی اصل اہمیت اور قدر پیدا ہوتی ہے۔ بہت سےلوگ ایسے بھی ہیں جو بیرونِ ملک رہ کے مذ ہب سے اور قریب ہو جاتے ہیں جب کہ ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو پردیس کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔

بات باہر بسنے والوں کی ہو تو صرف کمانے والے نہیں بلکہ اکثر لڑکیاں بھی شادی ہو کے شوہر کے ساتھ بیرونِ ملک چلی جاتی ہیں جن کو اپنا میکہ شدت سے یاد آتا ہے خاص کر اولاد کی پیدائش یا بیماری کی صورت میں ، اور دوسری طرف والدین اور بھائی بہن بھی ان کو بے چینی سے یاد کرتے ہیں، اگر دیکھا جائے تو اپنی فیملی کے ساتھ اپنے ملک میں اچھا روزگار میسر آنا اور پر سکون زندگی بسر کرنا بھی بڑی نعمت ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube