ملتان کا میٹرو منصوبہ؛اہداف حاصل کرنے میں کیوں ناکام؟

May 19, 2017

WhatsApp Image 2017-05-11 at 15 04 47 (1)

تحریر: عامر اقبال

ویسے تو ملتان سمیت پورا جنوبی پنجاب مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ جہاں صحت تعلیم جیسی بنیادی ضروریات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔حکمران بھی مسائل کے حل کی بجائے نمائشی پروجیکٹ یہاں لے آتے ہیں جس سے عام عوام کو کچھ لینا دینا نہیں ہوتا۔ان اربوں روپے کا میٹرو بس سروس کا منصوبہ بھی شامل ہے جو صرف ملتان کا نہیں بلکہ پورے جنوبی پنجاب کا بہت بڑا منصوبہ ہے جسے اٹھائیس اعشاریہ چھ ارب کی ایک بہت بڑی رقم سے تین سال کے عرصہ میں مکمل کیا گیا۔  دوہزار چودہ میں ملتان میں میڑو بس پروجیکٹ لانے کا اعلان کیا گیا اس وقت بھی مجھ جیسے کئی کم فہم انسانوں نے اس پروجیکٹ پر خاصی تنقید کی تھی کہ جناب جس شہر کے باسی بھوک ننگ سے تنگ ہوکر اپنے بچوں سمیت اجتماعی خودکشیاں کررہے ہوں وہاں میٹرو جیسی شاہی سفر سہولت کیا فائدہ۔

WhatsApp Image 2017-05-11 at 15 05 18 (6)

دوسرے نمبر پرآجائیں ملتان ،چونکہ جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا شہر ہے اور اس کا نشتر اسپتال بھی بہت بڑا اسپتال ہے جہاں سستا اور سرکاری خرچ پر اچھے علاج کی وجہ سے نہ صرف قرب و جوار بلکہ خیبر پختونخواہ، بلوچستان سندھ اور جنوبی پنجاب کے مختلف دیہی و شہری علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد علاج کی غرض سے آتے ہیں ۔لیکن وہاں پر سہولیات کے فقدان کے باعث لوگ برآمدوں اور سخت گرمی میں کھلے آسمان کے نیچے بیٹھنے پر مجبور ہوتے ہیں اور تعلیمی نظام بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔

WhatsApp Image 2017-05-11 at 15 05 18 (1)

اگر حالات یہ ہوں کہ پیٹ میں روٹی نہ ہو تو کون آدم ذات میٹرو کے جھولے لینا پسند کرے گا؟ اب اس درد دل کے بعد کچھ میٹرو پروجیکٹ کی تفصیل سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ میٹرو پروجیکٹ اٹھارہ اعشاریہ پانچ کلومیڑ پرمحیط ہے۔ اس کے اکیس اسٹیشن بنائے گئے ہیں،مکمل تعمیر پر اٹھائیس اعشاریہ چھ ارب روپے لاگت آئی۔  اس کے افتتاح کیلئے چوبیس جنوری دوہزار سترہ کوجامعہ زکریہ میں ایک شاہانہ تقریب منعقد کی گئی جس میں وزیراعظم پاکستان جناب میاں محمد نواز شریف،  وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف اور گورنر پنجاب ملک رفیق رجوانہ صاحب سمیت کئی سیاستدان اور مجھ سمیت کئی عام افراد نے شرکت کی ۔افتتاح کرنے کے بعد اس تقریب میں وزیراعظم اور وزیراعلی نے اپنی اپنی تقریر میں بڑے بڑے دعوے کیے۔ وزیراعلیٰ نے تو فرمادیا کہ ترانوے ہزار سے زائد افرادملتان میٹرو پر روزانہ سفری سہولیات سے مستفید ہوسکیں گے اور یہ ان کی طرف سے ملتان اور جنوبی پنجاب کی عوام کیلئے بہت بڑا تحفہ ہے۔ مگر ہوا کیا؟ ۔

WhatsApp Image 2017-05-11 at 15 04 47 (2)WhatsApp Image 2017-05-11 at 15 04 47 (3)

اب وزیراعلیٰ کو تھوڑا میٹروکی ناکامی کا بھی بتا دیتے ہیں کہ جناب اعلیٰ ملتان میٹرو پر روزانہ پچیس سے تیس ہزارمسافرسفر کرتے ہیں۔ مسافروں کی کمی کے باعث پینتیس بسوں میں سے دس بسوں کو کم کردیا گیا ہے ،اب صرف پچیس بسیں میٹرو روٹ پربھائیں بھائیں کرتی نظر آتی ہیں۔ادھر میٹرو انتظامیہ کے مطابق ڈائیوو کمپنی کو سرکار فی بس فی کلومیڑ دوسو اسی روپے ادا کرتی ہے۔  ایک بس دن میں آٹھ چکر لگاتی ہے اور اس حساب سے پچیس بسوں کو روزانہ اٹھارہ کلومیڑ کے ٹریک پر آٹھ چکر لگانے ہوتے ہیں۔  سرکار کو دس لاکھ اآٹھ ہزار روپے یومیہ ادا کرنے پڑتے ہیں جبکہ دیگراخراجات اسکے علاوہ ہیں۔

WhatsApp Image 2017-05-11 at 15 05 18 (2)

ابھی تو مسافروں کا ہدف پورا کرنے کیلئے مزید ایک سو فیڈرروٹ بسیں بھی خرید لی گئی ہیں ،مطلب اٹھارہ کلومیڑ کے ٹریک کو کامیاب کرنے کیلئے پچیس کلومیڑ سے زائد کے سفر سے مسافروں کو لایا جائے گا تاکہ وہ بیٹھ سکیں اور ہدف پورا ہوسکے تا کہ یہ کامیاب شاہکار منصوبہ قرار دیا جاسکے۔ میٹرو کو کامیاب کرنے کیلئے کئی اقدامات کیے گئےلیکن تمام طریقے ناکام ہوچکے۔ یونیورسٹی کی بسوں کو میٹرو روٹ سے روکنے کی کوشش کی گئی ،اس میں بھی ناکامی ہوئی کیونکہ کون سے طالبعلم اتنی گرمی میں کئی کلومیٹردورمیٹرو اسٹیشن تک آئیں گے۔وسری سب سے بڑی ناکامی جسے خود میٹرو پروجیکٹ کے جنرل میجر ظاہر شاہ صاحب بھی مان چکے ہیں کہ چنگچی رکشہ نے میڑو جیسے دیو قامت پروجیکٹ کو ناکام بنادیا ہے ۔ تیسری ناکامی غلط روٹ بنانا ہے، جہاں سے مسافروں نے سفر کرنا تھا ان روٹ کو مقامی بااثر سیاستدان ختم کراکے اپنے حلقوں میں لے گئے تاکہ دوہزار اٹھارہ کا الیکشن جیت سکیں۔

میٹرو کا مقصد ملتان سمیت جنوبی پنجاب کی عوام کا احساس محرومی ختم کرنا اور دوہزار اٹھارہ کے الیکشن میں یہاں سے مسلم لیگ ن کی جیت تھا لیکن اگر یہ مسائل اسی طرح جاری رہے تو دوہزار اٹھارہ میں حکمران جماعت کیلئے پریشانیوں میں کمی کی بجائے مزید اضافہ ہوجائے گا۔

Email This Post
 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
 

ضرور دیکھئے