عدم برداشت،  ناقابل برداشت

By: Samaa Web Desk
May 18, 2017

mashal1

۔۔۔۔۔**  تحریر: طاہر نصرت  **۔۔۔۔۔

خود گواہ، خود وکیل اور خود ہی منصف، مانسہرہ کے علاقے دلولہ میں مشتعل ہجوم نے اپنی ہی عدالت لگالی، ناجائز تعلقات کے شبہے میں لوگوں نے نوجوان کو ڈنڈوں، لاٹھیوں سے زد و کوب کیا، پتھر مار کر لہولہان کردیا، برہنہ کرکے گھسیٹا اور آخر میں گولی مار کر قتل کردیا، پولیس پہنچی بھی تو 2 گھنٹے بعد، جب تشدد کا شکار نوجوان آخری سانسیں لے رہا تھا۔

مجرم کون ہے؟، اس کا فیصلہ قانون نے کرنا ہے لیکن جن معاشروں میں طوائف الملوکی کا دور دورہ ہوتا ہے وہاں قانون صرف کمزوروں کیلئے رہ جاتا ہے، ایسے معاشرے میں ہر طاقتور خود وکیل بھی ہے، دلیل بھی اور عدالت بھی، مشال قتل کیس ہو یا مانسہرہ میں بپھرے ہجوم کے ہاتھوں نوجوان کا قتل، بحیثیت مجموعی ہمارا معاشرہ کس جانب گامزن ہے؟، سمجھنے کیلئے یہ دو واقعات ہی کافی ہیں۔

مہذب دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی مگر ہم اب بھی پرانی ڈگر پر پرانی ریت و رواج کو اپنائے گزرے کل میں جی رہے ہیں، پتھر کا زمانہ ہزاروں برس پہلے گزر چکا مگر ہم پھر بھی ’’اسٹون ایج‘‘ میں گزر بسر کررہے ہیں۔

آخر وہ صبح کب طلوع ہوگی جب ہم بھی مہذب دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے، افسوس کی بات تو یہ ہے کہ انسان چاند پر پہنچ گیا، خلاء کی سیر اور مریخ پر زندگی کے آثار ڈھونڈ رہا ہے۔ مگر ہم ابھی تک انسانیت بھی تلاش نہ کرسکے، آخر وجہ کیا ہے؟۔

1

کیا ہمارا معاشرہ عدم برداشت کا شکار ہے یا ہمیں ہمارے نظام انصاف پر یقین نہیں ہے؟، ہم کہاں جارہے تھے ہم کہاں پہنچنے والے ہیں؟، روز روز اخبارات پڑھتے ہیں اور روز روز ایک جیسے واقعات رپورٹ ہورہے ہوتے ہیں، بس نام اور پتہ مختلف ہوتا ہے، کراچی سے خیبر تک کہیں بیروزگاری سے تنگ نوجوان زندگی کا خاتمہ کررہے ہیں، کہیں اولاد نرینہ نہ ہونے پر بیوی پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگائی جاتی ہے، کہیں جائیداد کا تنازع ہنستے بستے گھرانوں کو اجاڑ دیتا ہے تو کہیں انا کی قید میں رہنے والے دوسروں کی زندگی سے کھلواڑ کردیتے ہیں۔

یہ سب کیا ہے؟، غربت و تنگدستی ہے؟، بیروزگاری یا ماحول سے بیزاری؟، برداشت کا فقدان ہے؟، احساس کمتری ہے؟، دوسروں کو پیچھے چھوڑنے کا لالچ؟، نفسا نفسی ہے؟، ناممکن سے ممکن کی طرف سفر ہے یا خواہشات کا انبار؟۔

1c

ہماری پریشانیوں کی سب سے بڑی وجہ ہماری خواہشات ہیں، ہم اگر اس بے لگام گھوڑے کو قابو کرلیں تو ہمارے 70 فیصد مسائل حل ہوسکتے ہیں کیونکہ جب خواہشیں پوری نہیں ہوتیں تو بے چینی بڑھنے لگتی ہے اور یہی بے چینی طبیعت میں اضطراب کا باعث بنتی ہے، جس کے بعد انسان مایوسیوں کے ایسے صحرا میں اتر جاتا ہے جہاں نہ تو برداشت کے پھول کھلتے ہیں اور نہ ہی پیار و محبت کی بارش ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق خطے کی آب و ہوا انسانی مزاج پر اثر انداز ہوتی ہے،  شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستانی آب و ہوا کی طرح یہاں کے لوگوں کے مزاج میں بھی شدت پائی جاتی ہے، گرمی بڑھتی ہے تو شدت کا غلبہ بڑھتا ہے، ٹھنڈی رت آتی ہے تو لوگ سرد مہری کی دبیز چادر اوڑھ لیتے ہیں۔ ؎

نفرت ہو تو بے حد ہو، محبت ہو تو بے پایاں

کوئی بھی کام کم کرنا مجھے ہر گز نہیں آتا

1a

برداشت اور مستقل مزاجی کا آپس میں گہرا رشتہ ہے، اگر نفسیاتی طور پر دیکھا جائے تو جس بندے میں برداشت ہوگی وہ بلا کا مستقل مزاج بھی ہوگا، برداشت کامیابی کی طرف پہلا قدم ہے تو مستقل مزاجی وہ اڑن کھٹولہ ہے جس میں اڑ کر انسان بام عروج پر پہنچتا ہے۔

برداشت اور مستقل مزاجی کا یہ فارمولہ صرف انفرادی سطح پر ہی نہیں بلکہ اجتماعی طور پر بھی نافذ ہوتا ہے، ماضی کا افیونچی چین آج دنیا بھر کا بے تاج بادشاہ بن بیٹھا ہے، برطانیہ سے ’’اوپیم وار‘‘ میں بری طرح پٹنے والے آج پوری دنیا کی باگ ڈور سنبھالنے والے ہیں۔

1b

مایوسیوں کی دلدل میں پھنسی قوم کو دور اندیش قیادت نصیب ہوئی تو چین کا چرچا پورے عالم میں ہوا، ماوزے تنگ نے ’’ریڈ بک‘‘ کے ذریعے اپنی قوم کو آگے بڑھنے کیلئے برداشت کی نصیحت کی، مستقل مزاجی اور اول العزمی کا درس دیا اور نئی صبح کی نوید دی۔

دل پر ہاتھ رکھ کر فیصلہ کیجئے کیا ہمارے معاشرے کو صحت مند معاشرہ کہا جاسکتا ہے؟، کیا یہاں شر میں خیر کے پہلو ٹٹولے جاتے ہیں؟، تنقید میں تعمیر کے عنصر شامل ہیں؟، اختلاف کو خندہ پیشانی سے سہا جاتا ہے؟، کیا یہاں آئینوں کا کاروبار نابیناؤں کے ہاتھ میں نہیں؟، ہم شاید بھٹکی ہوئی قوم ہیں جسے ایک ایسے لیڈر کی تلاش ہے جو اس طوفاں خیز وقت میں اس قوم کا ہاتھ تھام لے اور مایوسی کی بجائے اُمید کے خواب دے۔

Email This Post
 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.