سی پیک منصوبےکی شفافیت پرسوالات

May 18, 2017

cpecreuters

سی پیک پاکستان اورچین کا مشترکہ اقتصادی منصوبہ ہے۔ اس کا کریڈٹ موجودہ حکومت اپنے سر لےرہی ہے۔اس کا کریڈٹ لینے کی بات سابق صدر آصف زرداری اور سابق صدر پرویز مشرف بھی کرچکے ہیں مگر گذشتہ دونوں ادوارمیں یہ منصوبہ دستاویزات یا افتتاح تک ہی محدود رہا۔ اس کو عملی جامہ بہرحال موجودہ حکومت نے ہی پہنایا اور اس منصوبے کا باقاعدہ آغاز موجودہ حکومت نے ہی کیا۔

اس منصوبے کی معلومات یا سوالات کے حوالے سے اپوزیشن اور میڈیا شور ڈالتا رہا ہے۔ قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی کے ارکان متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ اس منصوبے کے بارے میں معلومات فراہم کی جائِیں مگر حکومت نے اس منصوبے کی تفصیلات بتانے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی اور اس منصوبے کے بارے میں عام آدمی کو صرف یہی معلوم ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان ایک سڑک تعمیر ہوگی، توانائی کے منصوبے تیار کیئَے جائیں گے،کچھ مقامات پر انڈسٹریل یونٹ قائم کیے جائیں گے،گوادر پورٹ سب سے جدید پورٹ ہوگی وغیرہ وغیرہ ۔ ڈان اخبار میں اس منصوبے پر آرٹیکل آنے کے بعد اس کی شفافیت پر کافی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ چین پاکستان میں اہم مقامات کی نگرانی کرے گا، فائبر آپٹک لنک بھیجا جائے گا، سیف سٹی پراجیکٹ ہونگے، ان شہروں کی الیکٹرانک مانیٹرنگ کی جائے گی اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر بھی بنائیں جائیں گے۔ یہ نگرانی کون کرے گا اس حوالے سے تفیصلات نہیں بتائیں گئیں۔

Russia On Cpec PKG NEW 22-12

اس مسودے کے مطابق چین پاکستان میں زراعت کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری بھی کرے گا۔ پھلوں اور سبزیوں کو محفوظ کرنے کے لیے چینی کمپنیاں اپنے زرعی فارم اور فیکٹریاں بھی لگائیں گی اور اس مقصد کے لیئے چین ہزاروں ایکڑ زمین لیز پر بھی لے گا۔اب یہ تمام نکات وہ ہیں جو آج سے پہلے کسی کو معلوم نہیں تھے۔تمام صوبائی حکومتوں کو بھی یہی شکایت ہے کہ لانگ ٹرم منصوبے کی تفصیلات نہیں بتائیں گئیں اور کے پی کے حکومت کا کہنا ہے کچھ صفحات بھیج کرصرف پانچ دن کا وقت دیا گیا۔اس منصوبے پر جس پر خود وفاقی حکومت دوسال سے کام کررہی ہے، اب وفاقی وزیر احسن اقبال کو چاہیے تھا کہ وہ اخبار میں شائع ہونے والے مسودے کے ایک ایک اعتراض کا جواب دیتے تاکہ تمام شکوک و شہبات کو ختم کردیا جاتا مگر وفاقی وزیر نے اس آرٹیکل کو ہی سازش کہہ دیا اور حب الوطنی کے خلاف قرار دے دیا ۔

ہونا یہ چاہیےتھا کہ اس منصوبے کی تفصیلات حکومت، پارلیمنٹ میں زیربحث لاتی ،اپوزیشن کو اعتماد میں لیتی، صوبوں کو مطمئن کرتی مگر ایسا کچھ نہ ہوا اور جب اس کی تفصیل کسی اخبار میں آئی اور میڈیا میں آئی  تو وہ میڈیا جو گزشتہ دوسالوں سے اس منصوبے کی معلومات لینے کے لیے شور ڈال رہا تھا اس کو منطقی جواب دینے کے بجائےاورمنصوبےکےحتمی ڈرافٹ کےبارےمیں بتانےکےبرعکس یہ کہہ دینا کہ یہ ڈان لیکس ٹو ہے،کیا اتنی سی تردید کافی ہے؟ جو اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں وہ کبھِی بھی نہ اٹھائے جاتے اگر آپ بھِی چین کی طرح اس منصوبے کی بحث پارلیمنٹ،یونیورسٹی،ٹریڈیونین لیول پرکرواتے۔کبھی شکوک وشہبات جنم نہ لیتےاگر صوبائی حکومتوں کو اس منصوبے کی تفصیلات کے اکتیس صفحے بھیجنے کی بجائے تمام دو سو اکتیس صفحے بھیجے جاتے اور متعلقہ اداروں کو بھی اعتماد میں لیا جاتا۔

احسن اقبال نے آرٹیکل لکھنے والے پر ایک خاص زاویے سے لکھنے کا الزام لگایا ۔ موجودہ حکومت کا معمول ہے کہ چیزوں کو پوشیدہ رکھا جائے۔معلومات کی پہنچ سے میڈیا کو دور رکھا جائے۔فیصلےکرنےسےپہلےڈبیٹ کروانے کی بجائے اپنی من مانی کی جائے۔ جب یہ سب ہوگا تو اعتراضات اور سوالات بھِی ہونگے۔

سی پیک منصوبہ حقیقت میں ملک کے مفاد میں ہے مگر اگر آج اس پر سوالات اور اعتراضات کی ذمہ دار بھِی خود حکومت ہی ہے اورچین نے جیسے اپنے مفادات کومدنظر رکھا ہے جو کہ اس کا حق بھی ہے۔اس منصوبے کی کامیابی اور اس کے دوررس فائدے کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقوں کو اعتماد میں لیا جائے۔ جو معلومات فراہم کی جاسکتی ہیں وہ کی جائیں ۔ شفافیت کا خیال رکھا جائے اور ملکی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

Email This Post
 

:ٹیگز

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.