Tuesday, January 25, 2022  | 21 Jamadilakhir, 1443

رام محمد سنگھ

SAMAA | - Posted: Apr 24, 2017 | Last Updated: 5 years ago
Posted: Apr 24, 2017 | Last Updated: 5 years ago

 

9a

شیر سنگھ 26 دسمبر 1899ء کو پٹیالہ کی ریاست ‘سونم’ میں پیدا ہوا، اس کا باپ طہال سنگھ ریلوے کراسنگ پر واچ مین کی نوکری کرتا تھا، 7 سال کی عمر سے پہلے اس کے والدین وفات پاگئے اور 24 اکتوبر 1907ء کو شیر سنگھ اپنے بھائی مکتا سنگھ کے ساتھ سینٹرل خالصا یتیم گھر امرتسر میں رہنے لگا، جہاں انہیں نئے نام ملے  شیر سنگھ کو ‘ادھم سنگھ’ اور مکتا سنگھ ‘سادھو سنگھ’۔ 1917ء میں ادھم سنگھ کا بھائی فوت ہوگیا جس کے بعد وہ دنیا میں اکیلا رہ گیا، 1918ء میں میٹرک پاس کرنے کے بعد ادھم سنگھ نے  یتیم خانہ چھوڑ دیا۔

اپریل کی 10 تاریخ 1919ء کو 2 قومی لیڈروں ‘ڈاکٹر سیف الدین’ اور ‘ڈاکٹر ستیا پال’ کو پنجاب سے گرفتار کرلیا گیا، 13 اپریل 1919ء کو  جلانوالہ باغ میں لوگ احتجاج کیلئے اکھٹے ہوئے جس میں مرد، عورتیں اور بچے شامل تھے، پُرامن احتجاج جاری تھا جب جنرل ڈائر کے حکم پر بغیر خبردار کئے گولیاں چلنے سے 1 ہزار سے زائد افراد مارے گئے، اس دن ادھم سنگھ وہاں موجود تھا، اس دردناک اور غمناک واقعے نے اودھم سنگھ کو انقلاب کے راستے پر ڈال دیا، ادھم سنگھ، بھگت سنگھ سے بہت متاثر تھا، اسے  اپنا گرو مانتا تھا، رام پرساد بسمل جو کہ انقلابیوں کا شاعر تھا اس کا بھی ادھم سنگھ شوقین تھا۔

9

جلد ہی اس نے انڈیا چھوڑ دیا اور امریکا چلا گیا، وہاں سے واپسی پر چھپا کر کچھ ریوالور لاتے ہوئے پکڑا گیا اور اسے 4 سال کی قید ہوئی، 1931ء کو جب وہ آزاد ہوا تو سونم واپس چلا گیا، جہاں مقامی پولیس کے اسے ہراساں کرنے پر وہ ایک بار پھر امرتسر واپس آگیا اور ایک سائن بورڈ پینٹر کے طور پر دوکان کھول لی، ایک بار پھر اس نے انڈیا چھوڑا لیکن اب کی بار اس کا انڈیا چھوڑنے کا مقصد جلانوالہ باغ کا بدلہ لینا تھا اور انگلینڈ چلا گیا، وہاں وہ اس موقع کی تلاش میں رہا، لمبے انتظار کے بعد 13 مارچ 1940ء کو وہ لمحہ آن پہنچا، اس دن 4:30 بجے ایسٹ انڈیا ایسوسی ایشن کی کیکسٹن ہال میں میٹنگ ہورہی تھی، ادھم سنگھ نے سر مائیکل او ڈائر پر 5 سے 6 فائر کئے اور جنرل ڈائر کی جان لے لی، ادھم سنگھ نے بھاگنے کی کوئی کوشش نہ کی اور یہ کہتا رہا کہ اس نے اپنے ملک کیلئے اپنا فرض ادا کر دیا۔

9b

چار جون 1940ء کو سینٹرل کریمینل کورٹ ‘اولڈ بیلی’ میں جسٹس ایٹکنسن کے سامنے اس کا ٹرائل ہوا، جس نے اسے موت کی سزا دی، ایک اپیل بھی اس کی طرف سے فائل کی گئی جو کہ 15 جولائی 1940ء کو خارج کردی گئی اور 31 جولائی 1940ء کو ادھم سنگھ کو  ‘پینٹن وائل’ جیل لندن میں پھانسی دے دی گئی، جسے اس نے بخوشی قبول کرلیا۔

ٹرائل کے دوران جج اور اودھم سنگھ کے درمیان یہ مکالمہ ہوا۔

انگریز جج نے پوچھا: تیرا نام کیا ہے؟

اودم سنگھ بولا : رام محمد سنگھ۔

انگریز جج: یہ کیسا نام ہے؟، تیرا مذھب کیا ہے؟

بولا: ہندوستان۔

انگریز جج نے پوچھا : حلف کس پر اٹھائے گا؟

بولا : ہیر وارث شاہ۔

9c

ادھم سنگھ نے کہا میں نے یہ اس لئے کیا کیونکہ مجھے جنرل ڈائر پر غصہ تھا اور وہ اسی کا مستحق تھا، وہ اصل مجرم تھا، وہ میرے لوگوں کا حوصلہ ختم کرنا چاہتا تھا، سو میں نے اسے ختم کر دیا، 21 سال سے میں بدلہ لینے کی کوشش میں تھا اور میں خوش ہوں کہ میں نے اپنا کام پورا کردیا۔ میں موت سے ڈرتا نہیں ہوں، میں اپنے وطن کیلئے مررہا ہوں، برٹش حکومت کے اندر میں نے اپنے لوگوں کو بھوک سے مرتے دیکھا ہے، میں اس کیخلاف احتجاج کرتا ہوں اور یہ میرا فرض ہے، اس سے زیادہ کرم مجھ پر کیا ہوسکتا ہے کہ اپنے وطن اور اپنے لوگوں  کی خاطر جان دے دوں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube