قلم رہے اورسربھی

By: Imran Khushal
April 23, 2017

920250-JournalistbeatenSTOCKIMAGE-1436813834-621-640x480

میں ایک گم نام لکھاری ہوں۔ میرا المیہ ہرگم نام شاعر ،ادیب اور مصنف کا  المیہ ہے۔ اور وہ المیہ یہ ہے کہ میرے شعروں پر میری موت کے بعد واہ واہ ہوگی۔ میرے لکھے کو میرے مرنے کے بعد سراہا جائے گا اور میری تصانیف تب تمہارے کتب خانوں میں ہوں گی جب میں نہیں ہوں گا۔مجھے تمھاری داد نہیں چاہیے۔ میں نہیں چاہتا کے تم میری مداح سرا ئی کرو  یا میری کتابوں سے اپنی کتب خانے سجاو ۔ میں تو یہ بھی نہیں چاہتا کہ تم مجھے پڑھنے کی زحمت کرو!  ہاں سچ کہہ رہا ہوں اگر تم ’’پڑھنے والے ‘‘ نہیں تو میں نہیں چاہتا کے تم میرے لکھے کو پڑھو!۔

میں تو بحثیت ِ گم نام لکھاری  لکھنے کی آزادی چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ میں جو محسوس کروں وہ تحریر کروں ۔ اپنی خوشی کو نظم کروں اپنے غم کی غزل کہوں۔ میرے اطراف میں جو بھی ہو رہا اس کو رقم کروں، چپ نہ رہوں، کچھ نہ کچھ کہوں، کچھ تو لکھوں۔ اپنی پہلی تحریر کے ’’رد‘‘ ہونے  پر پتا چلا کہ ’سچ‘ کڑوا نہیں ’ننگا ‘ہے اور کوئی بھی اسے تب تک چھاپنے کو تیار نہیں جب تک اسے نفیس کپڑے نہ پہنائے جائیں۔ اپنی دوسری تحریر کے ’’رد‘‘ ہونے  پرآشکار ہوا کہ اس ملک میں رہنا ہے  اور لکھتے ہوئے رہنا ہے تو اپنے  اردگرد کے مقدس گائے بچھڑوں کو پہچانوں اور اپنی جان کی امان کے لیے ان کا احترام کروں۔ کم از کم ان پر کچھ نہ لکھوں۔

AnonCensored2

گم نامی میں جینے یا گم نامی میں مرنے  میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو تو ہر عقلیت پسند جینے کو مرنے پر ترجیح دے گا سو میں نےبھی یہی کیا اور خود کو سکھا یا کہ’’ بھائی’’  مذہب  اور ریاست ‘‘ پر کچھ مت لکھنا ۔تم کو منانے کے لیے کوئی دلیل نہیں دوں گا ،کوئی منطق نہیں سمجھاؤں گا ،بس جان چاہیے تو مت لکھنا‘‘۔ اس لیے نہیں لکھا۔ اور سوچا کہ’’ بے وقوف ہیں وہ لوگ جو مذہب پر لکھتے ہیں ریاست کو برا بھلا کہتے ہیں‘‘۔ اور بھی تو کتنے موضوعات ہیں جن پر لکھا جا سکتا ہے۔ سیاست ہے ،تجارت ہے، صحافت ہے، سیاحت ہے، کتنا کچھ ہے۔اب میں ان میں سے کسی پر لکھوں گا۔

fountain_pen

سو سیاست سے نیا آغاز کیا ۔ لیکن سیاست پر لکھا  تو کبھی مذہبی جماعتوں سے دھمکیں ملیں اور کبھی ’نون‘ اور’ جنون‘ سے گالیاں۔ ڈر گیا ۔توبہ کر لی۔موضوع بدل لیا۔ تجارت پر لکھا تو پتا چلا کہ اس ملک کے تاجروں کے ہاتھ بے گناہوں کے خون سے رنگےہیں  اور دہشت کے سرمائے سے سول و فوجی ہر طرح کی تجوریاں بھری ہیں۔ سوچا سچ اچھا ، کوئی اور کہے تو اور اچھا، تم بھی کوئی منصور ہو جوسولی چڑھو ۔ چپ رہو، سو چپ رہا۔اپنے اندر کے خوف زدہ لکھاری کو زندہ رکھنے کے لیے بے ضررموضاعات کا انتخاب کیا۔اچھا کیسے لکھا جائے۔ انگلش کیسے سیکھی جائے۔ کتابیں کون سی پڑھی جائیں ۔وغیرہ وغیرہ ۔ جانتا تھا کہ ذاتی اچھائی اور برائی کبھی  بھی نظام کی تبدیلی کا متبادل نہیں ہو سکتی ۔پر کیا کرتا نہ لکھنے سے لکھنا بہتر ہے کہ اصول کو سچ مان لیااور لکھتا رہا۔

4815205632_632ee48a71_b

پھر خیال آیا کہ کیوں نہ عالمی حالات  کے بارے لکھا جائے ۔ یہ میری تعلیم سے مطابقت رکھتا ہے اور مستقبل میں کہیں انھی تحریروں کی وجہ سے کوئی نوکری بھی  مل سکتی ہے۔ معجزات تو ہوتے رہتے ہیں۔ خیر کچھ وقت کے لیےلگا کہ ٹھیک فیصلہ کیا ہے۔ اور جب تک انگریزی میں لکھا تب تک کوئی قابلِ ذکر مسئلہ درپیش نہ آیا۔پر جب اردو میں لکھا تو معلوم ہوا کہ عالمی موضوعات پر لکھنا بھی خطرے سے خالی نہیں۔ مثال کے طور پر شام پر لکھی تحریروں کو بشارالاسد کے حق میں سمجھ کر سعودی عرب نواز لابی نے تیر الزام چلائے سنگِ دشنام برسائے۔ انسانی آزادیوں اور ترکی پر لکھی گئی تحریروں کو صدر اردگان کے خلاف سمجھ کر بدنام ِ زمانہ مذہبی سیاسی جماعتوں نے آڑے ہاتھ لیا ۔یمن پر سعودی گولہ باری کے خلاف لکھاتو کہا گیا کہ بھائی آپ تو شیعہ ہو گئے ہیں۔وغیرہ وغیرہ۔

see-no-evil-hear-no-evil-speak-no-evil-600x400

اور ہاں مشال۔۔۔میرے دوست ! میں شرمندہ ہوں۔ میں جب تک تمھاری موت کی خبر سن کر اپنے ہوش ہواس بحال کرپاتا تب تک تم پر بہت کچھ لکھا اور کہا جا چکا تھا۔تب تک تم کہیں شہید اور کہیں ہلاک گردانے جا چکے تھے۔ میرے دوست !میں تمھاری موت پر نوحہ تو لکھ سکتا تھا پر تمھارے لیے انصاف مانگنے کہاں جاتا اور انصاف ممکن بھی کیسے ہوتا؟ کیا تم پھر سے زندہ ہو سکتے ہو؟ یا کوئی یہ یقین دلاسکتا ہے کہ آئندہ کو مشال بے گنا ہ نہیں مرے گا۔  میں نہیں لکھ سکا۔

اب میں ہوں اور میرا قلم ہے پر لکھنے کے لیے کوئی ’’موضوع‘‘ نہیں۔ ایسا موضوع کے جس پر لکھوں تو قلم بھی سلامت رہے اور سر بھی۔ پر قلم بچاتا ہوں تو سر خطرے میں اور سر بچاتا ہوں تو قلم خطرے میں۔

Email This Post
 

:ٹیگز

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.