Monday, October 26, 2020  | 8 Rabiulawal, 1442
ہوم   > بلاگز

سانحہ گیاری

SAMAA | - Posted: Apr 7, 2017 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Apr 7, 2017 | Last Updated: 4 years ago

Veiled women place flowers underneath the portraits of Pakistani soldiers victims of an avalanche, during a ceremony in Peshawar on May 30, 2012. Pakistan on May 29, 2012 declared dead 140 people buried alive by a huge avalanche in a disputed part of the Himalayas more than seven weeks ago. Only three bodies have so far been recovered from the remote glacier, dubbed the world's highest battleground, despite desperate rescue efforts assisted by foreign teams, including from the United States.  AFP PHOTO / A. MAJEED        (Photo credit should read A. MAJEED/AFP/GettyImages)

پانچ سال قبل دو ہزار بارہ اور وہ سات اپریل کی ایک یخ بستہ صبح، دنیا کے بلند ترین محاذ پر گویا قیامت آئی اور چلی بھی گئی، مگر خیبر سے کراچی تک کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوسکی کہ دنیا کے سخت ترین ، سرد ترین اور بلند ترین محاذ پر 139 جوانوں اور افسروں اور سویلین سے آباد گیاری سیکٹر کے بٹالین ہیڈکواٹرز پر کیا گزری۔
Chief of Army Staff, General Ashfaq Parvez Kayani visit to Skardu and Forward Locations at Minimerg and Domel Sectors in Gilgit Baltista
جب سورج نے کونے کونے میں اپنی کرنیں پھیلائیں، تو ہواؤں کے دوش پر یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح آگ ہی لگا گئی، اور چپے چپے میں پھیل گئی، کہ سیاچن کے گیاری سیکٹر میں واقع این ایل آئی سکس کا بٹالین ہیڈکواٹرز گلیئشر کے نیچے آکر ہمیشہ کیلئے کھو گیا۔ اہل خانہ و عزیز و اقارب  تڑپ کر رہ گئے، بس ایک ہی آس و امید کی یا اللہ یہ خبر جھوٹی ہوں، یا اللہ سب کے سب زندہ و خیر و عافیت سے ہوں۔

Pakistan military spokesman Major General Athar Abbas (L) and Chief of Pakistani military operations, Major General Ishfaque Nadeem (C) and Zahra Akbari, director general for South Asia at the Foreign Office attend a press conference in the garrison town of Rawalpindi on April 14, 2012. Pakistani troops began excavating a new site in their search for 138 people buried by an avalanche at a high-altitude army camp despite a fresh slide in the area, the military said .   AFP PHOTO/Farooq NAEEM (Photo credit should read FAROOQ NAEEM/AFP/Getty Images)

Pakistan military spokesman Major General Athar Abbas (R) and Chief of Pakistani military operations, Major General Ishfaque Nadeem speak in a press conference in the garrison town of Rawalpindi on April 14, 2012. Pakistani troops began excavating a new site in their search for 138 people buried by an avalanche at a high-altitude army camp despite a fresh slide in the area, the military said today.   AFP PHOTO/Farooq NAEEM (Photo credit should read FAROOQ NAEEM/AFP/Getty Images)

ایس پی آر کی تو گویا پریس ریلیز کا تانتا بند گیا ہوں، اعلیٰ سول و عسکری قیادت سب حیران و پریشان قوم کو تسلیاں دینے لگے، میں وہ لمحے وہ سعاعتیں کیسے بھولوں، اس خبر کو خبر بنانا گویا میرے لیئے دنیا کا مشکل ترین فارمولا ترتیب دینا تھا، نہ زبان ہاتھ کا ساتھ دے رہی تھی نہ دل دماغ کا، لزرتے ہونٹوں اور کاپتے ہاتھوں سے ٹوٹی پھوٹی جو جو اطلاعات ملیں، اسے خبر کی شکل میں ترتیب دیا اور خبروں کے سمندر کی نظر کردیا۔

Rescue Work by Pak Army at Gayari Sector Siachen 20 april
دوسری جانب برفانی تودے نے جیسے تمام جونوانوں و افسران کو اپنی گود میں سمو لیا، جیسے ایک ماں اپنے فوجی کی عرصے بعد گھر واپسی پر اسے ہاتھوں سے پکٹرتی ہے، سینے سے لگا کر پیار کرتی ہے۔ یک بستہ ہواؤں کے جھکٹراور خون جما دینے والی سردی میں جسد خاکی پر سکون نیند لے رہے تھے۔ سیاچن کی ٹھنڈی چادر اوڑھے جیسے تمام جوان خوبصورت خوابوں میں محو ہو کر ابدی نیند سوگئے اور اعلیٰ ترین رتبہ اور اعزاز ِ شہادت پر فائض ہوگئے۔

سلام سیاچن کے گلابوں !! کہ تم نے اس دھرتی کیلئے صاحب ایمان ہونے کی شہادت دے دی۔

سات اپریل 2012ء بروز ہفتہ گیاری سیکٹر کے مقام پر عسکری شہداء کی جو تاریخ معروض وجود میں آئی وہ ناقابل فراموش ہے، ایک سو انتالیس منتخب ترین عسکری نوجوانوں کا ایسا اجتماع جو رب قدیر کو بھی عزیز تر تھا۔ سب لوگ اپنے اپنے کاموں میں مشغول وطن عزیز کی حفاظت کیلئے سینہ سپر تھے کہ 15 ہزار فٹ کی بلندی سے 80 فٹ اونچا  برفانی تودہ ایل ایل آئی سکس بٹالین کے نوجوانوں اور آفیسر پر قیامت ڈھا گیا اور ہمشیہ کیلئے دور لے گیا، صرف پاکستان ہی نہیں دنیا کی عسکری تاریخ میں ایک درد ناک اور ناقابل فراموش باب رقم کرگیا۔

Family members of a Pakistani man who lost his life in Friday's crash of a Bhoja Air Boeing 737 passenger plane are reflected as they gather around his coffin outside a hospital in Islamabad, Pakistan, Saturday, April 21, 2012. Pakistan blocked the head of the airline whose jet crashed near the capital from leaving the country as it began an investigation Saturday into the country's second major air disaster in less then two years. (AP Photo/Muhammed Muheisen)

ایک ایسا سانحہ جس کیلئے وطن عزیز کے باسی ہی نہیں دنیا بھر کے لوگ معجزے کیلئے دعا گو تھے، اہل خانہ، پیارے، دوست یار ، ارباب سب سجدہ ریز ہوگئے، عجیب گو ما گو کی کیفیت کہ “شہادت کی دعا کریں یا غازی بننے کی”۔ کتنی ماؤں اورباپ کے آخری سہارے، نئی نویلی دلہنوں کے سواگ، کئی کلیوں کے باپ، بہنوں کے بھائی لمحہ بھر میں الوادع کہہ گئے، وہ ہاتھ جن کی حنا کا رنگ بھی ابھی پھیکا نہ ہوا تھا، وہ آنکھیں جنہیں نئے سفر کیلئے ابھی ہمسفر کے ہمراہ سہانے سپنے دیکھنے تھے، سب تباہ ہوگئے، مٹ گئے، اجڑ گئے، مگر کیا رے قسمت یہ ارفع مقام ہر کسی کے نصیب میں نہیں، اپنے پیاروں کا عطیہ دینا ہر کسی کے بس میں نہیں۔ اپنے جگر گوشوں کو برف کے حوالے کرنا ہر ماں کا حوصلہ نہیں، یہ تمغہ شہادت سینے پر سجنا صرف اسی دھرتی کے بہادر سپوتوں کی نشانی ہے جو خاک میں رج بس کر اس وطن عزیز کا پرچم سر بلند رکھتے ہیں۔
Galleries_Image Galleries_GayariAvalnche_Slide13
اس رب العزت نے معتبر اور محترم ہستیوں کو منتخب کرلیا تھا، وطن عزیز کے وہ بہادر جان باز سپوت جو استحکام تو جانتے ہیں مگر لغزش نہیں، جنہیں چٹان تو بننا آتا ہے مگر صعیف نہیں، جو حوصلے کی بلند داستانیں رقم کرتے ہیں اور جان کا نذرانہ دینے سے گریزاں نہیں ہوتے۔ شہداء کے جسدخاکی کو نکالنے کیلئے پاک فوج کی جانب سے تاریخی آپریشن کیا گیا، یہ آپریشن پاک فوج کے عزم و ہمت کی اپنی مثال آپ ہے۔

Galleries_Image Galleries_GayariAvalnche_Slide3
گیاری سیکٹر کے شہداء کی پانچویں برسی کے موقع پر قوم ان بہادر و نڈر سپوتوں کو سلام پیش کرتی ہے، جنہوں نے اپنا آج ہمارے کل کیلئے قربان کیا، ان بلندیوں کے شاہینوں و امین کو سلام پیش کرتی ہوں کہ جنہوں نے آبرو وطن کو برقرار رکھا۔

0
۔”شہادتوں کے راہی، شہادتوں کے چراغ
سیاچن کے گلابوں ، تمہیں قوم کا سلام”۔

۔”اگر ہم میں سے کوئی شہید ہو جائے تو یہ مت سمھجنا کہ کوئی نقصان ہوا، بلکہ یہ سمھجنا کہ وہ ہم سے آگے نکل گیا”۔ سماء

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube