Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

بے قابو جن

SAMAA | - Posted: Mar 29, 2017 | Last Updated: 5 years ago
SAMAA |
Posted: Mar 29, 2017 | Last Updated: 5 years ago

Inflation UPD ISB Pkg 12-02

بچپن میں جب سب ہم سب چھوٹے چھوٹے کزنز جمع ہوتے تھے تو سب سے پسندیدہ مشغلہ ایک دوسرے کو ڈراؤنی کہانیاں سنانا ہوتا تھا اور خاص کر اپنے دادا یا پر دادا کی بہادری کے  سنے سنائےقصّے کہ کس طرح وہ بگڑے سے بگڑے جنات کو قابو میں کر لیتے تھے اور اپنے حالات سدھار لیتے تھے۔ اب نا وہ بچپن رہا اور نا دادا جی اور بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ وہ سارے جنات اور بھوت پریت بھی ماضی کا قصہ بن گئے۔ اب سوچتی ہوں کہ کاش دادا جی حیات ہوتے تو ایک ایسے جن کو ضرور قابو کرواتی جس سے حلال کمانے والے سفید پوش لوگ بے حد خائف ہیں۔ وہ ہے مہنگائی کا جن، جو بڑا منہ زور ہوتا جا رہا ہے اور اس کا سائز دن بدن بڑھے سے بڑھا ہوتا جا رہا ہے۔ دو وقت کی دال چٹنی پکانے سے روز مرہ کے برتنے کی چیزیں خریدنے تک جس چیز کو ہاتھ لگاؤ، تو یہ جن بڑی زور سے حملہ کر کے پیچھے دھکیل دیتا ہے کہ انسان بیچارہ بس دور سے ہی حسرت سے تکتا ہی رہ جاتا ہے اور تو اور چاہے بچوں کا ایک نارمل پرائیوٹ اسکول ہو یا کوئی عام پرایئوٹ اسپتال، ہر جگہ آپ کو اس بے قابو مہنگائی کے جن کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Inflation Statistics Isb Pkg hammad 02-12

حیرت تو تب بہت زیادہ ہوتی ہے جب امّی ابّو بڑے پرجوش انداز میں بتاتے ہیں کہ ہمارے زمانے میں تو آٹا دو روپے کلو ملتا تھا اور پیٹرول دس روپے لیٹر ہوتا تھا۔ سبزی والا خوشی خوشی ہرا دھنیا مرچیں مفت میں شاپر میں ڈال دیا کرتا تھا۔ کسی مہمان کے آنے پہ تین سے کم گوشت کے کھانے نا بنتے اور روز مرہ کی روٹین  میں بھی ہفتے میں چار دن تو گوشت پکتا ہی تھا۔ اور اب حالات یہ ہیں کہ متوسط طبقے والے لوگ بھی دال اور سبزیوں سے خوش ہیں اور بے چارے غریب کے لئے تو دال بھی مہنگی ہی ہو گئی ہے۔ جبکہ سبزیاں بھی آئے دن نایاب ہو جاتی ہیں کہ ٹماٹر کو ہاتھ لگاتے ہوئے بھی ڈر لگے کہ سبزی والا پیسے نا مانگ لے۔ مہنگائی کی وجہ سے غربت میں اضافہ ہوا اور حالات اس حد تک پہنچ گئے کہ اب مائیں مہنگائی سے تنگ آکر اپنے بچے تک فروخت کرنے پہ تیار ہیں یا تو بیچارہ خاندان کا واحد کفیل خودکشی جیسے بھیانک عمل پہ اتر آتا ہے۔ گھر کے ہر فرد کو کمانا پڑتا ہے چاہے مرد ہو یا زن، تبھی گھر کا خرچہ پورا ہو پاتا ہے۔ بچت کا لفظ تو بس لغت تک ہی رہ گیا۔اب تو چاروں طرف سے قرضے کی صدائیں آتی ہیں۔

Inflation Rate

آئے دن پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی ہر شے کی قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے جب کہ پیٹرول کی قیمتیں ذرا گر بھی جائیں تو اشیا کی قیمتیں جوں کی توں رہتیں ہیں۔ مہنگائی کی وجہ سے ایک سفید پوش باپ اپنی بیٹی کی شادی میں قرض کے بوجھ تلے دب جاتا ہے کہ اب بیٹی کو رخصت کرنا بھی آسان نہیں اور اسی چکر میں بہت سی لڑکیاں جاب کرنے نکل کھڑی ہوئیں تاکہ جہیز جمع کر سکیں پھر شادی کریں۔ مہنگائی کی وجہ سے بدعنوانی اور معاشرتی برائیاں  بڑھ گئیں۔ پہلے زمانے میں رشتے دار اور دوست احباب گھر آتے تو خوشی ہوتی تھی اور کئی کئی دن تک مہمان داریاں چلتی تھیں جبکہ اب افسوس بس حکومت کی کار کردگی پہ ہی کیا جا سکتا ہے جو بخوبی عوام کی پریشانی سے واقف ہے لیکن بجائے کوئی کارآمد پالیسی بنانے کے یا مہنگائی کنٹرول کرنے کے الٹا ٹیکس میں اضافے ہوتے رہتے ہیں۔ غریب آدمی پہ ٹیکس کا بوجھ لاد دیا گیا حتیٰ کہ بچوں کی ٹافیاں، چاکلیٹ تک پہ ٹیکس لگا دیا گیا اب پاکستان کا بچہ بچہ ٹیکس ادا کر رہا ہے بلکل اسی طرح جیسے نا کردہ گناہوں کی سزا بھگتنی پڑے۔ بچت کے نام پہ لگنے والے بازار بھی بس نام کے ہی رہ گئے ہیں اور مہنگائی کا بڑا تماشا دیکھنا ہو تو رمضان المبارک کا مہینہ دیکھئے جس میں مہنگائی کا جن تمام روزے داروں کے سروں پہ برا جمان ہوتا ہے۔

اگر دیکھا جائے تو عوام کے ووٹوں سے جیت کے عہدہ سنبھالنے والوں کو اتنا احساس کرنا چائیے کہ سب سے پہلے ملکی معیشت کو اس سطح پہ لائیں کہ کم از کم عام استعمال کی اشیاء ہر ایک کی دسترس میں ہوں لیکن الٹا ہی ہو جاتا ہے۔ نئی حکومت نئے نرخ لاتی ہے بس فرق یہ کہ عوام پرانی ہوتی ہے۔

 

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube