دہشتگردی کی معیشت

March 25, 2017

130723171058-wealthy-five-million-1024x576

تحریر:عمران خوشحال

اگرچہ ہم سرمائے کے عہد میں زندہ ہیں اور معیشت ہماری زندگی کا ناگزیر حصہ ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم میں سے بہت ساروں کے لیے معاشیات ایک مشکل موضوع ہے۔ شاید اسی لیے جب بھی دہشت گردی پر بات ہوتی ہے تو عموماً اس کے سیاسی اور مذہبی پہلو کو زیرِ بحث اور تحریر لایا جاتا ہے اور اس کے معاشی پہلو کو یا تو سرے سے ہی نظر انداز کر دیا جاتا ہے یا اس کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو اس کی ہے۔

MAIN_1Terrorist-woth-money

ایک اٹالین جرنلسٹ اورماہر ِمعاشیات لوریٹا ناپولیونی کے مطابق نائن الیون سے قبل دہشت اورجرم کی عالمی معیشت کا کل حجم ڈیڑھ ٹریلین ڈالرز تھا۔نائن الیون کے بعد سے اب تک ہونے والی دہشت گردی کی  کارروائیوں اور آئے روز وجود میں آنے والی تنظیموں کی تعداد  دیکھتے ہوئے یہ تنیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ دہشت گردی ایک نفع بخش بلکہ انتہائی نفع بخش کاروبار ہے۔ لیکن ایک عام فہم سی بات ہے کہ زیادہ نفع کے لیے زیادہ سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔ یعنی اگر دہشت گردی کی معیشت کا حجم اربوں ڈالرز  اور اس سے حاصل ہونے والا منافع کم از کم کروڑوں ڈالرزہے تواسی اعتبار سے اس پر کم سے کم سرمایہ کاری بھی لاکھوں ڈالرز میں کی گئی ہوگی۔

eco terrorism1

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہشت گردی پر لاکھوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کس نے کی ،دہشت کی عالمی منڈی پر اجارہ داری کس ہے اور اس سے منافع کس کو ہو رہا ہے؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ہمیں سرد جنگ کے عہد کامطالعہ کرنا ہوگا۔بہت سارے لوگ یہ جانتے ہیں کہ  سرد جنگ کا عہد پراکسی جنگوں کازمانہ تھا۔امریکہ اور سویت یونین کی لڑائی میں دنیا دو حصوں میں بٹی ہوئی تھی۔ ایک بلاک کو امریکہ مدد فراہم کر رہا تھا اور دوسرے کو سویت یونین۔وغیرہ وغیرہ ۔ لیکن کم لوگ جانتے ہیں کہ اس عہد میں امریکہ اور سویت یونین نے بڑے پیمانے پر دہشت گردی میں سرمایہ کاری کی۔ دونوں عالمی طاقتیں اپنی اپنی کلائنٹ سٹیٹس کو فنڈ کر کے پراکسی جنگوں سے اپنے مقاصد کے حصول کی جنگ لڑتی رہیں۔ اور یہیں سے سٹیٹ سپونسرٹیرررازم کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔ جس میں پراکسی جنگوں میں شامل ریاستوں نے برائے راست دہشت گردوں کی مالی اور عسکری معاونت کی ۔ اور اس کے دور رس اثرات مقامی حکومتوں اور آبادیوں پر بھی پڑے۔

eco terrorism2

سرد جنگ کے خاتمے اور سویت یونین کے انہدام سے پہلے دہشت گردی میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری عالمی اور مقامی ریاستوں نے ہی کی لیکن اس کے بعدمعیشت کی گلوبلائزیشن  سے دہشت گردی کی معیشت بھی گلوبلائزہوگئی۔ یہ وہ وقت تھا جب غیرریاستی عناصر نے ریاستوں سے دہشت گردی کی معیشت کی اجارہ داری چھین لی۔ اگرچہ آج بھی دنیا کی کئی  ریاستیں دہشت گردوں کی کسی نہ کسی طرح معاون ہیں لیکن دہشت گردی کی  معیشت کا بڑا حصہ ان کے کنٹرول میں نہیں رہا۔ اور اب یہ معیشت کارپوریٹ  مافیاز، کالعدم تنظیموں اور روگ ایجنسیوں کےکنٹرول میں ہے ۔لیکن فنڈنگ اور سپونسرنگ دہشت گردی کی معیشت کا صرف ایک پہلو ہے، دہشت کے معاشی نظام کی بے شمار جہتیں ہیں۔ بعض کا تعلق خالصتاً معاشی سرگرمیوں سے ہے جبکہ بعض کا تعلق سیاسی معیشت سے۔ بعض شکلوں میں دہشت اور سرمائے کا تعلق بہت واضح اور آسانی سے سمجھ میں آنے والا ہے جبکہ بعض شکلوں میں یہ انتہائی پیچید ہ اور نہ سمجھ آنے والا ہے۔

Botsford_gunshow1004_15_10_03_41761443897976

میرے خیال میں جو کوئی بھی دہشت گردی کی معیشت کو سمجھنے کی کوشش کرے اس کے لیے بہترین نقطہِ آغاز یہ ہو سکتا ہے کہ کیا ناہموار معاشی حالات دہشت گردی کا محرک ہو سکتے ہیں؟۔ سادہ الفاظ میں یہ کہ کیا غربت کسی انسان کو دہشت گرد بنا سکتی ہے۔ اگر ایسا ہے تو کیا دہشت گرد بنیادی طور پر غریب ہوتے ہیں؟

جاری ہے۔۔۔۔۔

Email This Post
 

:ٹیگز

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
 

ضرور دیکھئے