Wednesday, January 26, 2022  | 22 Jamadilakhir, 1443

کوٹ ڈیجی

SAMAA | - Posted: Mar 22, 2017 | Last Updated: 5 years ago
Posted: Mar 22, 2017 | Last Updated: 5 years ago

Kot-Diji-Fort-Sindh-Pakistan-1

سندھ کی دھرتی بے شمار ایسے خزانوں سے مالا مال ہے جو اس خطے کی شاہکار تہذیب اور شاندار ماضی کا پتا دیتے ہیں۔ زبان و ادب سے لے کر فن تعمیر کے نادر نمونوں تک اس خطے کے دامن میں بے شمار انمول ہیرے ہیں جنہیں باب الاسلام سندھ کی ایک لازوال دولت کہا جا سکتا ہے۔ یہاں ہم بات کریں گے فن تعمیر کے ایک شاہکار قلعے کوٹ ڈیجی کی جس کی خوبصورتی اور مظبوط اسٹرکچر دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

کوٹ ڈیجی قلعہ خیر پور شہر سے20  کلو میٹر دور جنوب میں پرانے نیشنل ہائی وے پر واقع ہے۔ اسے تالپور حکمرانوں نے 1797 عیسوی میں تعمیر کیا گیا اور اس کا نام قلعہ احمد آباد رکھا۔ بعد میں اسے علائقے کی نسبت سے کوٹ ڈیجی کہا جانے لگا۔ قلعہ کا تصور ہی یہ ہوتا کہ شہر کے چاروں طرف ایک اونچی دیوار ہو جس سے شہرمحفوظ ہوجائے۔ یہ قلعہ اس معیار پر پورا اترتا ہے۔ اس کا دفاعی نظام بہترین اور ناقابل تسخیر بنایا گیا ہے۔

اس قلعہ کی تعمیرات میں پتھر اور اینٹوں کا استعمال کیا گیا۔ اعلیٰ طرز تعمیر کو ملحوظِ خاص رکھتے ہوئے مقامی پتھروں کو استعمال کرنے کے بجائے دور دراز سے پتھر اور اینٹیں منگوائی گئیں۔ یہ دفاعی اعتبار سے ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے جس میں تین بڑے دروازے بنائے گئے ہیں۔

اس قلعے کی تین خصوصیات اسے منفرد بنائی ہیں۔  ایک تو اسے دفاعی حصار کے طور پر بنایا گیا، دوسرا یہ قلعہ پہاڑی نما تعمیر کیا گیا ہے جس کی وجہ سے اسے فتح کرنا دشمن کے لئے تقریباً ناممکن تھا۔ اور تیسرا یہ کہ اس کی بناوٹ میں ایسی طرز تعمیر اور پیچیدگیا ں رکھی گئی ہیں جس سے حملہ آور کو باآسانی اپنی گرفت میں لا کر شکست دی جا سکتی ہے۔

view of kot diji fort

اس مقصد کے لئے اسے ابتداء میں چوڑا اور آگے کے حصے میں تنگ  رکھا گیا ہے۔  باہر سے آنے والا جیسے جیسے اندر داخل ہوگا ویسے ویسے وہ اوپر کی طرف جائے گا، اور اسے نظر آئے گا کہ اندر کئی روکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں۔ اس میں الگ الگ جگہیں بنائی گئی ہیں جہاں پروہ منجنیقیں بھی رکھی جاتی تھیں جو کہ اسلامی دور میں ہی متعارف ہوئیں۔ اس کے اندر چھوٹی توپیں بھی مختلف جگہوں پر فٹ تھیں۔  ان خصوصیات کی وجہ سے کسی بھی لشکر کا اندر داخل ہونا اور بچ کر نکلنا کافی مشکل تھا۔

کوٹ ڈیجی کا قلعہ خاص فوجی دفاعی اور انتطامی امور کے علاوہ سپاہیوں کی رہائش کے لیے بھی استعمال ہوتا تھا۔  قلعے کے آگے ایک باغ “فیض باغ” بھی موجود تھا جہاں مہمانوں کو بٹھایا جاتا تھا۔ قلعے کے اندر داخل ہونے کے لیے تین بڑے دروازوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ تمام دروازے فن تعمیر کا نادر نمونہ ہیں۔

پہلا دروازہ نہایت ہی مضبوط لکڑی سے بنا ہے جس میں ہاتھیوں کے حملے سے بچنے کے لیے لوہے کی نوک دار کیلیں لگائی گئی ہیں۔ دروازے کی چوڑائی دس فٹ جبکہ لمبائی پندرہ فٹ ہے۔  دروازے کے اندر داخل ہوتے ہی ایک میدان بنا ہوا ہے جس کے مشرق میں سفید پتھروں سے نہایت ہی خوبصورت دیوار بنی ہوئی ہے۔  جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قلعہ کے اندر ایک اور قلعہ موجود ہے۔

آگے چل کر ایک اور دروازہ ہے۔ پہلے دروازے کی طرح،لیکن  سائز میں قدرے چھوٹا ہے۔  اس  میں بھی نوک دار کیلیں لگی ہوئی ہیں اوریہ آگے چل کر سرنگ نما راستے کو بند کرتا ہے۔ ماہرین نے پہلے دروازے سے تیسرے دروازے تک قلعے کی شکل اسی پہاڑی کی طرح رکھی ہے جس پر یہ قلعہ تعمیر کیا گیا ہے۔

Kot-Diji-Fort-9

اصل قلعہ تیسرے دروزاے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اب اس قلعے کو تین اہم حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ مغربی، وسطی اور شمالی حصہ۔ مجموعی طور پر اس قلعے میں33  برج ہیں اور ہر برج میں بیرک غلام گردش موجود تھا۔ تیسرے دروازے کے پیچھے ایک فتح مینار موجود ہے۔ جہاں سے ہم پورے قلع پر نظر رکھ سکتے ہیں۔ فتح کی صورت میں فاتح اپنی فوج کا جھنڈا اس مینار پر لہرا کر فتح کا اعلان کرتا تھا۔

قلعے کے مشرق میں آخری کونے میں ایک وسیع برج ہے جس پر ایک دور میں دو توپیں ہوا کرتی تھیں۔ قلعے کے شمال مغرب میں شہید بادشاہ برج ہے جو کہ نیشنل ہائی وے کی طرف ہے جہاں سے شہید بادشاہ کا مزار اور ڈیجی کے قدیم آثار نظر آتے ہیں جہاں پرایک جگہ  کھدائی سے موئن جو دڑوسے بھی پہلے کی ایک انسانی آبادی کے آثار ملے ہیں۔

قلعے کے مشرق کی جانب برج کا رخ جیسلمیر کی طرف ہے۔ اس لیے اس کا نام بھی جیسلمیر برج رکھا گیا ہے۔ جنوب مشرق میں میروں کی رہائش گاہیں یا حرم موجود ہے۔ قلعے کے اختتامی حصے میں ایک بہت خوبصورت تخت بنا ہوا ہے جس پر بیٹھ کر والیء ریاست اہم تہواروں پر دربار لگاتے اور اہم فیصلوں کا اعلان کرتے۔

یہ بات وثوق سے کی جا سکتی ہے کہ کوٹ ڈیجی کا یہ قلعہ فن تعمیر کا ایک شاہکار ہے جس سے سندھ کے باشندوں کے علم و ہنر اور ذہانت کا پتا چلتا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube