اپنے پیشے سے محبت کیجئے

By: Raazia Syed
March 21, 2017

1

آپ سب نے سوشل میڈیا پر میری طرح یہ پوسٹ ضرور دیکھی ہو گی کہ "بیٹا دیکھنا دروازے پر کون ہے"؟ تو بچہ یہ کہتا ہے کہ ’’امی وہاں کوڑے والا آیا ہے ۔" بچے کے اس جواب  کے بعد اسکی والدہ کہتی ہیں کہ "نہیں بیٹا کوڑے والے تو ہم ہیں جو گندگی پھیلاتے ہیں وہ تو کوڑا کرکٹ صاف کرنے والا ہے۔"

اصل میں یہی ہمارے گھر کی تربیت ہے جو ہمیں حیوان سے انسان بنا دیتی ہے ، کہا یہی جاتا ہے کہ تعلیم کے ساتھ تربیت کا چولی دامن کا ساتھ ہے کیونکہ روزمرہ مشاہدے کی بات ہے کہ کئی ڈگری ہولڈرز اخلاقیات سے گری ہوئی ایسی باتیں کر جاتے ہیں کہ ان کی تعلیمی قابلیت پر ہی شک ہونے لگتا ہے۔

 قصور تو درسگاہوں کا نہیں ہوتا ہاں ذمہ دار والدین اور دگیر اہل خانہ ہوتے ہیں جو بچوں کی غلطیوں کو چھوٹا سمجھ کر ٹالتے رہتے اور انھیں معاشرے کا ایک ناکارہ فرد بنا دیتے ہیں۔

بچے کی پہلی درسگاہ اسکی ماں کی گود ہوتی ہے سو اگر ماں ہی تہذیب سے عاری ہو تو پوری نسل سے اچھائی کی توقع رکھنا عبث ہے ۔ خیر ہم بات کر رہے تھے پیشوں کی ، تو یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہیے کہ کوئی بھی پیشہ برا نہیں ہوتا خواہ وہ گلی میں جھاڑو لگانے والا خاکروب ہو یا سیٹ پر بیٹھا ہوا بیس گریڈ کا افسر۔

3

حلال روزی کمانے والا اللہ تعالی کا محبوب بھی ہوتا ہے اور لوگوں کی نظر میں بھی محترم ہوتا ہے اور سب سے بڑی بات کہ اگر آپ اپنے پیشے سے مطمئن ہیں اور جائز طریقے سے رزق کا حصول ہی آپ کی منزل ہے تو آپ کا ضمیر ہمیشہ مطمئن اور پرسکون رہے گا۔

یہ صرف ہماری اپنی سوچ ہوتی ہے کہ ہم  کسی بھی پیشے کو برا سمجھنے لگتے ہیں۔ ہمارے محلے دار علیم صاھب ترکھان ہیں البتہ وہ اپنےکام سے خوش ہیں حالانکہ وہ بچپن میں آرٹسٹ بننا چاہتے تھے لیکن گھریلو تنگدستی کی وجہ سے ایسا نہ کر سکے، لیکن میں نے ان کے منہ سے ایک مرتبہ بھی شکایت نہیں سنی۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شوق کی تکمیل کے لئے فالتو لکڑی سے چند کھلونے بنا لیتے ہیں اور فرنیچر کے آرڈر کے ساتھ اپنے گاہکوں کو ان کے بچوں کے لئے تحفے کے طور پر پیش کرتے ہیں، اس طرح نہ صرف ان کے شوق کی تسکین ہوتی ہے بلکہ بچے بھی خوش ہو جاتے ہیں، جبکہ فرنیچر میں جدت لانے کے لئے وہ ایک آرٹسٹ کی طرح تجربات کرتے رہتے ہیں۔

ڈیوڈ ایک خاکروب ہیں وہ صبح صبح خوشگوار موڈ میں گلی محلے کی صفائی کر رہے ہوتے ہیں ، حالانکہ ان کی تنخواہ ان کی محنت کے مقابلے میں کچھ نہیں لیکن ان کا یہ کہنا ہے کہ ماحول کے صاف ستھرا رکھنے میں ان کا بھی ہاتھ ہے۔

4

اسی طرح شمع ایک محقق ہیں اور نہایت دلجمعی سے اپنا کام کرتی ہیں لیکن اکثر اوقات ان کی پریذنٹیشن کا کریڈٹ دوسرے لوگ لے جاتے ہیں لیکن وہ مطمئن ہیں کیونکہ وہ اپنے پیشے سے محبت کرتی ہیں اور کام میں کسی قسم کی ڈنڈی نہیں مارتیں۔ اطمینان قلب ہمیشہ شکر گذاری کے جذبات سے حاصل ہوتا ہے، اپنے روزگار کے ساتھ مخلص اور دیانتدار ہونا بہت اہم ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو ایسے لوگوں میں سے چنا کہ وہ آپ کو روزگار کی نعمت سے سرفراز کر رہا ہے ورنہ آپ سے بھی زیادہ محنتی اور قابل لوگ دنیا میں موجود ہیں لیکن انھیں بےروزگاری کا سامنا ہے۔

ہمارے ہاں  بہت سے لوگ اپنی فیلڈ سے اس لئے بھی نالاں نظر آتے ہیں کہ یہ تو ان کی فیلڈ ہی نہیں تھی اور انھیں حالات کی وجہ سے اس میں آنا پڑا لیکن میرے خیال میں ہم سب اپنے لئے بہت کچھ سوچتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ جو ہم اپنے لئے بہتر سمجھیں وہ مشیت ایزدی بھی ہو۔

اسئلے اگر ہم حکم ربی کے مطابق اپنے پیشے کو دل سے قبول کر لیتے ہیں تو ترقی کے دروازے ہم پر خود بخود کھلنا شروع ہو جاتے ہیں ، کیونکہ تھوڑے رزق پر قانع ہونا آپ پر مزید برکات کے دروازے کھول دیتا ہے۔ اگر ہم یہی سوچ لیں کہ اگر اس معاشرے میں ڈاکٹر، کسان، مستری، موچی، دھوبی، انجئینر، چوکیدار، خاکروب اور مختلف پیشوں والے افراد نہ ہوں تو پورے معاشرے کا شیرازہ ہی بکھر جائے تو ہم کسی بھی پیشے کو حقیر تصور نہیں کریں گے اور یہ احساس ہمارے دل و ذہن میں اور بھی پختہ ہو جائے گا کہ رزق و روزی صرف اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے اور محنت سے کام کرنے والا شخص اللہ تعالی کا دوست ہوتا ہے۔

Email This Post
 

:ٹیگز

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.