اسلام آباد کی سائیکل

By: Samaa Web Desk
March 20, 2017

launch-of-bicycle-lane-in-islamabad-1

تحریر : عابد علی عزیمی

بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں گاڑیوں کو متبادل ذرائع انرجی پر تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ ماحول کو آلودگی سے بچایا جا سکے۔ پاکستان کے وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی، زاہد حامد کے مطابق پاکستان ان ممالک کی لسٹ میں ساتویں نمبر پر ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بہت متاثر ہو رہے ہیں۔ اسی لئے وفاقی دارلحکومت کی سڑکوں پر ماحول دوست سائیکل کو بھگانے کا فیصلہ کیا گیا اور اسے سائیکل ٹریک کی شکل میں ایک راستہ دے دیا گیا کہ لوگ سائیکل چلائیں گاڑیاں کم چلیں اور وفاقی دارلحکومت کا ماحول بھی آلودگی سے پاک ہو۔

میں نے بھی اس سائیکل ٹریک کو دیکھا، بدقسمتی سے میں بھی ماحول کو آلودہ کرنے والی گاڑی پر وہاں گیا بجائے اس کے کہ سائیکل ٹریک پر سایئکل پر سوار ہو کے جاتا۔ وہاں پہنچ کر میں شرمندگی کے ساتھ حیرانی میں بھی مبتلا ہوا کہ ٹکڑوں میں بنا سائیکل ٹریک تو موجود ہے، جگہ جگہ سائیکل ٹریک کے بورڈ بھی آویزاں ہیں لیکن سائیکل کہیں نظر نہیں آتی، جدھر دیکھو دھواں پھیلاتی گاڑیاں ہی نظر آ رہی ہیں۔ ایسے میں، میں نے سائیکل ٹریک پر پیدل سفر شروع کیا کہ اسکی حالت دیکھ سکوں کیونکہ پیدل ٹریک کو ہی سائیکل ٹریک کہیں کہیں بنا دی گیا تھا۔ ایسے میں مجھے مارگلہ روڈ پر کچھ سائیکل سوار نظر آئے۔ میں نے پوچھا جناب! آپ سائیکل پر کیسے؟ بولے بھائی یہ سائیکل بہت اچھی ہے ہمارے لئے کیونکہ ہم گاڑی نہیں لے سکتے اس لئے یہی ہماری گاڑی ہے۔ صبح اسی پر سوار ہو کر نوکری پر آتے ہیں پھر شام کو لوٹ جاتے ہیں ساتھ میں بولے ہماری سائیکل ماحول کو گندا نہیں کر رہی۔

میں آگے بڑھا جگہ جگہ پر یہ سائیکل ٹریک ہماری حکومت کے فیصلوں کی طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار نظر آیا۔ جو کاغذوں اور افتتاحی تقریبوں تک ہی محدود تھا۔ شروع تو پارلیمنٹ سے ہوا لیکن مکمل کہاں ہوا نتیجہ کیا نکلا کسی کو معلوم نہیں۔ ساتھ ہی خیال آیا کہ اس وقت اس ٹریک پر صرف وہی حضرات سائیکل چلا رہے ہیں جنکے پاس گاڑی نہیں اگر انک پاس بھی فراٹے بھرتی گاڑی ہوتی تو انہیں بھی فکر نہ ہوتی کہ چھوٹا چھوٹا سفر سائیکل پر کر لیتے تو تھوڑا ماحول بھی آلودگی سے بچ جاتا اور انکا یہ عمل کتنا ماحول دوست کہ اس ایک قدم کو اٹھانے سے وفاقی دارلحکومت کا ماحول شاید اس جگہ پر جا سکتا جس کے بارے میں کبھی کہا گیا تھا کہ وفاقی دارلحکومت میں بھی برفباری ہو سکتی ہے کہ اسکے ارد گرد اتنا درخت ہیں اور درجہ حرارت اتنا کم ہو جاتا ہے۔

ایک وقت تھا کہ وفاقی دارلحکومت میں سائیکل چلا کرتی تھی، گاڑیاں بہت کم تھی، سائیکلیں زیادہ تھی، جیسے جیسے لوگ ترقی کر رہے ہیں تو پُرانے فیشن، پُرانی قدرتی چیزوں کی طرف راغب ہو رہے ہیں کہ وہ ہی بہتر تھی، نئی چیزوں میں سائیڈ ایفکٹس ہیں۔ بالکل اسی طرح وہ وقت بھی دور نہیں کہ لوگوں کو کہنا پڑے گا کہ گاڑی کی بجائے بڑے سفر کے لئے گھوڑے بہتر ہیں اور چھوٹے سفر کے لئے سائیکل، کیونکہ یہ ماحول کو آلودہ نہیں کرتے۔

Email This Post
 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.