کتنی آبادی ہے اور کتنی تھی؟۔

March 20, 2017
l_285603_103801_updates

آئین پاکستان کے مطابق ہر دس سال بعد مردم شماری کا انعقاد لازمی ہے۔ تاہم پاکستان میں 1998 میں ہونیوالی پانچویں مردم شماری کے بعد 19 سالوں تک مختلف وجوہات کی وجہ سے مردم و خانہ شماری کا انعقاد ناہوسکا۔ جس کے بعد پورے ملک میں چھٹی مردم شماری 15مارچ سے شروع ہے۔ جو کہ دومراحل میں مطلوبہ معلومات حاصل کر کے 25 اپریل کو مکمل ہوگی۔

 

ماضی میں کبھی سیاسی حالات اور کبھی دہشتگردی کی وجہ سے مردم شماریوں کا انعقاد بروقت ناہوسکا۔ اس بار بھی بوجہ دہشتگردی کے خلاف جنگ اور سرحدوں پر حالات کشیدہ ہونے کی وجہ سے حکومت کی طرف سے ٹال مٹول کی گئی۔ لیکن سپریم کورٹ کے احکامات کی وجہ حکومت، پاک فوج کے تعاون سے پانچویں مردم شماری کروارہی ہے۔

Census Overall PKG 15-03 SANA

25 مئی کو مردم  شماری کے دونوں مراحل مکمل ہونے کے بعد پہلے صوبائی نتائج شائع کئے جائیں گے۔ جس کے بعد مرحلہ وار مرد و خواتین کا تناسب، دیہی و شہری کا تناسب اور خواجہ سراؤں کی تعداد کے حوالے سے نتائج جاری کئے جائیں گے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان کی آبادی 19 کروڑ 30 لاکھ 56 ہزار ہے۔ جبکہ 19 سال پہلے 1998 میں ہونیوالی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی 13 کروڑ 20 لاکھ تھی۔ قیام پاکستان کے بعد جو علاقے پاکستان میں شامل ہوئے۔  ان میں پہلی مردم شماری 1881 میں ہوئی۔

1951 میں ہونیوالی پہلی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی 7 کروڑ 50 لاکھ تھی۔ جسمیں 3 کروڑ 30 لاکھ آبادی مغربی پاکستان کی اور 4 کروڑ 20 لاکھ آبادی مشرقی پاکستان کی تھی۔ دوسری مردم شماری جوکہ 1961 میں ہوئی۔ اس کے مطابق پاکستان کی آبادی 9 کروڑ 30 لاکھ تھی۔ جسمیں 4 کروڑ 20 لاکھ مغربی پاکستان جبکہ 5 کروڑ 10لاکھ افراد مشرقی پاکستان میں رہائش پزیر تھے۔

CENSUS 0800 KHI PKG 15-03

سال 1971 میں ہونیوالی مردم شماری سقوط ڈھاکہ کی وجہ سے 1972 میں ہوئی۔ جسمیں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد بچ جانے والے پاکستان کی آبادی 6 کروڑ 50 لاکھ تھی۔ قیام پاکستان کے بعد ہونیوالی چوتھی مردم شماری 1981 میں کروائی گئی، جس کے مطابق پاکستان کی آبادی 8 کروڑ 40 لاکھ تک جاپہنچی۔ دس سالوں بعد یعنی 1991 میں ہونیوالی مردم شماری سیاسی مسائل کی وجہ سے ناکروائی جاسکی۔ جس کی وجہ سے پانچویں مردم شماری کا انعقاد 1998 میں کروایا گیا۔ جس کے مطابق پاکستان کی آبادی 13 کروڑ 20 لاکھ تھی۔ پانچویں مردم شماری کے دس سالوں بعد 2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں پاکستان کو درپیش دہشتگردی کے خطرات کی وجہ سے مردم شماری کا انعقاد نا ہوسکا۔ جس کے بعد 2010 میں حکومت نے مردم شماری کے انعقاد کی کوشیش کی۔ جو ایک مرتبہ پھر امن و امان کی تسلی بخش صورتحال ناہونے کی وجہ سے ملتوی کردی گئی۔ اب جبکہ 1998 کی مردم شماری کے 19 سالوں بعد مردم شماری ہونے جارہی ہے تو پاک فوج کے ضرب عضب اور ردالفساد کی کامیابی کے بعد دہشتگردی پر کافی حد تک قابو پایا جاچکا ہے۔ تاہم مردم شماری کے دوران 1 لاکھ 18 ہزار 918 سرکاری ملازمین کے ساتھ دہشتگردی کے خطرات کو نبٹنے کیلئے 2 لاکھ پاک فوج کے جوان بھی حصّہ لیں گے۔ وفاقی حکومت کی طرف سے مردم و خانہ شماری کیلئے مجموعی بجٹ ساڑھے 18 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ جسمیں سے 6ارب فوج، 6ارب سویلین اورساڑھے 6 ارب روپے ٹرانسپورٹ کی مد میں خرچ کئے جائیں گے۔

سال 1998 میں ہونیوالی مردم شماری کے وقت بھی وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف تھے اور اب جب 19 سالوں بعد مردم شماری ہونے جارہی ہے تو بھی نواز شریف ہی برسر اقتدار ہیں۔ سماء Email This Post

 

:ٹیگز

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.