پاکستان کا گرینڈ کینن

By: Sher Bano Moiz Ali
March 20, 2017

11903580_10155995779100305_105065890_n

سورج کی سنہری شعاؤں میں چمکتے زردی مائل پتھروں کا قلعہ نما ڈھانچہ دور تک پھیلا ہوا تھا ۔ فاصلے سے دیکھنے پر گماں ہو کہ گویا کسی طاقت ور شاہنشاہ کی رہائش گاہ ماضی کی دھول میں اٹ گئی ہو ۔ لیکن یہ تو ان چٹانوں کا  سلسلہ تھا جو سالوں تک سمندر کی گود میں رہنے کے بعد ہواؤں کے سپرد ہوا ۔ امریکی ریاست ایریزونا کے عجوبے گرینڈ کینین کی طرح ان چٹانوں کو دریائے کولوراڈو نہیں بحیرہ عرب نے کمال  فن سے تراشا ہے ۔

Grand Canyon National Park

گویا لہریں کسی  فن پارے کو کنارے پر سجا کر لوٹ گئی ہوں ۔ چٹانوں پر بنی افقی اور عمودی لکیریں ہوں یا آڑی ترچھی پگڈنڈیاں ،ہرانچ  سنگ تراشی کا عمدہ نمونہ تھا ۔

hope2

ذکر ہے مکران کے ساحل پر پھیلے اس گرینڈ کینین کا جس کی حفاظت کے لئے امید کی دیوی پہرہ دیتی ہے ۔ صدیوں سے شہزادیوں کا لبادہ اوڑھے اس مجسمے کو اکیس ویں صدی میں اس وقت پہچان ملی جب ہالی ووڈ اداکارہ انجلینا جولی کی نگاہ اس پر ٹھہری۔  بے جان پتھروں کے ڈھانچے کو پرنسزآف ہوپ کا نام دے پر اداکارہ نے جان ڈال دی  ۔ یہی نہیں مصر کا ابو الہول بھی اس منفرد گرینڈ کینین کا مکین ہے ۔ جسے انسان نے نہیں بلکہ قدرت نے تعمیر کیا ہے ۔

hope3

اس شاہکار سے چند ہی کلو میٹر کے فاصلے پر خاموش پہاڑوں سے ابلتا کیچڑ کا لاوا دیکھنے والوں کو مزید متاثر کرتا ہے ۔ وسیع علاقے پر پھیلی  چوٹیوں کی بلندی تک جانے والا راستہ ایک اجنبی دنیا کی سیر کراتا ہے ، بغیر شعلوں کے جوش مارتا کیچڑ کا سمندر انمول نظارہ پیش کرتا ہے ۔ ہنگول میں بکھری ان چھوٹی چوٹیوں کے درمیان  ایشیا کا سب سے بلند اور متحرک ’’مڈ والکینو ‘‘بھی سراٹھائے کھڑا ہے جسے ابھی تک کسی نے سرنہیں کیا ۔

53df6d92efca7

ویران علاقے کی ایک اورحیرت انگیز خوبی یہاں کی بولتی ہوائیں ہیں ۔ سفیدی مائل پہاڑوں سے بغیر کسی شور کے بہتے لاوے کی خاموشی کو توڑنے کے لئے یہاں ہوائیں خوب سرگوشیاں کرتی ہیں ۔ بند آنکھوں سے پہاڑوں سے ہواؤں کی تکرار چڑیوں کی چہک سے کہیں زیادہ بھلی محسوس ہوتی ہے ۔ ایک ساتھ سمٹے ہوئے یہ شاہکار قدرت کے انمول تحفے سے کم نہیں  ۔

ce69fb53284facc80c6312543abd772b

ہموار کوسٹل ہائی وے کے باعث اس لاقیمتی خزانے تک رسائی تو ممکن ہوگئی ہے تاہم سرائے سمیت بجلی ،پانی اور مواصلات کی  بنیادی سہولیات کی کمی نے اس لاجواب گرینڈ کینین کو لاکھوں سیاحوں کے لئے گمنام رکھا ہے ۔ گھنٹوں کا سفر طے کرکے آنے والوں کے لئے کنڈ ملیر سے پہلے موجود ڈھابے کے علاوہ کوئی آسرا نہیں ۔ ساحل پر بھی ہٹس  کا خاطر خواہ انتظام نہ ہونے کے باعث سیر کا لطف ادھورا محسوس ہوتا ہے ۔ کیمپنگ کے لئے سب سے زیادہ موثر یہ مقام اب بھی تاریک ہے  ۔

hope1

ہالی ووڈ حسینہ انجلینا جولی کی نگاہ مجسمے کو امید کی شہزادی کا  نام تو دے سکتی ہے ۔ لیکن اسے سیاحوں کا مسکن بنانے کے لئے حکومت کی نظر کرم کی ضرورت ہے،  ورنہ ایشیا کے سوئٹزر لینڈ کی طرح پاکستان کا گرینڈ کینین بھی پہچان کے لئے  ترستا ہی رہے گا ۔

Email This Post
 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
 

ضرور دیکھئے