نشہ کرناخودکشی ہی تو ہے

By: samirazafar
March 19, 2017

ICE Drug Updated Psh Pkg 10-01

جب بھی سڑک کے کنارے پڑے نشے میں چور کسی شخص پہ نگاہ پڑے تو ذہن میں فوراً دو ہی خیال آتے ہیں کہ یا تو یہ شخص کوئی غم کا مارا ہے یا اسے برے دوستوں کی صحبت ملی۔ جب کہ میری ریسرچ کے مطابق ان دونوں وجوہات کے علاوہ  مزید اور وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔بشمول غلط ادویات کا استعمال ، بازار میں فروخت ہونے والی اشیا ٔ (سونف سپاری، مشروبات وغیرہ) میں نشہ آور اجزاٗ کی مقدار شامل ہونا، ذہنی اذیت کے علاوہ جسمانی تکلیف دور کرکے سکون حاصل کرنے کے لئے بھی منشیات کا استعمال  کیا جاتا ہے۔

گھر کے کسی فرد کا نشے میں مبتلا ہونے کا اثر پورے گھر پر پڑتا ہے اور ساتھ ہی اس کے ہم عصروں، سوسائٹی  اور ارد گرد کے لوگوں کےلیے پہ  کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا کیونکہ  منشیات کااستعمال ذہنی و جسمانی تکلیف کے علاوہ ذلت و رسوائی کا باعث بھی بنتا ہے۔خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا ہے، مستقبل داوٗ پر لگ جاتا ہے ،کیرئر برباد ہو جاتا ہے اور ساتھ ہی نشہ کرنے والا گھریلو تشدد کا شکار بھی ہوتا ہے جس سے اسے سخت جسمانی اذیت اٹھانی پڑتی ہے ۔ ایک وقت تو ایسا آتا ہے کہ اس کا جسم اتنا بے اثر ہو جاتا ہے کہ وہ ذرا سی اپنی نشہ کی خوراک حاصل کرنے کے لئے ڈھیر سارے تشدد کا شکار ہو کر بھی بے حس ہو جاتا ہے ۔ بس اس کی ایک ہی طلب باقی رہ جاتی ہے کہ کسی بھی قیمت پہ اور کسی بھی طرح اس کومطلوبہ منشیات حاصل ہو جائیں۔ دین سےدوری تو ہو ہی جاتی ہے ، سماج اور معاشرہ بھی اپنانے سے انکار کر دیتا ہے۔ لوگ نشہ کرنے والے کے پاس سے گزرنے کو بھی معیوب سمجھتے ہیں۔

drugs

نشہ کرنے والے فرد کے دماغ کے خلیوں میں تبدیلی آنے لگتی ہے جس کا اثر اس کے رویوں پہ پڑتا ہے،وہ نا مناسب کیفیات کا شکار ہو جاتا ہے اور خاص کر فیصلہ کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھا ہے۔دماغ کے علاوہ جگر بھی بری طرح متاثر ہوتا ہے، ناک کے پردے میں سوراخ ہوجاتا ہے۔ ممکنہ طورپر وہ کینسر کا مریض بن کر جلد موت کےمنہ میں چلاجاتاہے۔

 نشہ آور اشیأ استعمال کرنا  یا نشے کی لت لگ جانا اور نشے کا مریض بن جانا بھی دو مختلف حالتیں ہیں۔شوقیہ نشئی منشیات کی مقدارسے اپنے حواسوں پر کنٹرول رکھتے ہیں جب کہ نشے کا مریض مکمل طور پراپنے حواسوں میں نہیں ہوتا۔ اس کا جسم تو نشے سے چور ہوتا ہے لیکن دماغ کی طلب باقی رہتی ہے۔ رئیس  و امرأ کی ایک خاص کلاس کا  منشیات استعمال کرنا فیشن بن گیا ہے۔خاص کر شادی بیاہ کی تقریبات یا نیو ایئر پارٹیز وغیرہ میں ایک عام مشروب کے طور پہ الکوحلک مشروبات پیش کئے جاتے ہیں۔ جن کو استعمال کرنے کے بعد مزاج میں تبدیلی آجاتی ہے۔ اسی طرح سے شوبز کی چکا چوند دنیا کے اکثر ستارے اس لت میں مبتلا ہوتے ہیں۔

201609161855341264_DRL-inks-pact-with-Amgen-to-market-three-drugs-in-India_SECVPF

نشہ بھی ایک طرح سے خود کشی کے مترادف ہی ہے۔ ںشہ کرنے والا آہستہ آہستہ موت کی طرف ہی بڑھ رہا ہوتا ہے اور وہ بخوبی اس بات سے واقف بھی ہوتا ہے اور بلاخر ایک دن اپنی جان گنوا بیٹھتا ہے۔ایک نشئی جتنی زیادہ اپنی پسندیدہ منشیات استعمال کرتا ہے اتنا ہی تباہی کی جانب بڑھتا جاتا ہے جہاں سے نارمل زندگی کی طرف اس کی واپسی کے امکانات کافی مشکل اور اکثر نا ممکن ہوتے ہیں۔

مغربی ممالک میں مردوں کے علاوہ خواتین بھی کثرت سے منشیات کا استعمال کرتی ہیں۔ جبکہ تیسری دنیا کے مما لک میں گزشتہ دو دہائیوں سے منشیات استعمال کرنے کا رجحان اور منشیات کا حصول بھی عام ہو گیا ہے۔ چرس، شراب، افیون عام استعمال ہونے لگیں اس کے علاوہ خواب آور گولیاں یا سکون بخش ادویات کو منشیات کے طور پر استعمال کرنا بھی بڑھ گیا ہے۔ حتیٰ کہ اسکول اور کالجز میں بھی طلبہ آپس میں منشیات فراہمی میں سہولت کار بن جاتے ہیں۔سب سے زیادہ خطرناک نشہ ہیروئن کا ہے۔ جب کوئی شخص ہیروئن کی لت میں پڑ جاتا ہے تو وہ نشے کا مریض کہلاتا ہے اور وہ اس قدر اس لت میں مبتلا ہوتا ہے کہ ایک ذرا سی پڑیا کے لئے اپنے جسم کا کوئی عضو تک بیچنے کو تیار رہتا ہے ، اور نا ملنے کی صورت میں اس کی ذہنی و جسمانی حالت بگڑنے لگتی ہے۔

 ایک فرد کے منشیات استعمال کرنے کی شروعات کی زیادہ تر وجہ کسی دوسرے نشئی کی صحبت ہوتی ہے،جن سے حوصلہ افزائی ملتی ہے جیسے کہ سگریٹ پیتے ہوئے درمیان میں دوسرے دوست کو ایک کش ہی لگوا دینا اور پھر آہستہ آہستہ سگریٹ کا چسکا پڑ جانا۔  زیادہ تر افراد  کےنشے کی شروعات کم عمری میں ہوتی ہے یا تو جب حالات نا سازگار ہوں۔ یہ کہنا بے جا نہیں کہ سب سے زیادہ معاونت اپنے گھر سے ملتی ہے۔

نشے کے عادی فرد کو نظر انداز نا کریں اور نا اسے نفرت انگیز رویہ اختیار کریں۔ نشہ کرنے والا اکثر غلط بیانی سے کام لیتا ہے،اس لئے اس پر توجہ دیں اور اس کو مریض بننے سے بچائیں۔ سب سے پہلی ذمہ داری گھر والوں پر ہی عائد ہوتی ہے کہ جلد از جلد اپنے پیارے کی اس لت سے جان چھڑوائیں اور کسی اچھے ماہرِ نفسیات سے ضرور معاونت حاصل کریں۔

Email This Post
 

:ٹیگز

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

ضرور دیکھئے


 قلم رہے اورسربھی
قلم رہے اورسربھی

April 23, 2017 4:48 pm

 پاناما کا تماشا
پاناما کا تماشا

April 23, 2017 4:31 pm

 قلابازیاں
قلابازیاں

April 21, 2017 11:16 pm

 صبح کی سیر
صبح کی سیر

April 21, 2017 7:55 am