Wednesday, January 26, 2022  | 22 Jamadilakhir, 1443

مردوں کی غیرت ہم سے ہے

SAMAA | - Posted: Mar 17, 2017 | Last Updated: 5 years ago
SAMAA |
Posted: Mar 17, 2017 | Last Updated: 5 years ago

women

چند دن قبل ارکان قومی اسمبلی مراد سعید اور جاوید لطیف کے درمیان جو تلخ کلامی اور ہاتھا پائی ہوئی وہ قابلِ مذمت بھی ہے اور قابلِ افسوس بھی اور یہ سب کچھ اتنا نیا بھی نہیں کیونکہ بات تو تلخ ہے لیکن ہمارے مُلک کے عام گلی محلوں میں بھی ذرا سی تکرار کے بعد سامنے والے کی ماں بہن کو غلیظ اور انتہائی گرے ہوئے القابات دینا معمول کی بات ہے۔  یہاں بات اس لیے بھی زیادہ قابلِ مذمت ہے کہ یہ لوگ عوام کے منتخب نمائندے ہیں۔ اس تمام معاملے میں، ایک بات ضرور نوٹ کی اور وہ یہ کہ عمران خان کے چند کھلاڑیوں کو پھٹیچر کہنے پر جن صحافیوں اور سوشل میڈیا کی عوام کی زبانیں متحرک ہو گئیں تھیں اب جاویدلطیف کی طرف سے مرادسعید کی بہنوں کے بارے میں نازیبا الفاظ پرخاموش ہیں۔ میں عمران خان کا دفاع نہیں کر رہی لیکن یہ جانبداری ٹھیک نہیں ہے کہ ایک ہی شخص یا جماعت میں کیڑے تلاش کئے جائیں اور اُسکی ہی برائیاں اور کمزوریاں اچھالی جائیں۔ ذرا ایمانداری سے سوچ کر بتائیں کہ اگر مراد سعید کی جگہ ہم میں سے کوئی ہوتا اور جاوید لطیف ہماری کسی بہن یا بیٹی کیلئیے غلط زبان استعمال کرتے تو کیا ہم انکے ساتھ ایسا ہی یا اس سے بڑھ کر سلوک نہ کرتے؟۔

women3

یا ان کے ساتھ کھڑے ہو کر نہایت احترام سے ہاتھ باندھ کر کہتے کہ “قبلہ یہ جو ناشائستہ زبان آپ نے میری بہنوں /بیٹیوں کے متعلق استعمال کی ہے تو میں آپ سے یہ کہنے کی اجازت لینا چاہتا/چاہتی ہوں کہ میری بہنیں ایسی ہر گز نہیں ہیں وہ انہتائی شریف ہیں آپ کو کوئی شدید غلط فہمی ہوئی ہے اس لیے آپ سے درخواست ہے کہ جناب آئندہ اس طرح چوک چوراہے میں میری بہنوں کا نام اچھالنے اور انہیں بدکردار کہنے سے گریز برتیے گا کیونکہ اس سے میرے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔” عمران خان پر پھٹیچر جیسے الفاظ کہنے پر معافی مانگنے کا واویلا کرنے والوں نے اب جاوید لطیف پر بھی معافی مانگنے کیلئیے دباؤ کیوں نہیں ڈالا تھا؟۔

women1

کیا بہنیں اور بیٹیاں اتنی ہی ارزاں ہوتی ہیں کہ مخالف کےجذبات بھڑکانے کے لیے اُسے اُسکی ماں بہن یاد دلائی جائے؟ ہماری سیاسی جماعتوں کے عہدیداران کو یہ بات سمجھنی چاہئیے کہ مریم نواز سے لے کر افضا الطاف اور جمائما سے شرمیلا فاروقی تک یہ سب ہی عزت و احترام کے لائق ہیں۔ اور تمام سیاسی جماعتوں کے وہ کارکن جو ان خواتین کی تصاویر کو بھی گھٹیا طریقے سے فوٹو شاپ کر کے پھیلاتے ہیں، یا انکی من گھڑت اور اخلاق سے گری وڈیوز خود تخلیق کر کے عوام میں عام کرتے ہیں انہیں یاد رکھنا چاہئیے کہ ان کے اپنے گھر میں بھی بہن یا بیٹی تو ہو گی اگر ان کی کوئی ایسی تصویر سوشل میڈیا کے ہتھے اُسی طرح لگ جائے جس طرح وہ دوسروں کی بہن بیٹیوں کی تصویریں جذبات کو بھڑکانے والے انداز سے پھیلاتے ہیں توُ انہیں کیسا لگے گا؟اور یہی نہیں بلکہ  اُسی انداز میں کمنٹس پاس کئے جائیں جیسے جاوید لطیف نے مراد سعید کی بہنوں کے لیے کیے تو ردِّ عمل کیا ہو گا ؟۔

اس لیے انتہائی سنجیدگی سے میری گزارش ہے کہ “انسان بنیں”! جی ہاں انسان بنیں اور کسی کی بھی ناحق وفاداری میں اس حد تک آگے نہ نکل جائیں کہ پھر آپکو انکا کیا گیا ہر غلط عمل بھی درست معلوم ہو۔ پارلیمنٹ کے وہ نمائندے جنہیں عوام نے منتخب کر کے اعلیٰ ایوان تک بھیجا ان کے لیے تو کسی طور اس طرح کی زبان استعمال کرنا یا چوک چوراہوں کا رویہ اپنانا مناسب نہیں اور پھر بھی اگر وہ ایسا کرنے کے مرتکب قرار پائیں تو انہیں سخت سے سخت سزا سنائی جائے۔

women2

ایسی سزا جس کے بعد آئندہ کوئی بھی پارلیمنٹیرین اس طرح کا اسلوب اپنانےسے پہلے ہزار بار سوچے، جس طرح کسی مریض کی زندگی بچانے کے لئے اس کے جسم سےخطرناک پھوڑے کو نکالنے یا گلے سڑے عضو کو کاٹنے کے لیے آپریشن کرنا پرتا ہے اسی طرح انسانوں کو بھی اقوام میں تمیز و تہذیب برقرار رکھنے کیلیئے بعض اوقات مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں اور کیا ہی بہتر ہوتا کہ دونوں سیاسی جماعتیں خود اپنے نمائندگان کو سزا سنا کر تاریخ میں ایک مثال قائم کرتیں اور انہیں سمجھاتیں کہ سیاست ضرور کیجئے لیکن بہنوں بیٹیوں کی لفظی تجارت سے گُریز کیساتھ کریں۔ ۔کیونکہ

ہم مائیں ہم بہنیں ہم بیٹیاں
قوموں کی عزت ہم سے ہے

یہی کہنا خوبصورت بھی لگتا ہے اور مان لیجیئے کہ حقیقت بھی یہی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube