ویلنٹائن اوراینٹی ویلنٹائن ڈے تحریک

By: Imran Khushal
February 14, 2017

Valentine-825x436

بھلا ہو مارک زکربرگ کا جس کی بنائی ہوئی فیس بک بالکل ایسے ہی ہمیں ہماری باتیں یاد دلاتی رہتی ہے جیسے ایک بیوی ہر موقعے پر اپنے شوہر کو اس کے کیے ہوئے وعدوں کے الرٹس دیتی رہتی ہے۔ تیرافروری سن دو ہزار سترہ کی صبح جب میری آنکھ کھلی تو فیس بک نے دو سال پہلے اِسی دن کا ایک سٹیٹس دیکھایا۔

سٹیٹس کچھ یوں تھا۔’’میں نے بچپن میں اپنے بڑے بھائی کی کتاب پر ’شباب ملی‘ کا پوسٹر لگا دیکھا تھا ۔تب میرا خام خیال اس کے معنی سے نا آشنا تھا ۔آج اسلام آباد کی شاہراہوں پر اینٹی ویلنٹائن اشتہارات دیکھ کر لگا کے پندرہ بیس سال پہلے اور اس سے بھی قبل بنائے جانے والے ایسے ہی کئی سانچوں کا مقصد نوجوانوں کو وقت کے دھارے کے مخالف ڈھال کر’ ناکارہ ‘ کرنا تھا"۔

val

میں نے کافی محنت سے اک پوسٹ بنا ئی اور تحریر میں تھوڑی سی ترمیم کرکے اسی سٹیٹس کو دوبارہ فیس بک پراپ ڈیٹ کیا ۔ مگر چونکہ ٹویٹر ایک سو چوالیس حر ف سے زیادہ لکھنے نہیں دیتا اس لیے مجھے تحریر کو مزید مختصر کرنا پڑھا ااور واٹس ایپ کے براڈکاسٹ زیرو زیرو ون پر بھی یہی مختصر ورژن نشر کر دیا۔ اب تصویر جس پر لکھا تھا ’’ویلنٹائن ڈے بامقابلہ حیا ڈے‘‘ کے ساتھ تحریر کچھ یوں  تھی۔’’ اینٹی ویلنٹائن تحریک بنیادی طور پر نوجوانوں کو وقت کے دھارے کے مخالف ڈھال کرسیاسی طور پر ناکارہ کرنا ہے‘‘ ۔

val1

تقریباً اڑھائی سو موصول کنندان میں سےصرف ایک دوست جن کا نام محمد عامر ہے اور جنھوں  نے میرے ساتھ ہی ماسٹر آف فلاسفی  یعنی ایم فل میں پڑھائی کی تھی اور جو اب سیکرٹری  جنرل اسلامی جمعیت ِطلبہ پاکستان ہیں، کا ردعمل موصول ہوا۔محمد عامر نے پوچھا ’’ اچھا! یہ سیاسی مسئلہ ہے؟ میں نے جواب میں ’’ایل او ایل‘‘ لکھا اور کہا کہ ’’پھر سے پڑھیں‘‘۔انھوں نے کہا کہ’’پھر سے پڑھنے والی کیا بات ہے ؟ ویلنٹائن ڈے منانے سے نوجوان سیاسی طور پر بالغ ہو جائیں گے ؟ میں نے کہا ’’نہیں‘‘۔ ’’آپ سمجھے ہی نہیں‘‘۔ انھوں نے کہا ’’میں اینٹی ویلنٹائن لوگوں کی مخالفت کی وجہ سمجھنا چاہ رہا ہوں۔آپ سمجھا دیں ناں‘‘۔ جس پر میں نے انھیں کال کی اور کہا۔ عین ممکن ہے کہ میری بات سے آپ نے یہ تاثر لیا ہو کہ میں ویلنٹائن ڈے  منانےکا حامی ہوں ۔ جو کہ میں نہیں ہوں۔ بات دراصل یوں ہے کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ موجودہ نظام میں عالمی دنوں کی کمرشلائزیشن ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہوتی ہے۔ اور وہ منصوبہ بقول کارل مارکس نظامِ زر کا تحفظ ہے۔

val4

مارکس کہتا ہے کہ سرمایہ داری میں کھیل ،تماشوں اور تفریح کا مقصد عوام (محنت کشوں ) کو فضولیات میں الجھائے رکھنے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ یہ کھیل تماشے اور تفریح چاہے کرکٹ، فٹبال، ہاکی یا کسی اور کھیل کی شکل میں ہوں  یا ویلنٹائن ڈے، فرینڈشپ ڈے، مدرز ڈے ، فادرزڈے یا کسی بھی اور دن کی شکل میں عوام کو مصروف رکھتے ہیں ۔ ان کو ان کی تکالیف اور پریشانیوں سے وقتی طورپر آرام مہیا کرتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے افیون وقتی طور پر آرام مہیا کرتی ہے۔

ویلنٹائن ڈے کی کمرشلائزیشن سیاسی مسئلہ ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے مذہبی تہواروں کی کمرشلائزیشن سیاسی مسئلہ ہے۔ اور یہ سیاسی مسلہ مروّجہ سیاسی اور معاشی نظام کی وجہ سے ہے۔ مروّجہ سیاسی و معاشی نظام سرمایہ داری ہے۔ سرمایہ داری کو کچھ نہ کہنا اور ویلنٹائن ڈے  کو سیاسی مسئلے سے اخلاقی مسئلہ بناناایسے ہے جیسے کنویں کو پاک کرنے کے لیے کنویں سے ناپاک پانی نکال لینا لیکن کنویں میں مرے کتے کو باہر نہ نکالنا۔

valentines-day-in-karachi-pakistan

اینٹی ویلنٹائن ڈے تحریک اس لیے برُی ہے کہ یہ اجتماعی سیاسی مسئلے کو انفرادی اخلاقی مسئلہ بناتی ہے۔ذاتی اعتبار سے میں کب کسی سے پیار کا اظہار کرتا ہوں اور اس اظہار کےلیے کتنی قمیت کے تحفے تحائف خریدتا ہوں، یہ میرا مسئلہ ہے کسی سیاسی جماعت یا ریاست کا مسئلہ نہیں۔ لیکن اجتماعی طور پر اگر ہم اپنی طاقت کسی مسئلے کو حل کرنے پر اس طرح صرف کرتے ہیں جیسے کنویں  سے کتا نکالے بغیر پانی  صاف کرنا ہے تو یقینا یہ نوجوانوں کو ناکارہ اور بزرگوں کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔

Email This Post
 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
 

ضرور دیکھئے