Thursday, January 27, 2022  | 23 Jamadilakhir, 1443

گھرکوآگ لگ گئی گھرکےچراغ سے

SAMAA | - Posted: Feb 11, 2017 | Last Updated: 5 years ago
SAMAA |
Posted: Feb 11, 2017 | Last Updated: 5 years ago

PSL FIXING PKG 11-02 Mukkaram

پاکستان کرکٹ ٹیم کے بلے باز شرجیل خان اور خالد لطیف جو دبئی گئے تو تھے بڑے جوش سے کہ پاکستان سپر لیگ میں خوب بلے بازی کرینگے اور ہو گی چھکوں کی بارش لیکن دونوں کھلاڑیوں کو ہی شاید پچ پر اپنی مہارت دکھانے سے قبل ہی لالچ نے آن گھیرا اور سٹہ بازوں نے دونوں کو ہی آؤٹ کر ڈالا۔ پاکستان سپر لیگ 2017 کے آغاز پر ہی پاکستانی کرکٹرز شرجیل خان اور خالد لطیف کے مبینہ طور پر بک میکرز کے ساتھ روابط نے سب کو حیران کر دیا۔ دونوں کھلاڑی پی ایس ایل میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے بلے باز کی حیثیت سے شریک ہوئے تھے، دونوں کو پاکستان کرکٹ بورڈ نے معطل کر دیا اور فوری طور پر دبئی سے پاکستان بھیج دیا۔ پاکستان سپر لیگ میں یہ اینٹی کرپشن کا پہلا کیس سامنے آیا ہے۔

سال دو ہزار دس میں پاکستان کے ابھرتے ہوئے تیز گیند پھینکنے والے محمد عامر، محمد آصف اور اوپننگ بلے باز سلمان بٹ کوا سپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث ہونے پر جیل کی سزا کاٹنا پڑی تھی۔ جس میں تینوں ہی کھلاڑی انگلینڈ میں ہونے والے سیریز میں میچ فکسر کے ساتھ ملوث پائے گئے تھے۔ انکوائری میں یہ بات ثابت ہو گئی تھی کہ محمد عامر اور محمد آصف نے جان بوجھ کر نو بالز کروائی تھیں جبکہ سلمان بٹ جان بوجھ کر آؤٹ ہو گئے تھے۔

Express Najam Sheriyar Talk 29-12

کرپشن کہانی سامنے آںے پر پاکستان سپر لیگ کے چئیرمین نجم سیٹھی خاصے برہم دکھائی دیتے ہیں اور عزم بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ سخت کارروائی کی جائے گی۔ ادھر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہر یار خان بھی خوب بڑے بڑے جملے بول رہے ہیں۔ لیکن ان دونوں کی کرم نوازیوں سے ہی محمد عامر سزا بھگتنے کے بعد دوبارہ گرین شرٹ پہن کر قومی کرکٹ ٹیم کا حصہ بنے۔ اگر محمد عامر کو مثال بنایا جاتا اور گرین شرٹ ایک سزا یافتہ شخص نہ پہنتا تو آج کرکٹ کے شائقین کے دل نہ ٹوٹتے۔ کرکٹ بورڈ کے دونوں ہی سربراہ سزا یافتہ محمد عامر کر قومی ٹیم کا حصہ بنانے کے لیے راہ ہموار کرنے میں خاصے متحرک رہے تھے۔

اگر کرکٹ کے بڑوں نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے اور میچ فکسر کو باتوں کی بجائے عملی طور پر سخت سزا نہ دی تو کھیل کے ساتھ کھلواڑ ہوتا رہے گا۔

pak sports cricket

پاکستان کی حکومت اور کرکٹ بورڈ دونوں ہی ایک طرف تو کرکٹ کی پاکستان میں واپسی اور بحالی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں جس پر انہیں عوام کا تعاون بھی حاصل ہے لیکن دوسری طرف کھلاڑیوں کی طرف سے ہی ایسے شرمناک واقعات سے نہ صرف دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی ہو رہی ہے اور شائقین کرکٹ سے بھی متنفر ہوتے جائینگے۔

پاکستان سپر لیگ کا آغاز جمعرات کو اسلام آباد یونائیٹڈ اور پشاور زلمی کے درمیان میچ سے ہوا تھا جس میں شرجیل خان اسلام آباد یونائٹڈ کی ٹیم میں شامل تھے جبکہ خالد لطیف یہ میچ نہیں کھیلے تھے۔

انڈین کرکٹ لیگ میں بھی اس قسم کی خبریں سامنے آئی تھیں جس کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ نے انڈین پریمیئر لیگ میں اسپاٹ فکسنگ کے قصوروار کھلاڑیوں پر عمر بھر کے لیے کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

پاکستان میں کرکٹ کے میدانوں کو ویران کرنے کے لیے ایک حملہ دہشتگردوں نے سال 2009 میں کیا تھا، دوسرا حملہ گرین شرٹس پہننے والوں نے سال 2010 میں کیا اور اب رہی سہی کسر نئے ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں نے سال 2017 میں پوری کر دی ہے۔ اس کو کہتے ہیں گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube