نیو ورلڈ ڈس آرڈر

February 10, 2017

239c30be36b232afc0a7ed3bb3a384ea

امریکہ میں عام انتخابات کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بنتے ہی دنیا بھر میں نیو ورلڈ آرڈر کی پرانی بحث پھر سے نئی ہو گئی ہے۔ یورپ اور امریکہ کے مشہور جریدوں کے مضامین سے لے کر پوری دنیا کے مقبول ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز تک ہر جگہ سیاست اور خاص طور پر امریکی سیاست پر بحث و مباحثے ہو رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر شاید ہی کوئی نیوز فیڈ ہو جس میں مستقبل میں ہونے والے واقعات کی غیر یقینی کے حوالے سے ایک عمومی خدشے کا اظہار نہ کیا جا رہا ہو۔

پچھلے ایک ماہ میں جس طرح سے عالمی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اور پچھلے کئی سالوں سے جو بحرانی کفیت ہے اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کے اب ’نیا آرڈر‘ پہلے سے بڑھ کر ’ڈس آرڈر‘ ہوگا۔

صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ جتنی گرم جوشی سے روس کے ساتھ تعاون بڑھانے کے اندیے دے رہے ہیں اس سے ایک بات تو واضح ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکہ اور چین ایک دوسرے کے مد ِمقابل ہوں گے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ صدر ٹرمپ سیکرٹری آف دی اسٹیٹ ریکس ٹلرسن اور اس طرح کے دیگر بااثر کروڑ پتی اشخاص کے روسی صدر پوٹن سے قریبی تعلقات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے روس اور امریکہ کے باہمی تعلقات کو بہتر کرنے کی کوششوں میں کامیاب ہو جائیں۔

o-TRUMP-PUTIN-570

اس محاذ پر اگر امریکہ روس کو پاس لانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ اس پوزیشن میں ہوگا کہ چین کو قابو کرنے کی طرف توجہ دے سکے۔ صدر ٹرمپ کے آتے ہی چین اور امریکہ کے مابین ایک ناخوشگوا ماحول تو پہلے سے بنا ہوا تھا اس میں شدید تناو تب آیا جب اقتدار سنبھالنے سے پہلے ہی امریکہ نے تایوان سے تعلقات بحال کرنے کے حوالے سے بیانات دیے۔ یاد رہے کہ اگر امریکہ تایوان سے باضابطہ سفارتی تعلقات کو بڑھتا ہے تو اس سے چین اور تایوان کی دشمنی مزید گہری ہوگی اور چین اور امریکہ کےتعلقات بھی خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔

0-q6ibqcq1FXltFnbh

امریکہ کے بعد فرانس اور جرمنی میں نسل پرستوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت جہاں ایک طرف یورپ اور امریکہ کی حکومتوں ، ادراروں اور عوام کے بیچ کی خلیج کو وسیع کرئے گی وہیں دوسری طرف طاقت کے مختلف مراکز کو بھی ایک دوسرے کے روبرو لا کھڑا کرئے گی۔

گو کئی لوگوں کا خیال ہے کہ آنے والا وقت ریجنل پاورز کا ہے اور روس اور چین ایران، پاکستان، بھارت اور ایسے ہی دیگر ریجنل کھلاڑیوں کو ساتھ ملا کر امریکی بالادستی کو ختم کر دیں گے لیکن یہ خیال ابھی محض ایک مفروضہ ہے۔ کیونکہ یہ تمام ریجنل پاورز کسی نہ کسی طرح پہلے ہی امریکہ کے زیرِ سایہ اپنے اپنے نظام کو چلا رہی ہیں۔

refugee-hero-1

اور ماضی قریب میں امریکہ کے ان میں سے متعدد ممالک کے ساتھ ہونے والے معاہدے اس بات کا ثبوت ہیں کہ امریکہ ان میں سے جس بھی ملک کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائے گا وہ ریجنل گیم چھوڑ کر انٹرنیشنل گیم کھیلنے کو ترجیع دے گا۔

مشرقِ وسطہ سمیت دنیا آج جس نہج پر پہنچی ہوئی ہے وہاں سے معمول کی طرف واپسی ممکن نہیں، عراق کی تباہی، شام کی خانہ جنگی یمن اور سعودی عرب کی جنگ۔ ترکی میں بغاوتیں اور امریت، معاشی بحران، ہجرت، دہشت گردی اور اسی قسم کے سینکڑوں مسائل وہ تمام عوامل ہیں جو دنیا کے مستقبل کو غیر یقینی بنا رہے ہیں۔

Email This Post
 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.