بارش فطرت کے ترکش کا انوکھا تیر

By: Imran Khushal
February 2, 2017

quetta weather quetta rain

بارش فطرت کے ترکش کا وہ تیر ہے جو انسان کے لیے چلے تو اس کے دامن کو لاکھ طرح کے ثمرات سے بھر دے اور اگر انسان پر چلے تو اس کی بقا کوہی خطرے میں ڈال دے۔ اوراگر یہ رک جائے تو سب کچھ ہی رک جائے کچھ بھی نہ چل سکے۔ بارش شاید وہ سب سے نمایاں فطری مظہر ہے جس نے انسان کو ان دیکھی قوتوں پر ایمان لانے اور پھر ان قوتوں سے مدد مانگنے پرمجبور کیا۔ یعنی یہ ایک طرح سے  دیوی دیوتاؤں کی وجہِ تخلیق بھی ہے اور مذہب کی بنیاد بھی۔ لیکن ایسا نہیں کے بارش نے انسان کو محض مذہبی اور طرح طرح کی عبادت سے غیبی قوتوں کو رحم و کرم پر مائل کرنے والا  بنایا ہے بلکہ اس نے انسان کو وہ بنایا ہے جو وہ آج ہے۔ اس نے انسان کو وہاں لایا ہے جہاں وہ آج کھڑا ہے۔

Lahore Rains Lhr Pkg Zubair 25-012

یہی وہ سب سے موثر مظہر تھا جس نے انسان کو غاروں میں دھکیلا۔ اسے جھونپڑے بنانے پر مجبور کیا۔ اس سے کھیتی باڑی کروائی اور غلہ اگوایا اور’ہنٹنگ اور گیدرنگ‘ کے فیز سے نکال کر اس مقام پر لایا جہاں وہ کھانے کی فکر سے آزاد ہوکر علم و ادب اور فلسفہ کی طرف متوجہ ہو سکا۔ اگر بارش کے بغیر زندگی ممکن ہوتی تو انسان کی آج دن تک کی بنائی ہوئی ہر شے مختلف ہوتی۔ دنوں اور مہنوں کے نام مختلف ہوتے۔ ادب مختلف ہوتا۔ آرکیٹیک مختلف ہوتا۔ ملبوسات وہ نہ ہوتے جو ہیں۔ رہن سہن کے طریقے مختلف ہوتے۔ غرض کے انسان خود بہت مختلف ہوتا۔

مذہب اور سائنس وہ دوآلات ہیں جن کے مدد سے زندگی اور بالخصوص انسانی زندگی کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سائنس اپنی اصل میں مذہب کا ’اینٹی تھیسس‘ ہے اور مذہب ’تھیسس‘۔ بارش اور اس سے جڑے عوامل تقریباً ہرمذہب کے بنیادی مرکبات میں سے ہیں۔ اب اگر ’تھیسس‘ اگر مذہب نہ ہوتا  توعین ممکن ہے کہ  اس کا اینٹی تھیسس  سائنس بھی نہ ہوتی۔عام طور پر فطری مظاہر کے ساتھ جڑے انسانی جذبات مثبت ہوتے ہیں یا منفی۔ مثال کے طور پر تمام انسانوں کو چاہے وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں رہتے ہوں آندھی، طوفان اور زلزلے ناپسند جبکہ خوشبو،ہوا، روشنی وغیرہ پسند ہوں گے۔ لیکن بارش ایک ایسا مظہر ہے جو کبھی پسند کیا جاتا ہے اور کبھی نی پسند اور کبھی تو ایک ہی وقت میں پسند بھی کیا جاتا ہے اور ناپسند بھی۔ مثال کے طور پر گانے جیسا کہ زندگی بھر نہیں بھولے گی برسات کی رات، بھیگی سی اک رات یہ ، رم جم رم جم وغیرہ بارش سے جڑے خوشی کے جذبات کی عکاسی کرتے ہیں جبکہ یہ گانے جیسا کہ نینا برسیں رم جم، ساون کی بھیگی راتوں میں اور آنکھوں میں تو ہے برسات وغیرہ بارش اور غم کی عکاسی کرتے ہیں۔

rain

کسی نے کہا تھا کہ بارش کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ بلآخر رک جاتی ہے۔ اس لیے اگر آپ بارش کو ناپسند کرتے ہیں تو یقین رکھیں کے یہ آخر کار  رک جائے گی اور اگر آپ اسے  پسند کرتے ہیں تو جی بھر کر اس سے لطف اندوز ہو لیں کیونکہ ۔۔۔ یہ بلآخر رک جائے گی۔

Email This Post
 

:ٹیگز

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.