پُراثر گفتگو کیسے کی جائے؟

By: Imran Khushal
January 17, 2017

commu

ہر شخص چاہتا ہے کہ وہ جو کہے اسےتوجہ کے ساتھ سنا جاے اور اس کی بات کومعتبر سمجھا جائے۔ اسے گفتگو کے بیچ ٹوکا نہ جائے۔ اس کے سنائے ہوئے لطیفے پر ہنسا جائےا ور اس کی بتائی ہوئی سنجیدہ بات کو سنجیدگی سے سنا اور اس پر مناسب ردعمل کیا جائے۔

پر ہم میں سے اکثر لوگ جب بول رہے ہوتے ہیں تو ان کی بات کو سنا نہیں جا رہا ہوتا۔ وہ بات کر رہے ہوتے ہیں اور سامنے والا شخص اپنے موبائل کے ساتھ کچھ کر رہا ہوتا ہے۔ وہ کچھ اور کہہ رہے ہوتے ہیں لیکن ان کا سامع یا سامعین کچھ اور سمجھ رہے ہوتے ہیں۔

tips to remmember while meeting stranger. (1)

یہ درست ہے کہ ماضی کے مقابلے میں زندگی مصروف ہو گئی ہے۔ اور کسی حد تک مشکل بھی۔لوگ ایک وقت میں ایک سےزیادہ کام کرنے کی کوشش میں کسی ایک شے پر مکمل توجہ نہیں دے پاتے۔ اور اسی وجہ سے کئی بار سنی کو ان سنی کر دیتے ہیں۔ بظاہر ہاں ، ٹھیک ہے، اچھا ، وغیر ہ کہہ کر سر بھی ہلا دتے ہیں لیکن سنتے نہیں۔

dt_151030_doctor_patient_talk_800x600

ہم سب اس مشکل صورتِ حال سے دوچار ہوتے ہیں ۔ لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ وہ لوگ جن کو گفتگو کا فن آتا ہے ان کو کم پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کی گفتگو موثر ہوتی ہے اور سننے والا دس کام چھوڑ کر بھی ان کی بات سنتا اور سمجھتا ہے۔

Business Discussion

مزے کی بات یہ کہ تھوڑی سی محنت سے آپ بھی پراثر گفتگو کا ہنر سیکھ سکتےہیں۔اور مسلسل مشق سے اس قابل ہو سکتے ہیں کہ جب آپ بات کریں تو آپ جو کہنا چا رہے ہوں وہ کہہ سکیں۔ آپ کو خود بھی محسوس ہو کہ آپ کی بات کو سنا گیا اور وہ بے اثر نہیں رہی۔

7-Rules-of-Effective-Communication-with-Examples-Invensis-Learning

پراثر گفتگو کے لیے ضروری ہے کے سب سے پہلے آپ جس ماحول میں گفتگو ہو رہی ہے اس کو سمجھیں۔ فرض کریں آپ نے اپنے ایک دوست سے کہنا کہ آپ اس کی کسی بات سے اچھا محسوس نہیں کرتے اس لیے وہ آج کے بعد وہ بات نہ کرے۔ تو اس کے لیے مناسب ترین طریقہ یہ ہے کہ آپ اکیلے میں اس سے بات کریں نہ کے دوسرے لوگوں کو موجودگی میں۔ مندرجہ ذیل عادتوں کواپنا کرکے آپ بھی پراثر گفتگو کرنا سیکھ سکتے ہیں۔

۱۔ مناسب وقت کا انتخاب کریں۔

موضوع کی مناسبت سے وقت کا انتخاب کریں۔ بات چاہے کتنی ہی مختصر ہو وقت کا موزوں ہونا انتہائی ضروری ہے۔

۲۔ سننے والے کا موڈ دیکھیں۔

جیسے ہم کوئی بھی کام ہر وقت نہیں کر سکتے ایسے ہی ہر وقت سننا بھی ممکن نہیں ہے۔ اس لیے بات کرنے سے پہلے سننے والے کے موڈ کو سٹڈی کریں۔

۳۔ سننے والے کو ذہنی طور پر تیار کریں۔

اگر بات انتہائی اہم ہو توپیشگی وقت لیے لیں۔ اس سے اگلے بندے کے ذہن میں آپ کی بات کے مطلق سوچنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے ۔

۴۔ پوسچر کا دھیان رکھیں۔

دورانِ گفتگو چاہے آپ کھڑے ہوں یا بیٹھے ۔ آپ کا پوسچر آپ کے بات شروع کرنے سے پہلے ہی سننے والے کو بہت کچھ کہہ دیتا ہے۔ اگر آپ بہت ریلیکس پوسچر سے بہت اہم بات کر یں گے تو وہ آپ اتنی موثرنہیں ہوگی جتنی کے ایک الرٹ پوسچر کے ساتھ کی گئی بات۔

۵۔ لہجے اور بات میں مماثلت۔

جیسے کسی سے دکھ کے اظہار پر لہجے میں ہمدردی اور احساس کی ضرورت ہوتی ہے ایسے ہی کسی کی کامیابی پر اسے مبارک باد دیتے ہوئے بھی لہجے سے خوش اور پرجوش ظاہر ہونا ضروری ہے۔

۶۔ تنقید برائے تنقید سے اجتناب کریں۔

ہر بات پر تنقید کرنے والےشخص کو کوئی بھی پسند نہیں کرتا اس لیے اس کی بات کو بھی کوئی نہیں سنتا۔ ہر بات پر تنقید کرنےسے پرہیز کریں۔

۷۔ ہر وقت اپنے مسائل کا رونا نہ روئیں۔

ہر شخص کی زندگی میں مسائل ہیں۔ مسائل پر بات کرنا ضروری ہے دوسروں سے مشورہ لینا بھی ضروری ہے لیکن ہر وقت مسائل پر بات کرنا کوئی بھی پسند نہیں کرتا۔

۸۔ ایک ہی موضوع پر گفتگو نہ کریں۔

اپنی گفتگو میں وسعت لائیں۔ ایک ہی موضوع پر بولنے سے بھلے آپ کو خوشی ملتی ہو لیکن یہ سننے والے کے لئے کسی عذاب سے کم نہیں۔

۹۔ باڈی لینگویج کا درست استعمال کریں۔

دورانِ گفتگواپنے اور سننے والے کےبیچ مناسب فاصلہ رکھیں اور غیر ضروری ٹچنگ سےاجتناب کریں۔ نہ سننے والے کے اتنے پاس کھڑے ہوں کے اس کو سانس لینا بھی مشکل ہو جائے اور نہ ہی اتنا دور کہ عجیب محسوس ہو۔

۱۰۔ سننے کی پریکٹس کریں۔

لوگ اس شخص کی بات سنتے ہیں جو ان کی بات سنتا ہے۔ اس لیے اپنی گفتگو کو موثر بنانے کے لیے دوسرے شخص کی بات کو باغور سنیں اور پھر اپنی بات کریں۔

Email This Post
 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.