دنیا کا پہلا، آخری، چھوٹا، بڑا، وغیرہ وغیرہ بلاگ

By: Imran Khushal
January 9, 2017

1

تحریر : عمرا ن خوشحال

یہ دعوؤں کی دنیا ہے، جھوٹے دعوؤں کی دنیا، بے بنیاد، خود ساختہ، من گھڑت، من چاہے دعوؤں کی دنیا، ایسے  دعوے جن کا تخیل بھی ممکن نہیں اور  ایسے دعوے جو اپنی ذات میں ہی متضاد، مبہم اور مشکوک ہیں، پر وہ ہیں اور پوری شدت سے ہیں۔

جیسے میرا دعویٰ آپ کے سامنے ہے اور آپ کے پاس اس کی تصدیق یا تردید کے لئے نہ تو کوئی پیمانہ ہے اور نہ ہی فالتو وقت، ایسے ہی  روز مرّہ کے سینکڑوں نہیں ہزاروں دعوے آپ کی نظروں سے گزرتے ہیں، کانوں میں پڑتے ہیں، زبان سے ادا ہوتے ہیں اور بالآخر آپ کی زندگی کا حصّہ بن جاتے ہیں۔

دن رات 24 گھنٹے جب آپ ایسے دعوؤں میں زندہ رہتے ہیں جیسے، دنیا کی بہترین چائے، سب سے گاڑھا دودھ، سستا ترین انٹرنیٹ، عمدہ کھانوں کا واحد مرکز، تیز ترین کار، نمبر ون نیوز چینل، کامیاب ترین ٹاک شو، سب سے زیادہ  برف بنانے والا فریزر، سب سے زیادہ گرم کرنیوالا ہیٹر، سب سے کم گھلنے والا ڈش واشر، 99 فیصد خشکی ختم کرنے والا شیمپو، تو آپ یقیناً 100 فیصد پاگل ہو جاتے ہیں۔

1a

اور پھر ان دعوؤں کی عملی شکل دیکھنی ہو تو اپنے روز مرّہ کے معمولات اور گفتگو پر غور کریں، اکثریت کی پسند وہی جس کی تشہیر سب سے زیادہ اور اکثریت کی گفتگو ایسی جیسے ٹی وی کے کمرشلز  یا اخبار کے سیاسی بیان۔

میرا کاروبار سب سے بڑھیا ہے، اس کی نوکری سب سے اچھی ہے، میں پورے کا پورا آپ کا ہوں، تم صرف اور صرف میری ہو، وہ ساری دنیا سے زیادہ خوبصورت ہے، یہ میرا سب سے گہرا دوست ہے، میری ڈگری کا اسکوپ سب سے زیادہ ہے، میری یونیورسٹی نمبر ون ہے، وغیر وغیرہ

اور یہی نہیں ہمارے عہد کی شاعری ہو یا موسیقی، سیاست ہو یا صحافت، ہر صنف ہر شعبہ دعوے کی نفسیات کا شکار ہے، شاعری یا انتہائی خوشی کی عکاس ہے یا بے تحاشہ غم کی اور پھر موسیقی بھی ویسی ہی، سیاست تبدیلی اور انقلاب کے دعوؤں کے گرد لیکن  نظریات ہر جگہ غائب، صحافت سب سے پہلے اور سب سے بہتر کے دعوے پر لیکن تحقیق اور تعمیر سے عاری۔

1b

دعوؤں میں تو ہر شے مکمل اور 100 فیصد ہوتی ہے اور خود ساختہ و بے بنیاد دعوؤں میں تو شاید اس سے بھی زیادہ، لیکن چونکہ حقیقی زندگی پرفیکٹ نہیں ہوتی، اس لئے ہر طرح کے امکانات کو مدِ نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے، جو ہم میں سے اکثریت نہیں رکھتی، بسا اوقات ساری عمر جھوٹے دعوؤں کے ساتھ گزار دیتی ہے۔

آج دنیا میں رابطے کے سینکڑوں ذرائع ہیں، سیارے کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک سیکنڈز میں  آواز اور تصویر بھیجنے کی سہولتیں ہیں، سائنس اور فلسفے سے لیکر ہر طرح کے سماجی اور سیاسی موضوعات پر بات کرنے کیلئے مواد ہے لیکن اکثریت کو دعوؤں کا مرض لاحق ہے اور اس بیماری کے ساتھ ویسا ہی ادب تخلیق ہوگا جیسا ہورہا ہے، ویسی ہی سیاست ہوگی جیسی ہورہی اور صحافت میں پھر آپ کو دنیا کا پہلا، آخری، چھوٹا، بڑا، لمبا، چوڑا وغیرہ وغیرہ قسم کے بلاگ اور تحریریں ہی پڑھنے کو ملیں گی۔

Email This Post
 
 

One Comment

  1. Howprices   January 9, 2017 6:54 pm/ Reply

    I totally agree with you…

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.