کیا ’’معمول‘‘ سے رہائی ممکن ہے؟

By: Imran Khushal
December 22, 2016
Conceptual clock for a healthy life

معمول ۔۔۔ایک ایسا قید خانہ ہے جس کی سلاخیں نظر نہیں آتیں پر وہ ہیں۔ وہ ہیں اور بہت مضبو ط ہیں۔ وہ اتنی نادیدہ ہیں کہ بہت ساروں  کو عمر بھر ان کے  ہونے کا احساس ہی  نہیں ہوتا اور وہ اتنی مضبوط ہیں کہ اگر کسی کو ان کی موجودگی کا پتا چل بھی جائے تو بھی ان کو توڑنا آسان نہیں ۔ معمول۔۔۔ پیدا ہونا،بڑھنا،جوان ہونا،شادی کرنا،بچے پیدا کرنااورمرجانا بھی ہے۔ اور صبح اٹھنا،دن بھر مادی ضرورتوں کے حصول کے لیے بھاگ دوڑ کرنا،رات کو کھاکربستر پرگرجانا اور پھر صبح یہی دہرانے کے لیے اٹھ جانا بھی۔

پیدا ہونے،بڑھنے،جوان ہونے، شادی کرنے، بچے پیدا کرنے اور مر جانے کے ’معمول ‘کو  محض آسانی کی غرض سے زندگی کہا جاتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ ’معمول‘ زندگی کے معیار پر پورا  نہیں اترتا ۔ دن بھر کے ’معمول‘ کا کوئی مختصر اور آسان نام نہیں لیکن آج کل اس ’معمول‘ کو  ’ڈیلی روٹین ‘’ایوری ڈے لائف‘ یا ’روز مرّہ زندگی‘  کہا اور لکھا  جاتا ہے۔

ہم میں سے گنے چنے ہیں جو ان دو طرح کے  معمولات سے آزاد جیتے ہیں۔ ایسے لوگ زندگی کی وہ قسم  نہیں جیتے جو اکثریت جی کے مر جاتی ہے۔ بلکہ وہ قسم جیتے ہیں جس سے وہ مر کے بھی زندہ رہتے ہیں۔ لیکن غیر معمولی زندگی جینے کے لیے روزمرّہ کے معمول سے آزاد ہونا لازم ہے۔ اب سوا ل یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا روزمرّہ کے معمول سے رہائی ممکن ہے؟ اور اگر ہاں تو کس طرح؟

daily1

اس کا مختصر جواب ہے سوچنے سے، اور اس کا مفصل جواب ہے،غور کرنے سے۔ خود سے سوال پوچھنے سے، ہرعمل کی عقلی اور منطقی دلیل طلب کرنے سے،اس کے کرنے اورنہ کرنے کے فرق کو جاننے سے، معمول کے ادراک سے، اس کی نادیدہ سلاخوں کی موجودگی کے احساس سے، ان سلاخوں کے اُس طرف غیرمعمولی زندگی جینے کا حوصلہ پیدا کرنے سے، اور پوری ہمت اورقوت سے ان سلاخوں پرکاری ضرب لگانے سے۔

اگلی بار آٓپ کوئی بھی عمل کرنے لگیں تو خود سے اس  کے متعلق سوال کریں، اس کی عقلی اور منطقی وجہ طلب کریں۔ سوچیں کہ میں اگر یہ کام نہیں کرتا تو اس سے کیافرق پڑھے گا۔ سوچیں کے یہ کام آپ نے پہلے کیا تھا تو کیا نتیجہ نکلا تھا اور اب کریں گے تو کیا نتیجہ نکلے گا۔ اس بار کا نتیجہ پچھلی بار سے مختلف یا بہتر کیسے ہوگا۔ سوچیں کے اگر آج سے کئی سال بعد بھی یہی کر رہے ہوں گے تو کیا نتیجہ نکلے گا اور کیا  آپ اس سے خوش ہوں گے۔

Internet Things Isb Pkg 05-11

مثال کے طور پرآجکل انٹرنیٹ ہردوسرے شخص کا معمول ہے۔ سوشل میڈیا استعمال کرنا اورزیادہ سے زیادہ  وقت آن لائن رہنا،لائک کرنا،شئیرکرنا وغیرہ ، ہرایک شخص کی روزمرّہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ لاکھوں نہیں کروڑوں لوگ ایسے ہیں جویہ سب کچھ بنا سوچے سمجھے کر رہے ہیں۔ فیس بک سے لے کر انسٹاگرام تک کسی بھی سائٹ پر اکاؤنٹ بنانے سے پہلے کتنے لوگ ہیں جو یہ سوچتے ہیں کہ کیا انہیں واقعی ہرسوشل میڈیا ویب سائٹ پر اکاؤنٹ کی ضرورت ہے؟

یقیناً بہت کم لوگ ایسے ہیں جو اپنے کسی بھی عمل کے بارے سوچتے ہیں۔ اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو دیکھا دیکھی کی نفسیات رکھتے ہیں۔ اور جو کچھ ان کے اردگرد ہو رہا ہوتا ہے وہی کرتے چلے جاتے ہیں۔ اس سےڈیلی روٹین کا کبھی نہ ختم ہونے والا وہ سلسلہ شروع ہوتا ہے جو بہت ساروں کی موت کے ساتھ ختم ہوتا ہے اور بہت ساروں کا تو اگلی نسل میں منتقل ہو جاتا ہے۔ معمول میں جکڑے ان قیدیوں کے ہاں نئے قیدی پیدا ہوتے چلے جاتے ہیں جو نادیدہ سلاخوں کے پیچھے بڑھے ہوتے ہیں۔ جوان ہوتے ہیں۔ شادی کرتے ہیں۔ نئے قیدی پیدا کرتےہیں اور مر جاتے ہیں۔

Email This Post
 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

ضرور دیکھئے