کشمیری ماں کا کھلا خط

December 3, 2016

PAKISTAN-INDIA-UNREST-KASHMIR

میں اب عمر کے اس حصے میں ہوں جہاں مجھے سچ بولنے سے خوف ہے نہ جھوٹ بول کر کچھ پانے کا لالچ۔ بلکہ میں تو سبھی کچھ کھو چکی ہوں۔عمر بھر کا حاصل میرے بچے تھے جو اب نہیں رہے۔ میرا سینہ درد سے چھلنی ہے اور میری آنکھوں میں اب آنسو نہیں خون ہے۔ اس لیے ہو سکےتو میرےلکھے کا یقین کرنا۔

کتنی عجیب بات ہے کہ آپ میں سے بہت سارے ابھی سے ہی  یہ سوچ رہے ہیں کہ میں لائن آف کنٹرول کے کس پار رہتی ہوں اور میرے بچے کس کی بندوق کی گولی سے مرے؟ میں ہندو ہوں یا مسلمان ؟ بھارت کی ہمدرد ہوں یا کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ لگاتی ہوں؟  تاکہ اگلے ہی لمحے مجھے حب الوطنی یا غداری کا سرٹیفیکیٹ جاری کرکے میرے پیغام  کو جھوٹ یا سچ قرار دے کر  اسلام آباد یا نئی دہلی کی حکومت کے حق یامخالفت میں استعمال کر سکیں۔

افسوس،ایسی سوچ پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ میرے بچے کس کی گولی یا گولے سے مرے ہیں ۔اور میں کشمیر کے کس پار برباد ہوں۔ ہاں اس سے فرق پڑتا ہے  کہ وہ زندہ نہیں  رہے۔  اور لاکھوں معصوموں کی طرح وہ بھی بھارت اور پاکستان کی جنگ کا ایندھن بن گئے ہیں۔

oic-calls-upon-india-un-to-resolutions-on-kashmir-1460909478-7887

مجھے دونوں ملکوں  کے حکمرانوں سے کچھ نہیں کہنا کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ جب وہ اپنے لوگوں کا  رونا نہیں سنتے، جن کے ووٹوں سے و ہ اقتدار حاصل کرتے ہیں اور جن کے ٹیکسوں سے حکمرانی کرتے ہیں تو میرا  ان کے آگے رونا بےکار ہے۔ مجھے دونوں طرف کی کشمیری حکومتوں سےبھی کچھ نہیں کہنا کیونکہ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ ان کے اختیار میں کچھ بھی نہیں اور یہ اسلام آباد اور نئی دہلی کی مرضی کے خلاف کچھ بھی نہیں کر سکتی ہیں۔

مجھے بھارت اور پاکستان کےان عوام سے مخاطب ہونا ہے جن میں انسانیت کی کوئی رمق باقی ہے اور جو میرے کہے کو حب الوطنی یا غداری کے سانچے  میں ڈالے بغیر سن اور سمجھ سکتے ہیں۔

پچھلے کئی دن سے لائن آف کنٹرول پر گولہ باری جاری ہے۔ پاکستان کے مطابق بھارت پہل کرتا ہے اور بھارت کے مطابق پاکستان۔ پھر دونوں کا دعویٰ یہی ہوتا ہے کہ جوابی کارووائی کرتے ہوئےدشمن کی توپوں کے منہ خاموش کر دیے گئےہیں۔ دراصل توپوں کے منہ خاموش نہیں ہوتے۔ مرنے والوں کی چیخیں غالب آجاتی ہیں۔

تمھارے فوجی خوب لڑتے ہیں  ۔ پتا نہیں تم میں سے کسی نے ان کے مورچے دیکھے ہیں یا نہیں۔ یہاں کے لوگوں نے دیکھے ہیں۔ یقین جانو وہ اتنے مضبوط ہیں کہ اگر دونوں ایک دوسرے کے مورچوں پر دن رات لگاتار  گولے برساتے رہیں تو بھی ان  میں سے کسی کا کچھ نقصان نہیں ہوگا۔جب تمھاری فوجیں لائن آف کنٹرول پر جہاں ہیں وہاں سے ایک قدم بھی آگے بڑھتی ہیں نہ پیچھے ہٹتی ہیں۔ جب بھارتی فوجی پاکستانی فوجی کو نشانہ  بنا سکتا ہے نہ پاکستانی فوجی بھارتی فوجی کو تو جنگ کس کے بیچ ہے؟  کیا ان فوجوں کو نہیں معلوم کے مورچوں کے ساتھ ساتھ سویلینز ہیں۔ جو آئے روز ان کی گولہ باری سے زخمی ہوتے ہیں اور مرتے ہیں؟

kashmir-mother-kissing-son-photo

یقناً انھیں اچھی طرح معلوم ہے اور ان کے حکمرانوں یعنی تمھارے حکمرانوں کو بھی یہ بات باخوبی معلوم ہے تو پھر میرا تم تمام سے یہ سوال ہے کہ جب دونوں ملکوں کی فوجیں یہ جانتی ہیں کہ لائن آف کنٹرول پر جہاں جہاں وہ ہیں، ایک دوسرے پر گولے برسانے سے نہ بھارت کو پاکستان پر کوئی حقیقی برتری حاصل ہو سکتی ہے نہ پاکستان کو بھارت پر تو پھر کیوں نہتے لوگوں کی  جانوں سے کھیلا جا رہا ہے۔ کیوں صرف نیوز چینلز کی ریٹنگ کو بڑھانے اور عالمی برادری کے سامنے رونے پیٹنے کے لیے لاشوں کے ڈھیر  لگائے جا رہے ہیں۔ کیوں صرف سیاسی مقاصد کو پانے کے لیے ماوں کی گودئیں اجاڑی جا رہیں ؟

حقیقت تو یہ ہے کہ بھلے ہی  دونوں ملکوں کے عوام کی اکثریت وہاں کے حکمرانوں کی طرح کشمیر کو اپنا  اٹوٹ انگ اور شہ رگ مانتی ہو کشمیریوں کو کوئی انسان بھی نہیں مانتا۔انسان مانتا ہو تو کوئی تو اس ظلم کے خلاف بولے۔کہیں سے تو انسانیت کے حق میں  آواز بلند ہو۔ضرورت اس امر کی ہے  کہ  کشمیر کے لیے جنگ کر نے کی بجائے کشمیریوں کے لیے امن قائم کیا جائے۔

Email This Post
 

:ٹیگز

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.