Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

نامعلوم محبت

SAMAA | - Posted: Nov 30, 2016 | Last Updated: 5 years ago
SAMAA |
Posted: Nov 30, 2016 | Last Updated: 5 years ago

lonely_boy
یکم فروری 2014 کی بات ہے آفس بوائے نے لیٹر باکس سے کالے رنگ کا لفافہ نکالا اور مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ کو دے دیا۔ لفافے کے اوپرلفظ اشتہار کےعلاوہ کچھ نہیں تھا۔ لفافہ کھولا گیا تو اندر ایک صفحے پر 3 الفاظ لکھےتھے۔ مجھے محبت چاہیے۔ لفافے میں اشتہار چھاپنے کیلئے 300 روپے بھی ڈالے گئے تھے۔
namaloom1
عجیب سے اشتہار کا کیا کیا جائے؟ اطلاع عام، گمشدہ چیز، برائے فروخت کے کالم میں چھاپا جائے یا پھر ردی کی ٹوکری میں ڈالا جائے ؟ علی نے اپنے باس سے مشورہ کیا۔

باس نے کہا اس لفافے اور 300 روپے کو سنبھال کر رکھ لو۔ جب کوئی شخص اس اشتہار سے متعلق فون کرے گا تو معذرت کرکے لوٹا دینا۔

namaloom2
فون تو نہ آیا لیکن ایک ہفتے بعد  کالے رنگ کے لفافے میں ایک اور لیٹر اخبار کے دفتر پہنچا۔ وہی جملہ تھا ۔ مجھے محبت چاہیے۔ لیکن اس بار نیچے نامعلوم لکھا گیا اور300 روپے پھر رکھے گئے۔ مارکیٹنگ ہیڈ شہباز صاحب نے سیکیورٹی گارڈ کو آرڈرکیا اگر کالے رنگ کا لفافہ کوئی باکس میں ڈالے تو اس سے ایڈریس، نام ضرور پوچھے۔ ہوسکے تو ہم سے بات کرائے۔
SONY DSC
باس کوئی نفسیاتی مریض لگتا ہے۔  جو اپنوں سے پریشان ہے۔ زمانے کا ٹھکرایا شخص بھی ہوسکتا ہے جو عوام سے اپنے جیسوں کیلئے تھوڑی سی عزت چاہتاہے۔ یا کوئی غیر سرکاری تنظیم بھی  ہوسکتی ہے جو اس طرح کے جملے اپنی تشہیر کیلئے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ ٹھیک کہا علی۔ باس نے مختصر سا جواب دیا اور پھر کام میں لگ گئے۔
trek01
ایک ہفتے بعد 40 سال کی عمر کا ایک شخص ہاتھ میں کالا لفافہ تھامے لیٹر باکس کے قریب پہنچا تو گارڈ نے نام، ایڈریس پوچھا لیکن وہ کچھ نہ بولا۔ بات لڑائی تک پہنچ گئی۔ شور شرابہ سن کر اخباری عملہ نیچے اترا۔ شہباز صاحب یہ شخص لیٹر باکس میں کچھ ڈالنا چاہتا تھا۔ لیکن نام نہیں بتارہا۔
slide2-1200x700
شہباز صاحب نے عملے کو دوبارہ اوپر جانے کا کہا۔ معاملہ حل ہوا تو شہباز صاحب نے اس شخص کو اپنا تعارف کرایا اور کہا آپکے 2 اشتہار ہم نے اب تک نہیں چھاپے۔ آپ تیسرا کیوں ڈال رہے ہیں؟ آپ کون ہیں؟ کس کو پیغام کیوں دینا چاہتے ؟ آپکی کہانی کیا ہے؟
namaloom3
شہباز صاحب بتاتے ہیں اس شخص کی آنکھوں میں نمی محسوس ہوئی۔ اس نے کہا ایک غلط خبر نے اسے معلوم سے نامعلوم کردیا ہے۔ اس کے گھر والے رشتہ داروں کے طعنے سنتے رہے اور اب اس سے بچھڑ گئے ہیں۔ کوئی پوچھتا نہیں۔ بے گناہ ہونے کے باوجود بھی سزا پائی ہے۔ گھر سے نکلتے ہوئے اسکی بیوی نے کہا تھا اب تم نامعلوم زندگی گزارو۔ باپ نے کہا نامعلوم جگہ پر چلاجا اب تیرا ہم سے واسطہ نہیں۔ میں اسی نامعلوم پہچان کیلئے تھوڑی سی محبت چاہتا ہوں۔
970070-0
شہباز صاحب نے پوچھا وہ خبر کیا تھی؟ آپکے اخبار میں5 سال پہلے 5 سطر کی خبر لگی تھی۔ جو آپکو بھی شاید اب معلوم نہیں ہوگی۔ اس شخص نے شہباز صاحب کو خبر کی نقل اورچند ثبوت فراہم کیے۔ کالے رنگ کا لفافہ لیٹر باکس میں ڈالا اور پھر چل دیا۔ شہباز صاحب نے تیسرا لفافہ کھولا تو اندر لکھا تھا۔ نامعلوم استاد صغیر۔ شہباز صاحب نے تین دن لگاتار تینوں اشتہار اخبار میں چھپوادیے۔  لیکن استاد صغیر کی خبر کیا تھی؟ یہ آج تک شہباز صاحب نے نہ بتائی۔ بس اتنا کہا خبر دینے سے پہلے رپورٹر کو تحقیق ضرور کرلینی چاہیے تھی۔ سماء

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube