Wednesday, January 26, 2022  | 22 Jamadilakhir, 1443

کیا امریکا واقعی پاکستان کا دوست ہے؟

SAMAA | - Posted: Nov 4, 2016 | Last Updated: 5 years ago
Posted: Nov 4, 2016 | Last Updated: 5 years ago

patriotic-uncle-sam-wants-you

تحریر : ضمیر حسین لغاری

پاکستان میں گھس کر کاروائی کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔ قارئین یہ بیان پڑھ کر یقیناً آپکا دھیان بھارت کی طرف گیا ہوگا، اور گمان گزرا ہوگا کہ یہ سرحد پار سے آیا ہے، لیکن اس بار ایسا نہیں، یہ بڑھک امریکا سے آئی ہے جسے ہم اپنا اتحادی کہتے ہیں۔

اصل واردات یہ ہے کہ اوبامہ انتظامیہ کے ایک اہم رکن ، ایڈم زوبن، جو دہشتگردوں کی مالی معاونت روکنے سے متعلق ایک شعبے کے سربراہ ہیں، نے پاکستان سے پھر ڈومور کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر کام کرنے والے دہشت گردوں کے تمام مبینہ نیٹ ورکس کیخلاف کارروائی کرے۔ انہوں نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ امریکہ جب ضروری سمجھے گا دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو تباہ اور تتر بتر کرنے کیلئے خود ہی اکیلے کارروائی کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ انہوں نے اس معاملے میں آئی ایس آئی پر بھی انگشت نمائی کی۔

یہ اور اس تناظر میں رو نما ہونے والے بیشمار واقعات ہمیں یہ بات سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ کیا امریکا واقعی پاکستان کا دوست ملک ہے؟ اس سے پہلے کہ ہم واشنگٹن سے اپنے تعلق کی نوعیت کا جائزہ لیں ، ایک مشہور اور ایک کم مشہور لطیفہ پڑھتے ہیں۔

مشہور لطیفہ یہ ہے کہ ایک دست شناس نے کسی غریب شخص سے کہا تم پندرہ سال تک غریب رہوگے۔ سوال کیا گیا کہ “اس کے بعد؟” جواب ملا ‘اس کے بعد تمہیں غربت کی عادت ہوجائے گی’۔ اور کم مشہور لطیفہ یہ کہ دست شناس نے پاکستان کا ہاتھ دیکھا اور کہا ‘امریکا پچاس سال تک پاکستان کے معاملات میں مداخلت کرتا رہے گا’۔ اور اس کے بعد ؟ سوال کیا گیا۔ ‘اس کے بعد اہل پاکستان کو امریکا کی مداخلت کی عادت ہوجائے گی’۔

تو آئیے ذرا ماضی سے پاکستانی سیاست کی کچھ جھلکیا ں دیکھیں اور فیصلہ کریں کہ کیا واقعی امریکا ہمارا دوست ہو سکتا ہے۔

LiaquatAliKhan_Slider

امریکا کی ہم سے ’دوستی ‘ کا آغاز ایک قتل سے ہوا تھا۔ جی ہاں ایک قتل۔ پاکستان کے پہلے اور منتخب وزیراعظم لیاقت علی خان کا قتل، جس کا اعتراف امریکا نے حال ہی میں منظر عام پر آنے والی ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات میں کیا جنہیں خود امریکی محکمہ خارجہ نے جاری کیاتھا۔ ان دستاویزات کے مطابق لیاقت علی خان کو اس وقت کے امریکی صدر ہیری ٹرومین نے افغان حکومت کے کارندوں کے ذریعے قتل کراوایا۔ وجہ یہ تھی کہ امریکا ایران کے تیل پر قبضہ کرنا چاہتا تھا اور اس کے لئے پاکستان کو اپنا اثر رسوخ استعمال کرنے کو کہا گیا جس سے لیاقت علی خان نے صاف انکار کردیا ۔ الٹا امریکا سے اپنے اڈے خالی کرنے کا کہا۔ یہ بات امریکا بہادر کو ہضم نہ ہوئی اور خان صاحب کو رستے سے ہٹا دیا گیا۔ امریکا کے سابق وزیرخارجہ ڈاکٹر ہنری کسنجر نے بلکل ٹھیک کہا تھا کہ “امریکیوں کی دشمنی خطرناک اور دوستی جان لیوا ہوتی ہے۔”

پاکستان کی تاریخ کا بنیادی سوال یہ ہے کہ امریکا کے ساتھ ہمارے تعلق کی نوعیت کیاہے؟ ہم اس کے دوست ہیں یا غلام؟ جنرل ایوب کو اس سوال کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے اس پر پوری کتاب لکھ ڈالی اور اپنی قوم کو بتایا کہ ہم امریکا کے دوست ہیں غلام نہیں۔ مگر ان کے دس سالہ دور تسلط سے اس کی ایک مثال تلاش نہیں کی جاسکتی۔

President_Lyndon_B._Johnson_meets_with_President_Ayub_Khan

کہنے کو جنرل ایوب نے ملک کا پہلا مارشل لا 1958ء میں نافذ کیا، اور اس کی وجہ یہ بیان کی کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام بہت تھا۔ لیکن حقائق بتاتے ہیں کہ وہ 1952ء سے امریکا کے ساتھ رابطے میں تھے اور انہوں نے امریکا کی کامل حمایت کے ساتھ قوم پر مارشل لا مسلط کیا۔ یہ انکشافات اب کوئی راز نہیں۔ قیوم نظامی نے اپنی کتاب ’خفیہ پیپرز‘ میں ان حقائق سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ اس لئے حیران ہونے کی کوئی بات نہیں۔ پاکستان میں جو کچھ ہوتا ہے اُس کی پشت پر کہیں نہ کہیں امریکا کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے۔ پاکستان میں مارشل لا آتا ہے توامریکا کے حکم اور اس کے مفادات کے تحت، جمہوریت بحال ہوتی ہے تو امریکا کی ہدایت پر اور اس کے مفادات کے تحفظ کے لیے، آپریشن ہوتے ہیں تو ان کے لئے ، یہاں تک کہ پارلیامنٹ اور قانون سازی کے معاملات میں بھی وائیٹ ہاؤس کی منشا کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔

ہمارا دفاع ہی نہیں ہماری فتح تک امریکا کے ہاتھ میں ہے۔ وہ یوں کہ 1962ء میں چین بھارت جنگ ہوئی اور اس جنگ میں بھارت کو شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس موقع پر چین کی قیادت نے جنرل ایوب کو پیغام دیا کہ یہ پاکستان کے لیے نادر موقع ہے کہ وہ آگے بڑھے اور مقبوضہ کشمیر کو اپنے ساتھ ملالے۔ لیکن جنرل ایوب امریکا کی دھمکی میں آگئے۔ امریکا کے صدر کینیڈی نے جنرل ایوب کو فون کرکے دھمکادیا کہ وہ چین کے مشورے پر ہرگز عمل نہ کریں۔ کینیڈی نے جنرل ایوب کو یقین دلایا کہ چین بھارت جنگ ختم ہونے کے بعد وہ بھارت پر دباؤ ڈال کر مسئلہ کشمیر حل کرادیں گے۔ لیکن وہ دن اور آج کا دن۔امریکا کو کسی نے اپنا وعدہ یاد نہ دلایا۔

چلئے ذرا اور آگے بڑھتے ہیں۔ یہ 1965ء کا زمانہ تھا جب پاکستان امریکا کا اتحادی تھا اور بھارت سوویت یونین کے کیمپ میں تھا۔ پاک بھارت جنگ شروع ہوئی تو اس کی عسکری قوت پاکستان سے کئی گنا زیادہ تھی۔ پاکستان کو امریکاکی جانب سے خصوصی امداد کی ضرورت تھی مگر امریکا نے خصوصی امداد فراہم کرنے کے بجائے جنگ کے دوران پاکستان کو ہتھیاروں اور اسلحے کی فراہمی بندکردی۔ یہ پاکستان کی شکست کو یقینی بنانے کی سازش تھی جس کے بعد جنرل ایوب خان کو امریکا کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کرنی چاہیے تھی لیکن جنرل صاحب ا س بات کو ایسے پھلانگ کر کھڑے ہوگئے جیسے کچھ ہواہی نہ ہو۔

سن 1971ء میں جب مشرقی پاکستان علیحدگی کے دہانے پرپہنچ گیا تو پاکستان نے امریکا سے ہنگامی امداد کی اپیل کی۔ پاکستان کو یقین دلایاگیا کہ امریکا کا چھٹا بحری بیڑا پاکستان کی فوری مددکے لئے روانہ کردیاگیاہے۔ لیکن یہ بیڑا کبھی پاکستان نہ پہنچ سکا اس لئے کہ یہ کبھی پاکستان کے لئے روانہ ہواہی نہیں تھا۔ بعد ازاں وضاحت کی گئی کہ آپ کے ساتھ ہمارے دفاعی معاہدے صرف کمیونسٹ بلاک سے حفاظت کے لئے ہیں۔ ظاہرہے مدد دوستوں کی کی جاتی ہے غلاموں کی نہیں۔

photo01_800

بھٹو دور میں امریکا سے تعلقات کشیدہ رہے، کیونکہ نہ ہم سوویت یونین کے خلاف سرد جنگ کا حصہ بنے نہ ایٹمی پروگرام پر کوئی سمجھوتا کیا۔ جنرل ضیاء کی آمریت کے دور میں اگرچہ امریکا نے پاکستان کو اربوں روپے کی امداد دی تاہم اس کا ہدف واضع تھا اور وہ یہ کہ پاکستان ہر صورت سوویت یونین کا مقابلہ کرے اور افغانستان میں اس کی شکست کو یقینی بنائے، اور ایسا ہی ہوا۔ مگر پھر وہ وقت بھی آیا کہ امریکا نے ایف سولہ طیاروں کا خاص تجارتی سمجھوتا بھی منسوخ کردیا۔

BB WITH BUSH SENIOR

بے نظیر اور نواز شریف دور میں پاکستان کے سر پر پریسلر ترمیم کی تلوارلٹکادی گئی۔ چنانچہ ڈیڑھ دہائی تک نہ پاکستان کو طیارے ملے۔نہ پیسوں کی واپسی کی نوبت آئی۔نوبت آئی بھی تو ڈالروں کے بدلے گندم ہمارا مقدر بن گئی۔ سویلین حکومت کے اس دور میں نواز شریف اور بینظیر دونوں کی کوشش رہی کہ امریکا بھارت کے ایٹمی پروگرام کے معاملے میں اس سے بھی ویسا ہی سلوک کرے جیسا پاکستان سے کر رہا ہے ، مگر بے سود۔

اور پھر 11 ستمبر کی رات آئی جب جنرل پرویز مشرف نے ایک ٹیلی فون کال پر پورا ملک امریکا کے حوالے کر دیا۔ اسے خوش کرنے کے لئے تعلیمی نصاب میں تبدیلی کروائی، فوجی ہوائی اڈے اس کے حوالے کیے ، پورا ملک سی آئی اے‘ ایف بی آئی اور بلیک واٹر کے لیے کھول دیا، قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کا حکم دیا، جس سے 25 لاکھ لوگ بے گھرہوئے، مگر اس کے بدلے میں ہمیں کیا ملا؟ کیا ہمارا ایٹمی پروگرام محفوظ ہو گیا؟ کیاامریکا نے ہمیں آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے رہائی دلا دی جنہوں نے ہماری معیشت کو تباہ کیا ہوا ہے؟ کشمیر کو آزاد کرا لیا؟ ہمیں کچھ ملا ہے تو صرف خود کش دھماکے، ڈرون حملے ، عسکریت پسندی، دہشتگردی اور ڈو مور کی رٹ۔ یقین نہ آئے تو امریکی افتر خارجہ کے گزشتہ ایک ماہ کیا ایک سال کے بیان اٹھا کر دیکھ لیجئے، آپکو صرف ڈو مور کی رٹ اور کشمیر کے مسئلے پر ’تشویش‘ ’تشویش‘ کی گردان نظر آئے گی۔ بھارت کی مذمت کے لئے ہمارے اس ’اتحادی‘ کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلتا۔

mush2.450

امریکا نے ڈاکٹر قدیر کے معاملے میں پہلے ہمیں ’’غیر ذمہ دار‘‘ ریاست ثابت کرنے کی پوری کوشش کی اور پھر یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ ہمارا ایٹمی اسلحہ محفوظ ہاتھوں میں نہیں ، عسکریت پسندوں کے ہاتھ لگ سکتا ہے۔ اور ہم اس بھونڈے پروپیگنڈا کے آگے سالوں تک صفائیاں پیش کر تے رہے اور اب بھی کر رہے ہیں۔ امریکا کے پاس دس ہزار سے زائد ایٹمی ہتھیار موجود ہیں مگر امریکا نے سی ٹی بی ٹی پر یہ کہہ کر دستخط سے انکار کردیا ہے کہ اس سے اس کے ایٹمی پروگرام کی ترقی متاثر ہوگی۔ مگر اس کے باوجود امریکا ایک ذمہ دار ریاست ہے اور پاکستان ایک غیر ذمہ دار ملک۔

اگر بات کی جائے پاک بھارت تعلقات میں امریکی کردار کی تو یہ حقیقت بھی راز نہیں کہ امریکا پاکستان کو بھارت کی طفیلی ریاست بنانا چاہتاہے بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ امریکا بھارت کو اس خطے کا امریکا بنا کر پاکستان اور چین کے سر پر مسلط کرنا چاہتا ہے۔

_86231969_gettyimages-185658461

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں امریکی مداخلت ہے تو پھرسیاسی جماعتیں کیا کررہی ہیں؟ جہاں تک پیپلزپارٹی‘ ایم کیو ایم اور اے این پی کا تعلق ہے تو وہ ہر اعتبار سے امریکی اتحادی کا کردار ادا کررہی ہیں۔ یہ تینوں جماعتیں جب جب اقتدار میں رہیں انہیں امریکہ کی سرپرستی حاصل رہی۔ رہ گئے جماعت اسلامی اور تحریک انصاف تو وہ کھل کر امریکا کے خلاف بولتے ہیں۔ کسی فورم پر کسی لاگ لپیٹ سے کام نہیں لیتے۔ باقی جہاں تک میاں صاحب کا تعلق ہے تو انہوں نے تاریخ میں کبھی بھی امریکا کو نہیں للکارا، ویسے بھی فی الحال انہیں اپنے اقتدار کے دوام لے لئے امریکی آشیرباد کی ضرورت ہے۔

ویتنام اور کیوبا کی امریکا کے خلاف مزاحمت ہمارے سامنے ہے۔ لیکن ہمارا حکمران طبقہ ملک کے عظیم تر مفاد کے لئے نہ سہی محض اپنی عزت و تکریم کی خاطر بھی امریکی استعمار کی مزاحمت کرتا تو آج حالات کچھ اور ہوتے۔ لیکن انہیں ایک ایسی پُرتعیش زندگی بسر کرنے کی عادت ہے جس کے آگے کسی چیز کی کوئی حیثیت نہیں۔

پاکستانی عوام کی ایک بڑی اکثریت امریکا کو پسند نہیں کرتی اور اس کی پالیسیوں سے نا خوش ہے ۔ لیکن اس کے باوجود حکمران اپنے عوام کے جذبات کی تر جمانی سے قاصر ہیں۔ کیونکہ ان کی جڑیں اپنے معاشرے، تاریخ اور تہذیب کے بجائے سیاسی اور معاشی مفادات میں پیوست ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ حکمران اپنی قوم کو بار بار فتح کرتے ہیں اور دشمنوں کے سامنے بار بار ہتھیار ڈالتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube