Wednesday, January 26, 2022  | 22 Jamadilakhir, 1443

جمہوری حقوق بمقابلہ انسانی حقوق

SAMAA | - Posted: Oct 30, 2016 | Last Updated: 5 years ago
Posted: Oct 30, 2016 | Last Updated: 5 years ago

pakistan1_090514122246

تحریک انصاف اور حکمران ٹولے کے درمیان جنگ کا کوئی نتیجہ نکلے نہ نکلے ، اس ملک میں رہنے والے عوام ، عام شہری اور غیر سیاسی لوگ ضرور پس کر رہیں گے۔ جسے کہتے ہیں گیہوں کے ساتھ گھن کا پس جانا۔ اس جنگ میں جیت کسی کی بھی ہو، لیکن امرواقعہ یہ ہے کہ جس چیز کاخون ہو رہا ہے، وہ ہے انسانی حق اور آزادی۔ جی ہاں! انسانی حقوق جن پر اس ملک میں کوئی کھانستا بھی نہیں، یہ کس چڑیا کا نام ہے حکمران ٹولے کو یاد بھی نہیں، ہاں شاید تب یاد آجائے جب ایک بار پھر وہ حزب اختلاف کا حصہ بنے۔

لیکن یہاں اہم سوال یہ ہے کہ عمران خان اور حکمران جماعت کی حالیہ لڑائی کے ٹریلر میں انسانی حقوق کا جو جنازہ نکل رہا ہے اور شہری حقوق کا جو قتل ہو رہا ہے اس کا ذمہ دار کس کو قرار دیا جائے؟ اس خونِ ناحق کے بعد لہو کس کے ہاتھ پر تلاش کیا جائے؟ تلخ حقیقت یہ ہے اس حمام میں دونوں ہی ننگے ہیں۔ اپنے جمہوری حقوق مانگ کر دھرنے اور جلسے کرنے والے بھی، اور کروڑوں لوگوں کے حقوق کی پاسداری کے منصب پر فائز ارباب اختیار بھی۔ دونوں فرائض کی ادائیگی کے معاملے میں مجرم ہیں۔

53ff6afa9bb30

ایک طرف راولپنڈی میں تماشہ لگایا گیا، شیخ رشید کو قابو کرنے کے نام پر پورے شہر کو سیل کر دیا گیا۔ کیا لال حویلی اور اس سے ملحقہ علائقے کو کنٹینر رکھ مفلوج کرناکوئی قانونی عمل تھا؟ کیا اس سے اس علاقے کے لوگوں کی بالخصوص اور شہر کے لوگوں کی بالعموم زندگی متاثر نہیں ہوئی؟ اسکول جانے والے، دفاتر جانے والے ، اسپتال جانے والے لاکھوں نہیں تو ہزاروں لوگ کس اذیت میں مبتلا ہوئے ہوں گے ،یہ تو کوئی ان سے ہی پوچھے۔ حکومت تو سب اچھا ہے کا راگ الاپ رہی تھی۔ اہم حکومتی رکن طلال چودھری سماء پر آکر فرما رہے تھے کہ پنڈی کھلا ہوا ہے ، کچھ بھی بند نہیں، لیکن انہیں اسی وقت ڈرون کیمرے کے شاٹس دکھائے گئے جن میں ہر طرف کنٹینر ہی کنٹینر نظر آرہے تھے۔ پھر بھی اڑے رہے کہ ایسا کچھ نہیں۔ حد یہ ہے کہ ان تمام تر اوچھے ہتکھنڈوں کے باوجود شیخ رشید کو روکا نہیں جا سکا۔

000_HL04B

سب چھوڑیئے ! اس چار دن کے معصوم بچے کی ہلاکت کا ذمہ دار کو ن ہے جس کی موت آنسو گیس کی وجہ سے ہوئی۔کس کے ہاتھ پر اس ننھی کلی کا خون تلاش کیا جائے؟ کیا اس کی یا اس کے والدین کی کسی سے دشمنی تھی؟ شیخ رشید سے یا حکومت سے؟ کیا بعد میں کسی نے اس کے خاندان کو جا کر دلاسہ دیا؟ ہے کسی کے اندر اتنی اخلاقی جرات؟ ہے کسی کے اندر اتنی ہمت کہ اس کی ماں سے نظریں ملا کر کہے ہم آپ کے قصوروار ہیں یا ہم شرمندہ ہیں؟ حکومت اور اس کے مخالفین کو یہ پہلی شہادت مبارک۔

ایسا ہی تماشہ اسلام آباد میں دیکھا گیا( اور آنے والے دنوں میں اس کے مزید حصے نشر ہوں گے)۔ ’انصاف‘ کی تحریک کے سربراہ کے ذہن میں یہ تو تھاکہ شہربند کرکے نواز شریف کے خلاف فیصلہ کن معرکہ لڑا جائے لیکن اس سے لاکھوں لوگوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوں گے، اس کی انہیں کوئی پرواہ نہیں۔ شاید ان کے خیال میں اسلام آباد کے تمام باسی نون لیگی ہیں جو اذیت ہی سے دو چار ہوں تو اچھا ہے۔ وہ ایک طرف یہ سمجھتے ہیں کہ احتجاج ان کا آئینی اور جمہوری حق ہے لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ اس حق کے استعمال میں کتنے اور لوگوں کے حقوق متاثر ہوں گے۔

دوسری طرف’ پش اپس ‘ سے خوف زدہ حکومت نے دو ماہ کے لئے شہر میں دفعہ 144 نافذکر دی، جبکہ ایک دن پہلے ہی اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم جاری کیا تھا کہ اسلام آباد بند نہیں ہوگا۔ یہ حکم دونوں کے لئےتھا،لیکن نہ حکومت نے کان دھرا نہ عمران خان نے۔ عدالت نے انتظامیہ کو انتباہ کیاتھا کہ وہ کنٹینر نہیں لگا سکتی اور واضح کیا کہ اس احتجاج کے معاملے میں بنیادی شہری حقوق متاثر نہیں ہونے چاہئیں، لیکن اسلام آباد انتظامیہ کے کان پر جوں نہیں رینگی۔ ایسے میں عمران خان یہ کہنے میں حق بجانب تھے کہ انتظامیہ نے توہینِ عدالت کا ارتکاب کیا ہے ، ہم عدالت سے رجوع کریں گے۔ توعرض ہے کہ خان صاحب اگر عدالت ہی سے رجوع کرنا ہے تو وزیر اعظم کے خلاف جو ثبوت آپ کے پاس ہیں وہ بھی عدالت میں پیش کر دیجئے ، یہ احتجاج کرنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔

000_HL034

لیکن خان صاحب کو کچھ پیش کرنا ہوتا تو سڑکوں پر کیوں آتے۔ اس کے بجائے دوسرے دن ان کی جماعت نے فیصلہ سنانے والے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے خلاف ٹوئیٹر پرٹرینڈبنا کر زہر اگلنا شروع کر دیا۔ یہ ہے انصاف لینے کا’ عمرانی‘ طریقہ۔

خیر ہم بات کر رہے تھے بنیادی انسانی اور شہری حقوق کی جنہیں اپوزیشن اور حکومت دونوں نے جوتے کی نوک پر رکھا ہوا ہے۔ بھلا ان سے کوئی پوچھے کہ اسلام آباد کو تو آپ نے کنٹینر لگا کر بند کر دیا ، کیونکہ ہر صورت آپکو اپنا اقتدار جو بچانا ہے۔ وہاں کے لوگوں کو تو آپ کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں، یہ موٹر وے اور جی ٹی روڈ بند کرنے کی کیاتُک بنتی ہے؟یہ تو سمجھ سے بالا تر ہے۔ نہ صرف پنجاب بلکہ سوابی تک آکر انٹرچینج بند کر دیا گیا، ادھرپشاور کے قریب اٹک کرد کے روڈ بند کر دئے گئے کہ کہیں پی ٹی آئی کے قافلے پنجاب میں نہ داخل ہو جائیں۔

PAKISTAN-POLITICS-KHAN-PROTEST

اس کم عقلی کے فیصلےسے ہزاروں لوگ متاثر ہوئے اور ہو رہے ہیں۔ کیا ان کے شہری و انسانی حقوق نہیں یا حکمرانوں نے معاف کروا لئے ہیں؟ ان کو ملنے والی ذہنی و جسمانی اذیت کا کون ذمہ دار ہے؟ کیا نواز شریف کے ’بھاری مینڈیٹ‘ میں یہ انسانی حقوق کا مینڈیٹ شامل نہیں؟طاقت کے نشے میں چور دونوں فریق اس بدترین صورتحال کے ذمہ دار ہیں۔ اقبال نے ٹھیک کہا تھا ’’جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشہ ہو۔ جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی‘‘۔ اہل پاکستان کو یہ چنگیزیت مبارک۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube