آپ انگریزی کیوں نہیں سیکھ سکتے

By: Imran Khushal
October 23, 2016

stack_of_books

تحریر: عمران خوشحال

اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ آپ کو انگریزی زبان نہیں  آتی اور یہ بات بھی قطعاً بری نہیں کہ آپ انگریزی سیکھنا ہی نہیں چاہتے۔لیکن اگر آپ نے انگریزی سیکھنا چاہی اور کوشش کے باوجود نہیں سیکھ سکے تو یقیناً یہ بات آپ کو ناگوار گزری ہوگی۔

آپ کے انگریزی نہ سیکھ سیکھنےکی اتنی ذمہ داری آپ پرنہیں آتی جتنی کہ آپ کے استادِ  محترم یا اُستانی صاحبہ پر آتی ہے۔اگر آپ کو پڑھانے والے کو انگریزی نہیں آتی تو آپ کو کیسے آئے گی؟ اسی طرح اگر آپ کے والدین کو انگریزی نہیں آتی تو غالب امکان ہے کہ آپ کو بھی نہ آئے۔یعنی آپ کی ناکامی میں آپ کے استاد اور والدین کا بھی پورا پورا ہاتھ ہے۔

یہ تو تب کی بات ہے جب آپ کو انگریزی صرف اس لیے آتی تاکہ رٹہ لگا سکیں اور آپ  امتحان پاس کر لیں ۔اس کے بعد فرض کریں کہ اسکول ختم کرتے ہوئے یا کالج شروع کرنے سے پہلے یا بعد میں کبھی بھی کسی ایک موقع پر جب آپ کو یہ خیال آیا کہ انگریزی سیکھی جائے اور آپ نے اس نیت سے اکیڈمی میں داخلہ لے لیا یا کوئی کتاب خرید کر پڑھنا شروع کر دی یا پھر انٹرنیٹ کی مدد سے یہ کارنامہ سر انجام دینا چاہا اور آپ پھر بھی نہیں کر سکے تو آپ کے خیال میں اس بار چونکہ آپ بچے نہیں تھے ، بڑے تھے اور اتنے بڑے تھے کہ با آسانی انگریزی سیکھ سکتے لیکن چونکہ آپ نہیں سیکھ سکے تو سارے کا سار ا قصور آپ کا ہے؟

An employee holds copies of the six shortlisted books for the Man Booker Prize in a bookshop in London

آپ مکمل طور پر اس بار بھی ناکامی کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ بلکہ اس کی ذمہ داری کلی نہیں تو جزوی طور پر آپ کے سکھانے والے پر بھی آتی ہے۔ جس نے آپ کو ایک ایسا طریقہ بتایا جویا تو مکمل طور پر فالو ہی نہ ہوسکا یا آپ فالو کر کے بھی  کامیاب نہیں ہو سکے۔

انگریزی یا کوئی بھی دوسری زبان سیکھنے کے لیے کچھ ایک بنیادی سائنسی اصول ہیں  اور ان میں سے سب سے اہم اصول یہ کہ آپ جو بھی زبان سیکھ رہے ہوں اس کا فوری عملی اطلاق ہو۔یا یوں سمجھیں کہ آپ کوئی زبان سیکھ ہی تب سکتے ہیں جب آپ کا وہ زبان بولے بغیر گزارا نہ ہو۔اب اگر ایک طالبِ علم انگریزی بولے بغیر بھی گزارا کر سکتا ہے ہوتوعین ممکن ہےکہ ساری عمر انگریزی نہ سیکھ سکے۔

کرس لونسڈیل  ہانگ کانگ کی لنگنان یونیورسٹی میں اپنے ایک ویڈیو لیکچر میں  انہی سائنسی اصولوں کو بیان کرتے ہوئے سات ایسے عمل  بتاتے ہیں کہ جن سے آپ کوئی بھی زبان صرف چھ  ماہ کے مختصر عرصے میں سیکھ سکتےہیں۔ یہ پانچ اصول اور سات ایکشن دراصل کئی  سالوں کی ریسرچ سے اخذ کیے گئے ہیں۔

Fsd Books On Footpath Pkg 11-04

اگلی بار اگر آپ ان اصولوں پر پابندی کرتے ہوئے انگریزی سیکھنے کی کوشش کریں  تو یقیناً اچھے نتائج حاصل ہوں گے۔ یہ اصول مندرجہ ذیل ہیں۔

۔1 جتنا زیادہ ممکن ہو اتنا سنیں۔

جیسے ایک بچہ ماں کے پیٹ سے جو بھی زبان سنتے ہوئے پیدا اور پھر بڑا ہوتاہے وہ وہی بولتا ہے ایسے ہی اگر آپ مسلسل ایک زبان سنتے رہیں گے تو آپ ایک دن بولنے کے قابل بھی ہو جائیں گے۔

۔2 لفظوں سے پہلے مطلب سمجھنے کی کوشش کریں۔

عام طور پراسکول یا اکیڈمی میں بچوں کو مشکل الفاظ کے معنی پہلے پڑھائے جاتے ہیں اور بہت سارے  طالبِ علم جب کسی سے انگریزی میں بات کرتے ہیں یا کچھ لکھا ہوا پڑھتے ہیں تو وہ مفہوم اور تناظر کو سمجھنے کی بجائے انفرادی الفاظ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ غلط ہے۔لفظ سمجھ آئے نہ آئے مفہوم سمجھ آنا ضروری ہے۔

۔3 مختلف لفظوں کو مکس کر کے نئے لفظ اور جملے بنانے کی کوشش کریں ۔

جیسے ایک بچہ  ما۔۔پا۔۔۔تا۔۔۔ اور ایسے ہی کئی ایک ٹوٹے پھوٹے الفاظ کو جوڑ کر اپنی بات سمجھانے کی کوشش کرتا ہے ایسے ہی آپ کو انگریزی کے چند ایک الفاظ کو جوڑ کر کئی ایک نئے الفاظ بنانے ہوں گے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کو صرف دس  اسمِ ذات( یعنی ناؤن ) اور دس فعل( یعنی ورب )اور دس صفتِ موصوف (یعنی ایڈجکٹیوز) آتے ہیں تو آپ ان کی مدد سےدس ہزار نئے جملے بنا سکتے ہیں۔

۔4 بنیاد پر فوکس کریں۔

 ایک ہزار بنیادی لفظ سیکھنے سے آپ  ۸۵ فیصد انگریزی سیکھ سکتے ہیں۔ اس لیے انگریزی سیکھتے ہوئے روزمرّہ استعمال کے الفاظ سیکھیں۔ وہ الفاظ سیکھیں جن کو استعمال کرنے کی ضرورت زیادہ پڑتی ہے۔ تاکہ آپ کو بار بار رٹہ نہ لگانا پڑھے۔

۔5 گیٹ اے لینگویج پیرنٹ ۔

مطلب ایک ایسا دوست ، ہمدرد، استاد یا کوئی بھی شخص تلاش کریں جس سے آپ انگریزی میں ایسےبات کر سکیں جیسے ایک بچہ اپنےوالدین سے کرتا ہے۔ایک لینگویج پیرنٹ آپ کی ٹوٹی پھوٹی انگریزی کوسنے گا اور آپ کو حوصلہ دے گا۔ جبکہ دوسرے لوگ آپ کو تنقید کا نشانہ بنا کر آپ کو بددل بھی کر سکتے ہیں۔

۔6 انگلش اسپیکرز کے  چہرے  اور  تاثرات کی نقل کریں ۔

بہت سارے لوگوں کو  انگلش اسپیکرز دستیاب نہیں ہوتے لیکن اب چونکہ انٹر نیٹ کی بدولت فلمیں ، ڈرامے  ، گانے اور بہت کچھ آن لائن دستیاب ہے توآپ کوچاہئے کہ آپ جب بھی کسی کو انگریزی میں بات کرتے ہوئے دیکھیں تو اس کے تاثرات کی نقل کریں ۔ جیسے وہ منہ کے مسلز کو حرکت دے رہا ہے ایسے ہی آپ بھی دینے کی کوشش کریں اور اگر ایسا کرنے سے آپ کے جبڑے دکھنے لگیں تو سمجھیں آپ ٹھیک کر رہے ہیں۔

  Email This Post

 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.