Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

رنگ لائے گی اپنی فاقہ مستی اک دن

SAMAA | - Posted: Oct 20, 2016 | Last Updated: 5 years ago
Posted: Oct 20, 2016 | Last Updated: 5 years ago

Wheat_harvest

تحریر: نسیم خان نیازی

کسی بھوکے آدمی سے سوال کیا گیا کہ دو اور دو کتنے ہوتے ہیں ، جواب ملا 4 روٹیاں ۔ ایک پنجابی شاعر نے اسی بات کو کچھ اس طرح سمیٹا کہ ” روٹی بندا کھا جاندی اے ” ۔( صرف انسان روٹی نہیں کھاتا بلکہ کبھی کبھی روٹی بھی انسان کو کھاجاتی ہے ) ۔ دیہی سندھ ، جنوبی پنجاب ، بلوچستان ، کے پی اور فاٹا میں غربت کے بے مثال نظارے ہم نے برس ہا برس کی محنت سے تشکیل دیئے ہیں ۔

خوراک کی قلت پاکستان کے بنیادی مسائل میں سے ایک ہے اور اس بات پر کوئی تنازع نہیں۔ تنازع صرف اس بات پر ہے کہ اس کا ذمہ دار کون ہے۔ آمرانہ جمہوریت یا جمہوری آمریت ( حقیقی جمہوریت کی منزل تو ابھی کوسوں دور ہے ) ۔ بہرحال ذمہ دارجو بھی ہو، اہل پاکستان کو تازہ مژدہ انٹرنیشنل فوڈ پالیسی پر ریسرچ کرنے والے عالمی ادارے نے سنادیا ہے کہ پاکستان بھوک کا شکار ممالک کی فہرست 11ویں نمبر پر ہے ۔ گلوبل ہنگر انڈیکس 2016 میں مجموعی طور پر 118 ممالک شامل ہیں اور پاکستان صرف 10 ممالک سے بہتر ہے ۔

بھارت اس رپورٹ میں پاکستان سے بہتر پوزیشن پر ہے اور اس کا 22 واں نمبر ہے جبکہ افغانستان نمبر 8 پر موجود ہے ۔ یہ بھی مقام شکر ہے کہ ہم افغانستان سے تین درجے بہتر ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کل آبادی کا 22 فیصد حصہ غذا کی کمی کا شکار ہے ۔

jirga-settles-gang-rape-for-1200-kg-of-wheat

یہ سب کچھ اس صورتحال کے باوجود ہے کہ پاکستان گندم کی پیداوار میں دنیا کا 9 واں بڑا ملک ہے۔دودھ اور پھلوں کی پیداوار میں 5 واں اورگوشت کی پیداوار میں 10 واں بڑا ملک ہے ۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ پاکستان کے وسائل پر پاکستانی عوام کا حق کبھی تسلیم نہیں کیا گیا ۔ ترقی ہم نے کی تو صرف بیرونی قرضے حاصل کرنے میں اورموجودہ حکومت نے تو تین سال میں اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں ۔ بیرونی قرضہ جو 2008 میں 35 ارب ڈالر تھا اور اب 80 ارب ڈالر ہے ۔

 ترقیء معکوس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ 2005 میں غربت کی شرح 25 فیصد تھی جو اب 40 فیصد کے قریب ہے ۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نصف سے زیادہ کم ہونے کے باوجود عوام کو اس کا فائدہ نہیں پہنچ سکا ۔ سرکاری محکموں میں روزانہ ہونے والی کرپشن کے اعدادوشمار بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں ۔ ان سب معاملات کو ٹھیک کرنے میں ہمارے حکمرانوں نے اب تک کیا کیا ؟ ۔ اگر یہ معاملات ٹھیک نہیں ہوں گے تو غربت اور خوراک کی کمی کیسے دور ہوگی ۔؟

GILGIT WHEAT PETROL 2100 PKG 10-04 ASIF

پاکستان کے سب سے بڑے اور زرخیز صوبے پنجاب کے کسان گزشتہ تین چاربرسوں سے بڑی مشکل سے فصل کی لاگت پوری کررہےہیں ۔ زراعت کی زبوں حالی آبادی کے بڑے حصے کو متاثر کررہی ہےمگرہمارے حکمرانوں کی فی الحال ترجیحات موٹرویز اور انڈر پاسز ہیں ۔ جو وقت باقی بچتا ہے وہ آئینی بحث و مباحثے ، ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور لندن کے شاپنگ مالز میں دل پشوری کرکے گزارا جاتاہے۔

سوچنے کی بات ہے کہ اگرعالمی ادارے بھی ایسی تحقیق نہ کریں تو اور ہمیں آئینہ نہ دکھائیں تو شائد ہمارے ہاں نیرو چین کی بانسری ہی بجاتا رہے ۔ بھلا ہو ان اداروں کا جو ہمیں ہماری اوقات یاد دلاتے رہتے ہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ۔ اب تو صرف یہ دعا ہی کی جاسکتی ہے اللہ تعالیٰ ہمیں ڈھلوان کے مزید سفر سے محفوظ رکھے۔ہم جہاں ہیں،وہیں پر ہی کھڑے رہیں تو یہ بھی غنیمت ہوگی ۔

 

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube