Friday, January 21, 2022  | 17 Jamadilakhir, 1443

مضبوط اپوزیشن ضروری ہے

SAMAA | - Posted: Oct 4, 2016 | Last Updated: 5 years ago
Posted: Oct 4, 2016 | Last Updated: 5 years ago

2g

۔۔۔۔۔**  تحریر : نسیم خان  **۔۔۔۔۔

قدرت کا اصول ہے کہ طاقت کا توازن قائم رہے تو انسانوں میں فرعونیت نہیں آتی، یہ توازن غلبہ حاصل کرنے کی انسانی جبلت کو جنگوں، زیادتیوں اور من مانیوں سے باز رکھتا ہے، عالمی سطح پر امریکا اور روس کے درمیان کئی دہائیوں تک توازن قائم رہنے سے دنیا میں کافی حد تک امن رہا، جب روس  کمزور ہوا تو ہم نے نیو ورلڈ آرڈر کی اصطلاح کے ساتھ بڑے پیمانے پر انسانی خون بہتے ہوئے دیکھا۔

2h

پارلیمانی سیاست میں توازن کا یہ اصول مضبوط اپوزیشن کے وجود سے مشروط ہوتا ہے، پاکستان جیسے ملک میں یہ توازن اس لئے بھی ضروری ہوجاتا ہے کہ قانون و اخلاقیات کی پاسداری کے معاملے میں ہمارے لیڈر یا عوام کوئی مثالی ریکارڈ نہیں رکھتے، ملک کے موجودہ منظر نامے میں مضبوط اپوزیشن کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ جہاں بھی جس کی حکومت ہے وہ اپوزیشن کے دباؤ کی وجہ سے ڈیلیور کرنے پر مجبور ہے۔

2b

وفاقی حکومت پر عمران خان کا دباؤ ہے اور اڈا پلاٹ کے کامیاب جلسے کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر مضبوط پوزیشن میں آگئے ہیں، 2018ء کے انتخابات میں انہیں کامیابی ملتی ہے یا ناکامی اس سے قطع نظر، ان کا کردار اب بھی ملک و قوم کیلئے اس لحاظ سے فائدہ مند ہے کہ حکومت ڈیلیور کرنے پر مجبور ہے۔ نون لیگ کو خطرہ ہے کہ کارکردگی اچھی نہ ہوئی تو تحریک انصاف انہیں انتخابات میں الٹا نہ دے، اپوزیشن کے خوف سے حکومت عوامی فلاح کے اقدامات کرتی ہے تو یہ لوگوں کیلئے فائدہ مند ہے، صحت اور تعلیم کے شعبے کو ترجیحات میں شامل کیا جاتا ہے کہ اس سے عام لوگوں کا بھلا ہوگا، دباؤ کے نتیجے میں اگر انتخابی اصلاحات ہوں یا اداروں کو مستحکم کرنے کی جانب پیشرفت ہو تو اس کا بھی فائدہ ملک کو ہی ہوگا۔

Pti Jalsa Heli Head To Tail Ex Lhr 30-09

مضبوط اپوزیشن کے فوائد کا ایک مظاہرہ پنجاب کے مختلف حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں بھی دیکھا گیا، لاہور کے حلقے این اے 122 میں جب میدان سجا تو حکومتی ادارے لوگوں سے گھر گھر جاکر پوچھ رہی تھے کہ آپ کو کیا چاہئے، گلیاں راتوں رات پکی ہوگئیں، سیوریج لائنیں بچھ گئیں اور واٹر سپلائی کیلئے پائپ لگادئیے گئے، یہ سب کچھ اپوزیشن کے مضبوط امیدوار کا کمال تھا۔ اسی طرح لودھراں میں بھی وزیراعظم کو بہ نفس نفیس خود جاکر عوام کی حالت بدلنے کیلئے لودھراں پیکیج کا اعلان کرنا پڑا، یہ علیحدہ بات ہے کہ اپوزیشن کی کامیابی کے بعد وہ اپنا یہ اعلان شاید وسیع تر قومی مفاد میں بھول گئے۔

2c

اگر ہم اسی معاملے کو متضاد انداز میں دیکھیں اور یہ تصور کریں کہ ملک میں خورشید شاہ کی صورت میں ہی واحد اپوزیشن ہے تو حکومت کو من مانی کرنے سے کیسے روکا جاسکے گا؟۔ خورشید شاہ حکومت پر ڈیلیور کرنے کیلئے کتنا دباؤ ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، کیا ماڈل ٹاؤن سانحے کے بعد وزیراعظم اور وزراء پر مقدمہ صرف خورشید شاہ کے بیانات سے درج کرایا جاسکتا تھا؟۔ ایسا ہرگز نہیں، اگر پاناما لیکس پر بھی کبھی تحقیقات ہوئیں تو یہ اپوزیشن کے دباؤ کا ہی نتیجہ ہوگا ورنہ حکومت کو کیا پڑی ہے کہ وہ اپنے وزیراعظم کو بدنام کرے یا اس پر سوال اٹھائے۔ وزیراعظم کا قصور وار ہونا یا نہ ہونا ایک علیحدہ بحث ہے مگر ملک کے وزیراعظم کا جوابدہ ہونا یقیناً ایک حوصلہ افزاء پیشرفت ہوگی اور یہ آنے والے حکمرانوں کیلئے ایک مثال بن سکتی ہے، مگر یہ سب کچھ مضبوط اپوزیشن کے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔

مرکز میں اپوزیشن کا کردار ادا کرنے والی تحریک انصاف پر خیبر پختونخوا میں بھی یہ اصول اسی طرح لاگو ہوتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں اے این پی، جمیعت علمائے اسلام اور نون لیگ کا مؤثر دباؤ انہیں ڈیلیور کرنے پر مجبور کررہا ہے۔ اس صوبے میں تو تبدیلی آتے ویسے بھی دیر نہیں لگتی اور اگر حکومت انتخابی وعدے کرنے میں ناکام ہوگئی تو اپوزیشن کو زیادہ محنت کرنے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔

2f

کراچی کی صورتحال کا جائزہ لیں تو وہاں بھی حالیہ دنوں میں ہونے والی پیشرفت کافی حوصلہ افزاء ہے، متحدہ قومی موومنٹ کے مقابلے میں پاک سرزمین پارٹی آنے سے اجارہ داری کو دھچکا لگا ہے، مستقبل کیلئے بلدیاتی سطح پر یقیناً مضبوط اپوزیشن کی بنیاد رکھی جاچکی ہے۔ 2013ء کے الیکشن میں جو دھونس، دھاندلی اور من مانی ہوئی وہ شاید 2018ء میں نہ ہوسکے۔

بہر حال یہ بات طے شدہ ہے کہ جمہوریت میں مضبوط اپوزیشن از حد ضروری ہے۔ میڈیا یا سول سوسائٹی کی جانب سے اگر اپوزیشن کو کوئی ریلیف یا فائدہ ملتا ہے تو اس کا ملکی حالات پر مثبت اثر ہی ہوگا، حکومت کو دباؤ میں لانے یا تنقید کرنے سے جمہوریت کو کوئی نقصان نہیں پہنچے والا، بلکہ اس تنقید سے جمہوریت اور عوام کو فائدہ ہی پہنچے گا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube