Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

ان دیکھا وجود

SAMAA | - Posted: Oct 4, 2016 | Last Updated: 5 years ago
SAMAA |
Posted: Oct 4, 2016 | Last Updated: 5 years ago

need-to-do-more-6177a821de7282a1511e37f713e7b323
کرن سرکاری محکمے میں قاصد کی نوکری کرتا تھا، گھر واپسی پر محلے کے نوجوان جملے کستے۔ مکان کے سامنے ہر روز کچرا پھینکا جاتا، جسے پھلانگ کر کرن گھر میں داخل ہوتا اور پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتا۔ مکان میں درد بانٹے والا کوئی نہیں تھا، یہ روز اپنے آپ سے سوال کرتا، کیا عوام کا اورمیرا خدا ایک نہیں ہے؟ کیا میرے سینے میں بھی ان کے جیسا دل نہیں ہے؟ کیا جسم میں بھی وہی لال خون نہیں ہے؟ زمین بھی وہی، آسمان بھی وہی ہے تو پھر معاشرہ ان جیسے 80 ہزار خواجہ سراؤں کو مانتا کیوں نہیں ہے؟

26313-covercopy-1424435540-747-640x480
کرن نے سوچا خدا ہر کسی کی سنتا ہے، عصر کی اذان ہوئی تو قریب مسجد میں نماز پڑھنے کا ارادہ کیا لیکن جیسے ہی دروازے پر پہنچا تو اندر داخل ہونے سے روک دیا گیا، کرن نے دروازے کے باہر ہی نماز ادا کی اور پھر سجدے میں رونے لگا، کچھ دیر بعد مولوی صاحب گزرے تو انہوں نے حوصلہ دیا، صبر کے چند جملے کہے، کرن نے سوچا کم سے کم ایک ہمدرد تو ملا، کرن نے ہاتھ ملانے کیلئے آگے بڑھایا تو مولوی صاحب چلے گئے۔

Pakistan Tormented Transgenders
گھر پہنچ کر کرن نے ٹی وی کھولا تو دہشت گردی سے متاثرہ افراد کی کہانیاں چل رہی تھیں، کرن نے اپنے آپ سے سوال کیا (خدا نہ کرے ) اگر کسی بازار میں ہونے والے دھماکے میں اس سمیت کئی لوگ مرجائیں تو کیا معاشرہ اس خواجہ سرا کو شہید کہے گا؟

_90137735_gettyimages-118796281

اچانک فون کی گھنٹی بجی، گرو نے کہا خواجہ سرا راشد فائرنگ سے مر گیا ہے۔ اہل خانہ نے لاش لینے سے منع کردیا ہے، ہمیں ہی دفنانا ہوگا۔ پھر تمام خواجہ سرا مردوں کا روپ دھار کر قریب گراؤنڈ میں پہنچے۔ مولوی نے نماز جنازہ پڑھوائی اور پھر رات گئے قبرستان کے کونے میں راشد کو اجنبی کہہ کر دفنا دیا گیا۔ قبر پر نام کی تختی آج تک نہیں لگائی گئی۔

349D4F1800000578-3609463-image-a-15_1464204205237
دفتر جانے کیلئے کرن صبح 8 بجے بس اسٹاپ پر کھڑا تھا، ایک گھنٹہ ہوگیا لیکن کوئی بس اس کے لیے رکنے کو تیار نہیں تھی، سڑک کے دوسری طرف اسپتال کے باہر گاڑی میں ایک عورت کافی دیر سے رو رہی تھی، کرن اس کے پاس گیا تو عورت نے پرس سے پیسہ نکال کر اسے دینا چاہا، کرن نے ہاتھ نہ بڑھایا اور دعا دی اللہ تمہیں خوبصورت اولاد دے۔

تمہاری پریشانیاں حل کرے۔ تم سدا سہاگن رہو۔ عورت کے چہرے پر اطمینان دیکھ کر کرن پلٹا، ابھی وہ بس اسٹاپ کی طرف جا ہی رہا تھا کہ ٹرک سے ٹکرا کرشدید زخمی ہوگیا۔ اور پھر سڑک پر ہی امید کی کرن دم توڑ گئی۔ سماء

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube