Thursday, January 27, 2022  | 23 Jamadilakhir, 1443

فائیواسٹارقربانی

SAMAA | - Posted: Sep 7, 2016 | Last Updated: 5 years ago
SAMAA |
Posted: Sep 7, 2016 | Last Updated: 5 years ago

FSD JHARA OR ANOKI upd PKG 04-09

چند دنوں بعد ایک دبلا پتلا قصائی اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ  سلطان، مہاراجہ، گبر، کالیا، مستانی، شہنشاہ، ٹارزن، گلو، کنک کونگ، راجو، ببلی سب کے سب جانور کاٹ دے گا۔ لیکن سیٹھ مالکان کی انا، غرور، مفادات، نفس پر کون چھری چلائے گا؟ فائیو اسٹار جانور معمولی چھری سے کٹ جائیں گے لیکن کیا معمولی سا نفس اتنی بھاری قربانی سے کٹے گا؟

کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں ایک دو نہیں بلکہ کئی اقسام کی قربانیاں ہورہی ہیں۔ ان تمام قربانیوں کے معنی، مفہوم، پس منظر سب مختلف ہوتے ہیں۔ ایک طرف مالدار قربانی ہوتی ہے جہاں بھاری جانور ذبح کیا جاتا ہے اور اس کا گوشت پارٹیوں میں کھایا جاتا ہے۔ دوسری طرف غریب قربانی ہوتی ہے  جہاں چھوٹا جانور ذبح کیا جاتا اور حصے بناکر بانٹ دیا جاتا ہے۔ لیکن ان دو کے علاوہ بھی بہت سی قربانیاں ہوتی ہیں۔ جن کا تعلق مذہب، اللہ کی رضا کے حصول سے نہیں بلکہ نمائش، اپنی برتری ظاہر کرنے سے ہوتا ہے۔

اوپر سے لے کر نیچے تک معاشرے میں عجیب سا بگاڑ معلوم ہوتا ہے۔ کراچی ناظم آباد کے رہائشی دس سالہ نعمان کے گھر پانچ لاکھ روپے کا بیل اتارا گیا تو پورا محلہ جمع ہوگیا اور تعریفوں کے پل باندھنے لگا۔ نعمان روز اسے ٹہلانے نکلتا۔ کوئی دام پوچھے تو فخر سے پانچ لاکھ بولتا۔ کچھ دنوں بعد اس کے دوست علی کے ہاں 50 ہزار روپے کا بیل آتاہے۔ نعمان اپنے جانور کے ساتھ علی کے پاس پہنچتا ہے اور منہ بناکر بولتا ہے کوئی بڑا بھاری جانور لیتے۔ وہ اتنے وزن، اتنی قیمت کا مل جاتا ہے۔ علی اپنے آپکو کم تر سمجھتا اور خاموش ہوجاتا ہے۔

Fsd Chotoo Gang PKG 29-08

قربانی سیزن میں آج کل ایک اور فیشن نظر آتا ہے۔ منڈی سے لے کر جانور گھر لانے تک، پھر اسے چارہ کھلانے سے لے کر نہلانے، ٹہلانے تک کے تمام مواقع پر سیلفیاں لی جارہی ہیں۔ عام طور پر سیلفیاں بھاری بھرکم جانوروں کے ساتھ ہی لی جاتی ہیں۔ اب وہ اپنا ہو یا پرایا،نوجوانوں کی ایک سیلفی تو بنتی ہے۔ رہ گئے چھوٹے، کم وزن جانور تو وہ اپنے مالکان کے ساتھ ایک کونے میں چپ چاپ چارے کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔

FSD BHOLA PKG 06-09

حال ہی میں ناظم آباد کے ایک سفید پوش شخص سے ملاقات ہوئی جو دن میں دو وقت کا کھانا کھاتا ہے۔ کہنے لگا آج تک کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا لیکن ایک شکوہ ہے۔ ہر سال لاکھوں جانور قربان ہوتے ہیں، پھر بھی  مجھ جیسے کروڑوں لوگ بھوکے رہتے ہیں۔ کیونکہ معاشرے میں انسانوں کی تربیت دینے سے زیادہ لینے کیلئے کی جارہی ہے۔ غریب کے حصے میں گوشت کے بجائے چربی، ہڈیاں ڈال دی جاتی ہیں اور اچھا گوشت مہینوں تک ڈیپ فریزر میں محفوظ کرلیا جاتا ہے۔ جانوروں کی قربانیاں نہیں بلکہ غریب کے حصوں پر چھری چلائی جارہی ہے۔ سب سمجھتے ہیں لیکن زیادہ گوشت کی لالچ میں چپ ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube