Tuesday, January 18, 2022  | 14 Jamadilakhir, 1443

بوسیدہ لباس،زندہ ضمیر

SAMAA | - Posted: Aug 23, 2016 | Last Updated: 5 years ago
SAMAA |
Posted: Aug 23, 2016 | Last Updated: 5 years ago

mangoes-636x330

تحریر: جہانزیب منہاس

گزشتہ شام ایک دوست نے فون کیا کہ بھائی  اگر تھوڑا وقت دیں تو سبزی منڈی سے راشن لانا ہے اگر آپ گاڑی لے کر آ جائیں تو بڑی مہربانی ہو گی ۔

میں گو کہ مطالعہ کر رہا تھا مگر میرے دوست کے پاس گاڑی نہیں ہے۔ اور ہے بھی تھوڑی سی تنخواہ کا ملازم، غریب سا بندہ ہے سو گاڑی لے کر اس کو سبزی منڈی لے گیا۔وہاں اس نے پاکستانی آم دیکھے تو کہنے لگا کہ بڑے عرصے سے دل کر رہا تھا پاکستانی آم کھانے کا ۔مگر جیب اجازت نہیں دے رہی تھی۔ اس بار پورے آٹھ دن اوورٹائم لگایا ہے تاکہ ایک آموں کی پیٹی خرید سکوں ۔

اس نے سب سے پہلے آموں کی ایک پیٹی لی اور کچھ سبزیاں لیں ۔میں نے اس کی مدد کی اور واپس گاڑی کی طرف چل پڑے۔ ہمارے آگے ایک پاکستانی میاں بیوی جا رہے تھے۔ ان کے ساتھ چھوٹے چھوٹے ننھے دو بچے تھے جو مسلسل کہہ رہے تھے ابو آم لینے ہیں۔ آپ نے پچھلے ہفتے بھی کہا تھا کہ آموں کی پیٹی لے کر دونگا مگر نہیں لے کر دئے اور اس بار بھی نہیں لی ۔

mango

اتنے میں خاوند نے بیگم سے کہا کہ فروٹ کتنا مہنگا ہو گیا ہے، ہماری تو پہنچ میں نہ پاکستان میں رہا ہے نہ سعودیہ میں ۔ بچے شاید اتنا سیانے تھے کہ ماں باپ کی اس گفتگو کے بعد انہوں نے نام تک نہیں لیا کہ کچھ لینا ہے ۔

ان کی گاڑی ہماری گاڑی کے ساتھ ہی کھڑی تھی۔ گاڑی کیا تھی، بس چلتی کا نام گاڑی کہہ لیں،خیرانہوں نےشایدکچھ پیاز ٹماٹر خریدے ہوئے تھے، گاڑی کی ڈگی کھول کر سارا خاندان باپ کی مدد کے لئے اسی طرف چل پڑا جدھر انہوں نے سامان فٹ پاتھ پر رکھا ہوا تھا۔

میرے ساتھ میرا غریب دوست جس نے 2016 میں پہلی بار آم اگست میں لیے تھے وہ بھی آٹھ دن کے اوور ٹائم کے بعد، اپنی آموں کی پیٹی ان کی گاڑی میں رکھ دی۔ خود میری گاڑی میں بیٹھ گیا،میں نے اس سے کہا،بھائی یہ کیا کیا ہے آپ نے۔ اس نے کہا،جہانزیب بھائی اس کام کی مٹھاس شاید ان آموں سے کہیں زیادہ ہے جو میں نے آٹھ دن اوور ٹائم لگا کر لیےتھے۔

mango1

میں اس سوچ میں گاڑی چلاتے چلاتے کہ جو بظاہر غریب ہوتے ہیں اندر سے کتنے مالدار ہوتے ہیں۔ بوسیدہ جسموں اور پھٹے ہاتھوں والوں کے ضمیر کتنے صاف اور چمکیلے ہوتے ہیں۔ نہ جانے کب اس کے گھر سامنے پہنچ گیا۔اس نے اپنے روم میٹ کو کال کی کہ آ کر سامان اٹھوانے میں اس کی مدد کروائے،وہ باہر آیا اور آتے ہی مجھے کہنےلگا،جہانزیب صاحب آئیں آپ کو پاکستانی آم کھلاتے ہیں ۔

میں اور میرے دوست ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ گئے۔ میرے دوست نے آنکھوں کے اشارے میں اپنے روم میٹ سے پوچھا،بھائی یہ آموں کا کیا معاملہ ہے تو اس نے کہاکہ وہ اپنے اوپر والے انجینئر صاحب آئے تھے۔ جلدی میں آموں کی تین کارٹن دے گئے ہیں جو انہوں نے کل پاکستان سے منگوائے تھے۔ انہیں ایمرجنسی میں پاکستان جاناپڑگیا ہے،ان کے ابا کی طبعیت بہت خراب تھی اور کہہ رہے تھے کہ دعا کرنا۔

FSD Mango Entry PKG 06-05

میرے دوست نے مجھ سے کہا کہ جہانزیب صاحب ،میرے ابا مرحوم کہا کرتے تھےکہ رب بڑاغیورہے،ادھار نہیں رکھتا کسی کا اور مجھ  جیسے غریب کا کیسےرکھ سکتا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube