Friday, January 28, 2022  | 24 Jamadilakhir, 1443

مجرم والدین

SAMAA | - Posted: Aug 6, 2016 | Last Updated: 5 years ago
SAMAA |
Posted: Aug 6, 2016 | Last Updated: 5 years ago

SYRIAN REFUGEE KIDS OC PKG 28-09 Mukkaram

تحریر: عاقب منیار

کوٹ لکھپت کی نو سال کی مریم اپنی ماں سے نیا بیگ،نیا یونیفارم،نیا باکس مانگ رہی تھی۔ننھی مریم کہہ رہی تھی کہ اسے نئی چیزیں نہ ملیں تو وہ گھر سے چلی جائے گی۔ ماں نے اسے معمول کی دھمکی سمجھ کر نظرانداز کیا اور گھر کے کام میں لگ گئی۔

لاہور میں ان دنوں بچوں کی گمشدگی کے واقعات سامنے آئے تو دل سہم گیا۔ دعا کی،خداکرے یہ دسمبر 1999 کی طرح کا واقعہ نہ ہو۔جب لاہورکےسیریل کلرجاویداقبال نے 100 بچے تیزاب سے بھرے ڈرمز میں ڈال کر  قتل کردیے تھے۔ مجرم نے 32 صفحوں پر مشتمل بچوں کی تصاویر،  قتل کی تاریخ، ایڈریسز نیوزپیپر ایڈیٹر اور پولیس کے حوالے کیے۔ جاوید اقبال کو بچوں کے لواحقین کے سامنے پھانسی دینے اور اسکی لاش کے 100 ٹکڑے کرنے کی سزا سنائی گئی۔ 8 اکتوبر 2001 کو مجرم ساتھی سمیت کوٹ لکھپت جیل میں خودکشی کرلیتا ہے،لیکن خوف کی فضا برقرار رہتی ہے۔

javediqbal

ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ خبر آئی لیاقت آباد اور کوٹ لکھپت سے لاپتہ ہونے والے بچے واپس گھر پہنچ گئے ہیں۔ خدا کا شکر ادا کیا کہ لاپتہ بچے عامر قیوم جیسے کسی سیریل کلر کے ہاتھ نہیں لگے،جو لاہور کی سڑکوں پر سونے والوں کو اینٹیں مار کر قتل کردیتا تھا۔

ایک پل کیلئے سوچا،لاپتہ بچوں کےملنےپروالدین کو مبارکباد دوں،لیکن پھربچوں کا انٹرویو سن کر تھوڑٰی دیرکیلئے رک گیا۔ہربنس پورہ کا نو سال کا مبشر گھر سے نان لینے کیلئے نکلا۔ دکان بند تھی تو وہی بیٹھ گیا۔ ماں کی ڈانٹ سے بچنے کیلئے بچہ گھر ہی نہ لوٹا۔ 9 سال کا معصوم مبشر رات 2بجے پولیس کو بٹ چوک پر اکیلا بیٹھا ملا،مجھے نہیں معلوم بچے کے ملنے پر مبارکباد دوں یا پھر سمجھدار والدین کو مشورہ؟

لیاقت آباد کا دس سال کا عقیل بھی والدین کی ڈانٹ ڈپٹ سے دلبرداشتہ ہوکر دوست کے ہاں چلا گیا تھا۔کوٹ لکھپت کےبچےعمرکومدرسےمیں استاد نے مارااورپھروالدہ سےلڑکرگھرسےچلاگیاتھا۔اتنی سی عمر میں حیرت ہے،بچےاتنابڑافیصلہ کیسےکرلیتےہیں۔سمجھ نہیں آتا قصور کس کا ہے؟

childabducted

ماہر نفسیات سے بات کی تو جوابات سے بات کچھ سمجھ آئی لیکن دل مطمئن نہ ہوا۔ ڈاکٹر نے کہا بچے اس لیے بھاگتے ہیں کیونکہ انہیں والدین کی خواہش پوری نہ کرنے پر گھر سے باہر پھینک دیے جانے کا ڈر لگارہتا ہے۔ پسندیدہ چیزیں مانگنے پر مارا جاتا ہے۔صفائی،اسکول کا کام کرنا،کم کھیلنا،ہروقت کام کا دباؤ ڈالنے سے بچے پریشان ہوتے ہیں۔ اسکول یا مدرسے میں پٹائی یا پھر والدین کی آپس کی لڑائی، علیحدگی پر بھی کئی بچے بھاگتے ہیں۔

ماہر نفسیات سے دوسرا سوال تھا۔اس کاحل کیاہے؟جواب ملا،بغیرکسی شرط کے اپنے بچے سے بے لوث محبت۔میں نے کہاکہ وہ توتمام والدین ہی اپنے بچوں سے کرتے ہیں۔ ڈاکٹر مسکرایا اور کہا شاید نہیں۔اس لیےتوبچےبھاگتے ہیں۔ بچہ اچھا کام کرے تب بھی پیار کرو، جب برا کرے تب بھی پیار سے سمجھاؤ۔میں نے پوچھا تو پھر کسی بچے کے گھر سے بھاگنے میں جرم کس کا ہوتا ہے؟ ماہر نفسیات نے کچھ دیر سوچا اوربولا شاید والدین کا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube