Tuesday, November 24, 2020  | 7 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > بلاگز

سندھ اورحقیقی تبدیلی کاخواب

SAMAA | - Posted: Jul 28, 2016 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Jul 28, 2016 | Last Updated: 4 years ago

Collage CM

اب جبکہ حکومت کی مدت ختم ہونے میں صرف دو سال باقی ہیں باپ بیٹے اور پھپو، المعروف پیپلز پا رٹی کی قیادت، نے سید قائم علی شاہ کو ان کی کردہ اور نہ کردہ خدمات پر سلام پیش کرتے ہوئے نیا وزیراعلی لانے کا اعلان کردیا۔

سندھ کے اس دائم و قائم دیوتا کووزارت کے منصب پر بٹھانے کے لئے جو’ پلس پوائنٹ ‘ گنوائے گئے تھے اب شاید وہ پارٹی قیادت کی نظر میں ’نگیٹو پوائنٹ ‘ بن گئے ہیں۔ گو کہ سید صاحب کو ایک سال پہلے ہی ہٹانے کی تیاری کرلی گئی تھی اور پارٹی قیادت خورشید شاہ کووزیر اعلیٰ بنانے کا سوچ رہی تھی لیکن دیر آید درست آید۔

Murad, Qaim

کہنے والے کہتے ہیں کہ شاہ صاحب نے خود کوئی کرپشن نہیں کی، ان کے ہاتھ صاف ہیں۔ مگر حضور والا عرض ہے کہ کرپشن نہیں کی تو کیا کرنے والوں کو روکا؟ ان کی ناک کے نیچے سب کچھ ہوتا رہا مگر شاہ صاحب مست و الست رہے۔ آج بھی ان کی کابینہ کے دو وزیر ملک سے بھاگے ہوئے ہیں۔ مجرمانہ حد تک غفلت اور صرفِ نظر اخلاقی کرپشن نہیں تو اور کیا ہے؟ مالی بد عنوانی سے دولٹ لوٹی جاتی ہے اور خزانے خالی کئے جاتے ہیں تو غفلت، بے حسی اور بے عملی کی اخلاقی بدعنوانی نے تو معصوم زندگیوں کے چراغ گل کئے۔

آٹھ سالوں میں سندھ کی تعلیم اور صحت کی صورتحال سب کے سامنے رہی۔ خود سابق صدر اور شاہ صاحب کے اپنے آبائی حلقوں میں ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور گلیوں کی گندگی کو میڈیا رپورٹ کرتا رہا۔ نوابشاہ ، لاڑکانہ اور خیرپورسے لے کر لیاری تک پی پی کے حلقوں میں دودھ اور شہد کی جو نہریں بہ رہی ہیں سب کے سامنے ہیں۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ سندھ کو موئن جو دڑو کے دورمیں بھیجنے پر کمر بستہ پی پی قیادت اپنے سارے مضبوط سیاسی حلقوں کو نشانِ عبرت بنا چکی ہے۔

 

Qaim-Ali-Shah-in-Pakistan-trying-to-wake-up-to-sleep-620x330

کراچی کی بات کی جائے تو گزشتہ بجٹ میں یہاں کے 28منصوبوں کے لئے 100 ارب روپے مختص کرنے والے شاہ صاحب نے ایک روپیہ جاری کرنا بھی مناسب نہ سمجھا، یہی وجہ ہے کہ اس وقت بھی کراچی جیسے شہر میں کوئی بڑا پروجیکٹ نہیں چل رہا، نہ سائیں نے کوئی نیا تعلیمی ادارہ قائم کیا نہ اندرونِ سندھ کوئی ہسپتال بنایا نہ پہلے سے موجود ہسپتالوں کی حالت سدھاری۔ لے دے کر بس ایک ٹراما سینٹر کھڑا کر دیا گیا جس کی افادیت اور سود مند ہونے کا پول بھی وقت آنے پر کھل جائے گا۔

سندھ میں گذشتہ 8 سال میں کئی ایسے موقع آئے جب بزرگ وزیر اعلیٰ کو ان کی مجموعی طور پر کمزور اور مایوس کن کارکردگی کی وجہ سے ہٹایا جا سکتا تھا۔ آٹھ سال میں سیلاب نے دو تین بار تباہی مچائی، غربت میں اضافہ ہوا، تھر میں بچوں کی اموات ہوئیں، گرمی سے ہلاکتیں ہوئیں، صوبائی حکومت پر کئی شعبوں میں بدعنوانی کے الزامات عائد ہوئے۔ لیکن کوئی بھی آفت سائیں کی سیٹ ہلا نہ سکی۔

Rangers & Qaim Ali Shah

وجہ صاف ظاہر ہے کہ سید قائم علی شاہ اپنی فرمانبرداری کی بدولت پارٹی قیادت کا اعتماد حاصل کرلیتے اور نتیجتاً چھری تلے آنے سے بچ جاتے تھے۔ شاہ صاحب صرف زرداری کے تابع فرمان تھے۔ یہی ان کا سب سے بڑا میرٹ تھا۔

کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم سے مفاہمت اور رینجرز سے ڈیل جیسے معاملات اور سندھ حکومت کی ناکامیاں قائم علی شاہ صاحب کے کھاتے میں ڈالناانصاف کا تقاضا نہیں کیونکہ طاقت کے مراکز تو زرداری، بلاول اور فریال تالپور ہیں۔ اصل حکومت تووہ اور زرداری کے چہیتے ٹپی چلاتے ہیں۔ اس لئے کرپشن ہو یا بد انتظامی، سب قیادت کے کھاتے میں ڈالنا چاہئے۔

اب جبکہ رینجرز نے گھیرا تنگ کر دیا ہے تو کھیل کی کامیابی کو یقینی بنائے کے لئے نئے مہروں کو میدان میں اتارا جا رہا ہے۔ زرداری صاحب نے محسوس کیا ہوگا کہ ان کے مہرے اچھا کام نہیں کر رہے تو بلاول کے مہرں کو موقعا دیا جائے۔ تاکہ آئندہ وہ یہ نہ کہ سکے کہ ’’جواب دو سندھ حکومت جواب دو‘‘۔

پہلے تو زرداری صاحب کو مسائل کے حل کیلئے نہیں بلکہ ایم کیو ایم اوروفاق کے ناراض حلقوں کو منانے کے لئے ایک نرم مزاج اور ٹھنڈی طبیعت کے بظاہر معزز فرد کی ضرورت تھی، جس کے لئے شاہ صاحب سے زیادہ کوئی اورموزوں نہیں تھا۔ مگر اب معاملہ رینجرز کا ہے جس کے سامنے کم از کم قائم علی شاہ نے تو سرنڈر کر دیا۔ ان سے مقتدر حلقوں کے خلاف سیاسی اور انتظامی مزاحمت کا کام بہتر اندازمیں نہیں ہو سکا۔ دوسری جانب مراد علی شاہ کے بارے میں تاثر ہے کہ وہ سخت مزاج ہیں اور اپنی بات منوانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

382277-SyedMuradAliShah-1337627309-825-640x480

نئے وزیر اعلیٰ کو درپیش چیلنجز کی اگر بات کی جائے تو صرف دو سال میں گڈ گورننس کی مثال قائم کرنا یقیناًایک بڑا چیلنج ہوگا۔

مراد علی شاہ کو کراچی آپریشن وراثت میں ملا ہے کیونکہ جب ان کے والد سید عبداللہ شاہ وزیر اعلیٰ تھے تو ایم کیو ایم کے خلاف جاری آپریشن عروج پر تھا اور آج بھی جاری ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ 1992 کے آپریشن میں بینظیر بھٹو زندہ تھیں، وفاقی وزیر داخلہ نصیراللہ بابر بہت بااختیار تھے اور سندھ پولیس طاقتور تھی۔ آج یہ پولیس سیاست زدہ اور ناکام ہے۔

مراد علی شاہ کے بارے میں تاثر ہے کہ وہ ملنسار اور میڈیا دوست نہیں ۔ انھیں شاذ و نادر میڈیا کا سامنا کرتے دیکھا گیا ہے۔ بی بی سی اردو کے رپورٹر ریاض سہیل لکھتے ہیں کہ ’’ وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کے مقابلے میں مراد علی شاہ کو نسبتاً ایک جذباتی شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ ملنسار نہ ہونا اور جلد ناراض ہونے کی عادت وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے ان کی اپنی جماعت کے ارکان اسمبلی آنے والے دنوں میں خود کو ان کے ساتھ ’کمفرٹیبل‘ محسوس نہیں کرتے۔‘‘مگر یہ بات خوش کن ہے کہ 54 سالہ مراد علی شاہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، ماہر انجینئر اور ایک اچھے معیشت دان ہیں۔

 

MURAD ALI NEW SOTS 26-07

لیکن کیا نئے شاہ صاحب سندھ سرکار کی بد انتظامی کے داغ دھو پائیں گے؟ اس سلسلے میں بلاول بھٹو کیا انہیں آزادی سے کام کرنے کا موقع دیں گے؟ بظاہر توبلاول ہی فیصلے کر رہے ہیں مگر کیا انہوں نے والد سے سندھ میں اہم تبدیلیوں کے اختیارات حاصل کر لئے ہیں؟

اوراہم ترین سوال یہ کہ کیا کوئی حقیقی تبدیلی سندھ کی قسمت میں ہے؟ اس آخری سوال کا بہت خوبصورت جواب ایک سینئر صحافی کے قلم سے :’’ بوڑھے گدھ کی جگہ زرا جوان گدھ لاش نوچنے آجائے تو اسے تبدیلی کہیں گے؟ تبدیلی وہ ہو گی جب ان گدھ مہاراجوں کو نوچنے کے لئے کچرے کے ڈھیر سے رزق تلاش کرنے والے کی لاش نہیں ملے گی۔ جب یہ اس دھرتی پر ہماری طرح ڈھلکے ہوئے کاندھوں کے ساتھ چلتے دکھائی دیں گے۔ جب ان کے بدن سے بھی پسینے کی باس کسی کا ناک سکوڑے گی۔ جب یہ بھی گوشت کے نرخ پر قصابوں سے جھگڑتے ملیں گے۔ جب بجلی کا بل ان کی بھی پیشانی عرق آلود کرے گا۔ جب یہ اپنے بیمار وجود سرکاری شفا خانوں میں لے جائیں گے۔ جب ان کے بچے بھی آئسکریم کے لئے ترسیں گے۔ جب جہیز نہ ہونے پر ان کی بیٹیوں کے بالوں سے بھی سفیدی جھلکے گی۔ جب بارشوں میں انکی بیویاں بہن بیٹیاں ٹپکتی چھت کے نیچے دیگچیاں رکھتی نظر آئیں گی۔ تب یہ ہم جیسے ہو جائیں گے اور یہی تبدیلی ہوگی‘‘۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube