Saturday, November 28, 2020  | 11 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > بلاگز

نامزد وزیر اعلیٰ اور بلاول کی سیاسی بصیرت

SAMAA | - Posted: Jul 28, 2016 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Jul 28, 2016 | Last Updated: 4 years ago

MURAD ALI SHAH FTG 25-05

تحریر: عمران احمد راجپوت

کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے سندھ کے وزیراعلیٰ جناب سید قائم علی شاہ کو عہدے سے برطرف کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ سید قائم علی شاہ رمضان علی شاہ گیلانی کے گھر پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مقامی اسکول سے حاصل کی جبکہ بی اے کراچی یونیورسٹی سے کیا۔ اِس کے علاوہ ایس ایم لاء کالج سے قانون کی ڈگری بھی حاصل کی۔ سید قائم علی شاہ کا شمار پاکستان پیپلزپارٹی کے بانیوں میں ہوتا ہے جبکہ ذوالفقار علی بھٹو کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں سے ہیں۔ انھوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز خیر پور ضلع سے کیا اور ضلعی کونسل خیر پور کے چیئرمین منتخب ہوئے جس کے بعد 1967ء میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے اپنے نئے سیاسی دور کا آغاز کیا۔

سن 1970ء کے عام انتخابات میں انھوں نے خیر پور سے غوث علی شاہ کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی اور ذوالفقارعلی بھٹو کی کابینہ میں شامل ہوگئے۔ 1977 ء میں جنرل ضیاء الحق کے اقتدار میں آنے کے بعد دیگر پارٹی رہنماؤں کے ساتھ اُنھیں بھی قید و بند کی صعوبتیں سہنا پڑی لیکن آخر تک پیپلز پارٹی کے وفادار رہے۔ جنرل ضیاء کے اقتدار کے خاتمہ کے بعد وہ دوبارہ سرگرم ہوئے اور 1990ء، 1993ء، 2002ء، 2008 کے عام انتخابات میں کامیابیاں حاصل کرتے رہے۔ سید قائم علی شاہ 02 دسمبر 1988 سے 25 فروری 1990 تک وزیر اعلی کے عہدے پر فائز رہے۔ اُس کے بعد 06 اپریل 2008 ء سے 20 مارچ 2013 تک وزیر اعلیٰ سندھ کے عہدے پر فائز رہے جبکہ 2013 ء کے عام انتخابات میں 30 مئی 2013 ء سے مستقل اپنے عہدے پر فائز تھے۔ اِس طرح انھیں سندھ کے تین بار وزیراعلیٰ بنے کا اعزاز حاصل ہے۔

Bilawal bhutto Presser final Isb Pkg 19-07

اپنے حالیہ آٹھ سالہ دور میں سید قائم علی شاہ سندھ میں امن و امان کی صوتحال کو بہتر بنانے میں برے طریقے سے ناکام نظر آئے جبکہ صحت و صفائی کی صورتحال بھی اُن سے سنبھالی نہ گئی اور کراچی سمیت پورے سندھ کو کچرے کا ڈھیر بنادیا گیا جبکہ نہ ہی ان کی جانب سے عوام کو کسی قسم کا کوئی ریلیف مل سکا جس کے باعث انھیں مستقل عوامی و سیاسی حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایاجاتا رہا اور بالآخر پارٹی قیادت کو یہ فیصلہ لینا ہی پڑا کہ انھیں وزارتِ کے عہدے سے ہٹادیا جائے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے اِس اہم فیصلے کے پیچھے پارٹی کے نئے چیئرمین جناب بلاول بھٹو زرداری کا اہم کردار ہے۔ چونکہ بلاول بھٹو خود نوجوان ہیں لہذا انکی شروع دن سے یہ کوشش رہی ہے کہ پارٹی کے تنظیمی سیٹ اپ کو ازسرنو ترتیب دے کر پارٹی میں موجود پڑھے لکھے نوجوان طبقے کو آگے لایا جائے تاکہ پارٹی کو جدید خطوط پر استوار کیا جاسکے۔ یہی وجہ ہے کہ دبئی میں ہونے والے اہم فیصلوں میں صرف وزیراعلیٰ کی تبدیلی کا فیصلہ نہیں کیا گیا بلکہ سندھ کابینہ میں بھی بڑی حد تک ردوبدل کئے جانے سے متعلق اہم فیصلے لئے گئے۔

اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو بلاول بھٹو کی صورت میں ایک نئی زندگی ملی ہے جو کہ پارٹی کی گرتی ہوئی ساکھ کو دوبارہ آکسیجن فراہم کرنے میں بڑی حد تک موثر ثابت ہوگی۔ بلاول بھٹو چاہیں تو اپنی قیادت میں آزادانہ فیصلے کر کے پاکستان پیپلز پارٹی کو ایک بار پھر سے اُن بلندیوں پر پہنچا سکتے ہیں جہاں ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو نے لیجاکر عوام کے دلوں پر راج کیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سندھ کے نئے وزیر اعلیٰ کے لئے وزیر خزانہ سندھ مراد علی شاہ کو امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔

Saeed Ghani Sot Isb 09-05

غور طلب بات یہ ہے کہ بلاول بھٹو جو کہ پارٹی میں آزادانہ فیصلے لینے اور پارٹی کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے عوام کی مکمل ہمدردیاں حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں کیا وہ مراد علی شاہ سے وہ رزلٹ حاصل کرپائینگے جس کی وہ امید لگائے بیٹھے ہیں۔ بلاول بھٹو جو کہ پارٹی کو ایک بار پھر قومی سطح پر لیجانے کے خواب دیکھ رہے ہیں وہ کراچی کے موجودہ سیاسی بحران کو کیونکر نظر انداز کئے ہوئے ہیں۔

اِس وقت کراچی کے اردو بولنے والے عوام سیاسی یتیمی کا شکار ہیں کسی سیاسی مسیحا کے منتظر ہیں موجودہ حالات میں کراچی کے عوام ایم کیوایم  کی سیاسی کارکردگی سے غیر مطمئین جبکہ پاک سرزمین کے حوالے سے غیر یقینی کی صورتحال سے دوچار ہیں۔ ایسے میں بلاول کے لئے راستہ صاف ہے وہ چاہیں تو اردو بولنے والوں کی دادرسی کر کے انکے اعتماد کو حاصل کرنے میں بڑی حد کامیاب ہوسکتے ہیں۔ جس کے لئے ضروری ہے کہ اِ س وقت سندھ کا وزیراعلیٰ ایسی شخصیت کو بنایا جائے جو پارٹی قیادت کے ساتھ ساتھ اردو بولنے والوں کے لئے بھی قابلِ قبول ہو۔ بلاول بھٹو کو چاہئیے کے اپنی سیاسی بصیرت کو استعمال کرتے ہوئے پارٹی میں سے شہلارضا یا سعید غنی کو سندھ کا وزیراعلیٰ کیلئے نامزد کرکے کراچی کی عوام کی ہمدردیاں سمیٹی جاسکتی ہیں۔ ایسا کرنے سے یقینا پارٹی اور اسکی قیادت کے حق میں دور رس نتائج برآمد ہونگے جس کی بدولت 2018 ء کے عام انتخابات میں ایک نئی تاریخ رقم کی جاسکتی ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube