Monday, January 17, 2022  | 13 Jamadilakhir, 1443

ہنگامہ ہے کیوں برپا

SAMAA | - Posted: Jul 24, 2016 | Last Updated: 5 years ago
SAMAA |
Posted: Jul 24, 2016 | Last Updated: 5 years ago

imran khan Turkey

تحریر: جہانزیب منہاس

عمران خان صاحب نے آٓزاد کشمیر کے چک سواری میں اپنے ایک جلسہ میں ترکی میں فوجی بغاوت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان میں مارشل لاء لگا تو پاکستانی عوام مٹھائیاں بانٹیں گے، جشن منائیں گے کیونکہ ترکی کے صدر نے قومی دولت کو بڑھایا، ملک کے قرضے ختم کر کے معشیت کو خودکفیل بنایا، عوام کو سہولیات مہیا کیں جبکہ ہمارے وزیراعظم نے اپنی ذاتی دولت کو بڑھایا ہے۔ پاکستانی نسل کی بجائے اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو سنورا ہے، ہمارے حکمران بادشاہوں کی طرح رہ رہے ہیں۔ عوام اسی عدم اعتماد کی وجہ سے ان کو ٹیکس نہیں دیتے اور ساتھ ہی بتا دیا کہ جناب ہماری جمہوریت کو فوجی نہیں جمہوری ڈکٹیٹروں سے خطر ہ ہے۔ مسلم لیگ نواز اور پی پی پی اب عوامی کے بجائے خاندانی پارٹیاں بن چکی ہیں جس پر  پرویز رشید اور دیگر حکومتی وزراء جہاں ناراض ہوئے ہی تھے وہاں ایم کیوایم کے رکن اور ٹی وی ہوسٹ ڈاکٹر عامر لیاقت نے تو آرٹیکل چھ کے تحت کاروائی کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔ آرٹیکل چھ کا اطلاق جب موجودہ حکومت جنرل پرویز مشرف پر نہیں کرسکی تو اور کس پر کریں گے۔ سیانے کہتے ہیں چادر دیکھ کر پاوں پھیلاو، پھر بعد میں جو اپنے ایکسرے دنیا کو دیکھاتے پھرتے ہیں پہلے ہی زبان قابو میں رکھیں۔

nawaz with erdogan

ہم مالشی قوم ہیں منافقت ہماری اندر رچ بس گئی ہے۔ عمران خان صاف گو انسان ہے اس کی پہچان ہی یہی ہے کہ وہ حق اور سچ کی بات کرتا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ سیاسی چالوں سے بالاتر ہو کر عمران خان نے ہمیشہ سچ بولا، خان صاحب کا یہ بیان بھی ہمیشہ کی طرح سچ پر مبنی ہے۔ اس میں کوئی دو رائے ہو نہیں سکتی۔ پاکستانی قوم بڑی اچھی طرح جانتی ہے کہ اگر آج حالات ایسے ہو جاتے ہیں کہ اس حکومت کو کسی غیر آئینی طریقے سے ہٹایا جائے تو عوام حکومت کا ساتھ نہیں دیں گے۔ ترکی میں اگر عوام باہر نکلے ہیں تو اس کی وجوہات کچھ اور ہیں۔ وہاں حکومت نے عوام کو ان کا حق دیا ہے۔ کرپشن پاکستان کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ صحت کےلئے گرین کارڈ جاری کیا ہے جس پر مفت علاج ہوتا ہے۔ جب اردوان نے حکومت سنبھالی تو ملک پر مجموعی طور پر 25 ارب ڈالر کا قرضہ تھا جبکہ 2009 میں ترکی نے آئی ایم ایف کو پیشکش کی کہ اگر آپ چاہیں تو ہم سے قرضہ لے سکتے ہیں۔ سن 2000 میں ایک ڈالر 37 لیرا کا تھا اور آج ڈالر تین لیرا کے برابر ہے۔ دنیا کی 17ویں بڑی معشیت بنا۔ ترکی کو ان کے حکمرانوں نے ترکی ائیر لائن کو دنیا کی صف اول کی ائیر لائنز میں لاکھڑا کیا۔ تعلیم، صحت، امن و استحکام گو ہر شعبہ زندگی کو بلند کیا تب جا کر عوام صدر کی ایک کال پر نکلے اور ٹینکوں کے نیچے لیٹ گئے۔ سیسہ پلائی دیوار بن گئے اور کسی بھی غاصب کو اپنے حق پر ڈاکہ ڈالنے سے روک لیا۔ ہمارے پاس ایسا کیا جس کے لئے عوام نکلیں گے۔

PIA2

پی آئی خسارہ، ریلوے خسارہ، اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ، چوری، ڈکیتی، قتل و غارت گری۔ سالانہ 4325 ارب روپے کی کرپشن۔ روزانہ کی تقریباً 12ارب روپے کی کرپشن۔ پاناما کی آف شور کمپنیاں، گرتی ہوئی معشیت، دنیا کے ہر ائیر پورٹ پر پولیو کے قطرے، دن بدن بڑھتے ہوئے قرضوں کا حجم، کس کے لئے عوام نکلے گی؟ یہ سارے وہ عذاب ہیں جو عوام اس جمہوری حکومت میں سہہ رہے ہیں۔ تو ظاہر ہے جب ان سے جان چھوٹے گی تو عوام نکلیں گے ضرور مگر مٹھائیاں تقسیم کرنے کے لئے ہی نکلیں گے۔ عمران خان صاحب کے بیان میں ایسی کوئی بات نہیں جس پر اتنا ہنگامہ کھڑا کیا جاسکے۔ عوامی لیڈر وہی ہوتا ہے جو عوام کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ عوام تو کب سے یہ بات کر رہے ہیں مگر کبھی کسی نے نوٹس نہیں لیا۔ شکریہ عمران خان آپ ہماری آواز بنے۔ ہمارے جذبات کی ترجمانی کی اور ہمشہ کی طرح اس بار بھی سچ کا ساتھ دیا منافقت نہیں کی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube