Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

چمگادڑیں فالتو نہیں

SAMAA | - Posted: Jul 22, 2016 | Last Updated: 6 years ago
SAMAA |
Posted: Jul 22, 2016 | Last Updated: 6 years ago

1

بچپن میں اردو کی کتاب میں “فالتو کون؟” نامی کہانی کافی لوگوں نے پڑھی ہوگی جس میں یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ کائنات میں موجود تمام مخلوقات کا کوئی نہ کوئی فائدہ ضرور ہے، اللہ تعالی نے کوئی بھی شے بلامقصد نہیں بنائی، اپنے ارد گرد غور کریں تو بہت سے ایسے جاندار ہیں جن کی موجودگی بظاہر بے مقصد دکھائی دیتی ہے، جیسے کہ چمگادڑ، درختوں یا غاروں کے اندر الٹا لٹک کر سارا دن گزارنے والا یہ جانور بیکار دکھائی دیتا ہے لیکن ساری رات خوراک کی تلاش میں اڑنے والے چمگادڑ بہت کام کی چیز ہیں، یہ وہ واحد ممالیہ جانور ہے جو اُڑ سکتا ہے اور عام پرندوں کے برعکس چمگادڑ چل نہیں سکتے۔

1a

اگر بات کی جائے چمگادڑ کے فائدے کی تو اس جانور کو ماحول دوست اور کسان دوست مانا جاتا ہے، دنیا بھر میں چمگادڑوں کی 1300 کے قریب اقسام ہیں جن میں سے اکثریت کی خوراک کیڑے مکوڑے، پتنگے اور تازہ پھل ہیں۔، چمگادڑ فصلوں کو تباہ کرنیوالے کیڑے مکوڑے کھا کے کسانوں سے دوستی نبھاتے ہیں تو پودوں کی پولی نیشن میں تعاون کرکے ماحول دوستی کا ثبوت دیتے ہیں، چمگادڑیں غذائی زنجیر میں تعاون برقرار رکھنے کیلئے بھی اہم ہیں۔

قابل افسوس امر یہ ہے کہ شہری علاقوں میں چمگادڑوں کی آبادی دن بدن کم ہوتی جارہی ہے، جنگلات کا کٹاؤ، شہروں میں درختوں کی جگہ لیتی فلک بوس عمارتیں، رات بھر دمکتی چکا چوند روشنیاں، فصلوں کو کیڑے مکوڑوں سے بچانے کیلئے کیڑے مار ادویات کے استعمال اور پھل دار درختوں کی کمی نے چمگادڑوں کو ناراض کر دیا ہے، پُرسکون مسکن کی تلاش میں چمگادڑ پاکستان کے بڑے شہروں سے ہجرت پر مجبور ہوگئی ہیں۔

1b

ماہرین ماحولیات کے مطابق چمگادڑوں کی تعداد میں کمی سے قدرتی ایکو سسٹم توازن کھو دیگا، مچھر، مکھیوں اور کیڑے مکوڑوں کی تعداد میں اضافے سے انسان بیماریوں میں مبتلا ہوگا اور فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں کی تعداد میں اضافے سے غذائی قلت بھی ہوسکتی ہے۔

محکمہ وائلڈ لائف افسران کے مطابق چمگادڑیں پرندوں کی نسبت پولی نیشن میں زیادہ متحرک ہوتی ہیں، لہٰذا ان کی تعداد میں کمی سے پودوں، پھولوں اور پھلوں کی پیداوار بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ چمگادڑیں 700 سے زائد اقسام کے پودوں کی پولی نیشن کرتی ہیں، جن میں کیلے، آم، آڑو، اور انجیر کے پودے شامل ہیں۔

1c

پھل کھانے والی چمگادڑیں گودے کیساتھ بیج بھی کھاتی ہیں اور پھر فضلے کے ذریعے پھلوں کے بیج دوسری جگہوں پر پہنچا کر پھلدار درخت اگانے میں بھی تعاون کرتی ہیں۔

کنبوں کی صورت میں رہنے والی ان چمگادڑوں کا ایک کنبہ سینکڑوں سے ہزاروں چمگادڑوں پر مشتمل ہوتا ہے، لاہور میں چمگادڑیں کم ہوتی ہوتی اب صرف جناح باغ اور گورنر ہاؤس کے چند گھنے درختوں تک محدود ہوگئی ہیں۔

1d

چمگادڑوں کی کچھ قسمیں مینڈک، چھپکلی اور مچھلیاں بھی کھاتی ہیں اور چند بڑے سائز کی چمگادڑیں دوسرے جانداروں کا خون بھی پیتی ہیں، جنہیں ویمپائر چمگادڑ کہا جاتا ہے، رات کے دوران آرام کرتی گائیں، بھینسیں اور دوسرے جانور ان کا زیادہ تر شکار بنتے ہیں، عام طور پر ویمپائر چمگادڑ 30 منٹ تک شکار کا خون چوستی ہے لیکن شکار کا سارا خون ختم نہیں کرتی، ویمپائر چمگادڑیں بچپن میں اپنی ماں کا دودھ پیتی ہیں بڑے ہوتے ہی یہ خونخوار بن جاتی ہیں لیکن خونخوار چمگادڑیں صرف میکسیکو، وسطی اور جنوبی امریکا میں ہی پائی جاتی ہیں۔

چمگادڑوں کی اوسط عمر 10 سے 20 سال بتائی جاتی ہے، ماحول کو توازن میں رکھنے کیلئے ہمیں کیڑے اور پھل کھانیوالی چمگادڑوں کو ویرانوں کی بجائے آبادی اور فصلوں کے قریب واپس لانا ہوگا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube